امریکہ کا پراسرار معمہ حل کرنے پر 6 ارب روپے کا خزانہ پائیں

ویب ڈیسک  جمعرات 14 جون 2018
تھامس بیلے نے تین معموں میں زمین میں دفن خزانے کا پتا دیا تھا۔ فوٹو: فائل

تھامس بیلے نے تین معموں میں زمین میں دفن خزانے کا پتا دیا تھا۔ فوٹو: فائل

ورجینیا: گزشتہ دو صدیوں سےکمپیوٹر ماہرین، خزانہ تلاش کرنے والے اور یہاں تک کہ امریکی افواج کے افسران بھی تین معموں کو حل کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں۔  

یہ خزانہ تھامس جے بیلے نامی ایک شخص کی ملکیت تھا جس نے اسے ورجینیا میں چھپانے کے بعد تین معموں میں اس کی نشاندہی کی ہے۔ یہ خزانہ ایک بڑے صندوق یا صندوقوں میں بند ہے جن میں 1400 پونڈ سونا 3812 پونڈ چاندی اور دیگر جواہرات موجود ہیں۔ یہ صندوق زمین سے چھ فٹ نیچے دبائے گئے ہیں۔ ایک اور صندوق میں 1907 پونڈ سونا 1280 پونڈ چاندی اور ہیرے بھی موجود ہیں۔

سارے خزانہ آہنی برتنوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر لوہے کے ڈھکن لگائے گئے ہیں۔  گزشتہ سو برسوں سے اس خزانے کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ تھامس نے خزانہ زمین میں چھپا کر اس کا پتہ ایک معمے (کرپٹوگرام) میں پوشیدہ کیا ہے۔

کہانی کے مطابق تھامس جے بیلے ایک مہم جو اور شکاری تھا۔ اسے نیومیکسیکو اور کولاراڈو سرحد کے پاس سونے اور چاندی کے بہت بڑے ذخائر ملے اور وہ انہیں اپنے گھر ورجینیا لے آیا۔ لیکن کچھ روز بعد تھامس نے وہ خزانہ زمین میں دفن کردیا ۔ پھر اس نے تین خفیہ کوڈ تیار کیے جنہیں حل کرکے اس خزانے تک پہنچا جاسکتا تھا ۔ بہت جلد ایک معمہ حل کرلیا گیا جبکہ دو معمے آج بھی حل طلب ہیں۔

ان معموں کو بیلز کوڈز کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں انگریزی حروفِ تہجی کے درمیان ایک کلیدی جملہ یا لفظ پوشیدہ ہے اور اسے جان کر ہی خزانے کا اتا پتا معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس جملے کو تھامس نے کی کا نام دیا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کے مشہور کرپٹوگرافرز اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم ایک کوڈ کا راز معلوم کرلیا گیا تھا لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کے بعد وہ خزانہ نکالا گیا یا نہیں۔

تاہم خزانے کی لالچ میں لوگوں نے روایتی دھاتی کھوجیوں (میٹل ڈٹیکٹرز) گائیگر کاؤنٹر اور مقنا پیما (میگنیٹومیٹرز) سے بھی مدد لی ہے۔ بعض نے روحانی ذرائع اور جادو کا بھی سہارا لیا لیکن خزانہ ہاتھ نہ آیا۔ ایک شخص نے قبرستان میں گڑھے کھودے اور لاشوں کی بے حرمتی بھی ہوئی لیکن خزانہ نہیں ملا اور الٹا وہ گرفتار ہوکر جیل چلا گیا۔

پھر 1980 کے عشرے میں ایک شخص اسٹین زینووفسکی نے 70 ہزار ڈالر خرچ کرکے سات برس تک ڈائنامائٹ اور بلڈوزروں سے زمین کھودی لیکن آخر میں اس کی ساری رقم ختم ہوگئی اور وہ دیوالیہ ہوگیا۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ تھامس کے کوڈز کو سمجھنے سے ہی اس خزانے تک پہنچا جاسکتا ہے جس کی مالیت اربوں روپے ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔