افغانستان میں دیرپا امن کیسے؟

ایڈیٹوریل  جمعرات 14 جون 2018
صدر مملکت کے اظہار خیال میں دہشت گردی کا تذکرہ درحقیقت افغانستان کا استعارہ ہے۔ فوٹو:فائل

صدر مملکت کے اظہار خیال میں دہشت گردی کا تذکرہ درحقیقت افغانستان کا استعارہ ہے۔ فوٹو:فائل

یہ حقیقت ہے کہ پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے، خطے میں استحکام اور دو پڑوسی ملکوں کو دہشت گردی، بے اعتمادی کے خاتمے اور باہمی یکجہتی اور امن کے لیے مشترکہ کوششوں کو نتیجہ خیز بنانا ناگزیر ہے کیونکہ اس طریقے سے ہی نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ جنوبی اور وسط ایشیا میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے چنانچہ اس اہم مقصد کے حصول میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اورافغانستان میں موجود اتحادی فوج کے کمانڈر اور امریکی جنرل جان نکلسن سے اہم ملاقات کی ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کابل کا ایک روزہ دورہ کیا، اس دورے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ون آن ون ملاقات کی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

افغانستان بلاشبہ اپنی تاریخ کے موجودہ دورانیے کی سب سے اعصاب شکن صورتحال سے دوچار ہے، جس میں افغان طالبان کے مسلسل خود کش حملوں، بم دھماکوں، داخلی بدامنی اور نیٹو فورسز کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں امن آج بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، جس میں اصل کردار خود افغان حکومت کا ہے، جو خطے کی خوفناک صورتحال کے ادراک کے بجائے امریکا بھارت کے گٹھ جوڑ سے الگ ہونے کو تیار نہیں، حالانکہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

افغان طالبان کی شورش کے تسلسل کے بعد اب داعش نے بھی وہاں اپنے خونیں پنجے گاڑ لیے ہیں، داعش بھی افغانستان میں اپنی کارروائیاں کررہی ہے اور اس کا دائرہ کار مسلسل فروغ پذیر ہے جو افغانستان میں جاری لڑائی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بھی ہے۔اس حقیقت کا عمل امریکا اور یورپ کی قیادت کو بھی ہے اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے کمانڈروں کو بھی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی قوت کا اندازہ بھی اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں صوبہ فریاب کے ضلعی گورنر عبدالرحمن پناہ اور دیگر 8 افراد کو قتل کردیا اور اس کے بعد ضلع کوہستان کے مرکز پر قبضہ کر لیا، طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے، اس کے ساتھ ساتھ صوبہ سرپل کے ضلع سید میں بھی لڑائی جاری ہے، دریں اثنا صوبہ غزنی میں خودکش حملے میں مزید 5 پولیس اہلکار جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے۔

ان کارروائیوں سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ افغانستان میں جنگجو گروپ پوری طرح فعال ہیں جب کہ افغانستان کی فورسز کی تربیت اور تکنیک میں کئی خامیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگ جیتنے کے قابل نہیں ہیں، ان کا زیادہ جانی نقصان ہورہا ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ مذاکرات ہے، اس کے لیے جوکوششیں ہوئیں وہ ناکام ہوئیں ہیں۔

افغان طالبان سے مذاکرات کی سرنگ کے پار ابھی تک روشنی کی کوئی کرن نہیں پھوٹی، کثیر جہتی امدادی پروگرام اور قطر بات چیت بھی بے نتیجہ رہی ہے، پاکستان نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن بوجہ وہ بھی کامیاب نہیں ہوا، مری میں ہونے والے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوگئے  جب کہ بنیادی المیہ افغانستان کی داخلی استقامت، سماجی و معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی بحالی کا ہے۔

افغانستان میں امن اور معیشت کی بحالی کے لیے جو بھی کوششیں ہوئیں ، وہ خانہ جنگی کے سبب ناکامی سے دوچار ہوگئیں جہاں تک افغان مسئلہ میں پاکستان کی کوششوں اور امن کے قیام کے کلیدی کردار کا تعلق ہے، دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کوششوں اور ثالثی و مصالحتی اور دیگر مساعی میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے لیکن افغان حکام نے کبھی پاکستان کے اخلاص کا کشادہ نظری اور وسیع الظرفی سے جواب نہیں دیا بلکہ بلیم گیم کا تواتر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ میں رکاوٹ بنا رہا،ڈیورنڈ لائن کا مسلہ ہو یا افغان مہاجرین کی واپسی ، افغان حکومت نے ہمیشہ منفی رویہ اختیار کیا اور مسلے کو حل کرنے لے بجائے اس الجھانے کی کوشش کی۔ اس تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ دورہ خوش آیند ہے اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاک افغان سرحد پر باڑ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ہے۔ افغان صدر نے دیرپا امن و استحکام کے لیے تعاون پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف نے افغان حکام کو رمضان اور عید کے موقع پر حالیہ امن اقدامات پر مبارک باد دی۔ بتایا جاتا ہے کہ داعش پر کڑی نگاہ رکھنے، منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی کے خاتمے پر بھی بات چیت ہوئی۔

آرمی چیف نے کہا کہ امن و استحکام کے لیے پاک افغان ایکشن دو طرفہ تعاون کا پیش خیمہ ہوگا۔ دریں اثنادفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے حالیہ اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ ادھر صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں تسلسل کے ساتھ کمی آئی، ہماری اس کامیابی کا راز قوم کا سیاسی عزم، بھرپور اتحاد اور فوجی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ ہے جو اقوام عالم کے لیے ایک مثال ہے، توقع ہے کہ آنے والی جمہوری حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے تندہی سے کام کرے گی۔

یہ بات انھوں نے منگل کو سفیروں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہی، صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پیچیدہ مسائل نے مختلف معاشروں اور اقوام کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کردیا، انھوں نے کہا کہ متشدد اور تعصبانہ قوتیں مذہبی، نسلی، اقتصادی برتری اور استبدادی خواہشات انسانیت کی بقا کے لیے بڑا خطرہ ہیں، بلاشبہ وطنِ عزیز دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔پاکستان کا جانی اور مالی نقصان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

صدر مملکت کے اظہار خیال میں دہشت گردی کا تذکرہ درحقیقت افغانستان کا استعارہ ہے، پاکستان میں نائن الیون کے بعد سے جو تباہی نازل ہوئی وہ افغانستان میں طالبان حکومت کی امریکا سے مبازرت کا نتیجہ تھی، امریکا کے ٹوئن ٹاور پر ہولناک حملہ کی سزا امریکی جنگی طاقت کے ذریعے پوری دنیا کو ملی، افغانستان پر حملہ ہوا، اسامہ کی تلاش میں افغانستان کا تورا بورا ہوگیا، پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، پاکستان کو دہشت گردی کے سیلاب نے شدید انسانی مصائب اور اندوہ ناک معاشی مسائل کے گرداب میں پھنسا دیا، پھر طالبانائزیشن نے سر اٹھایا جسے پاک فوج نے سختی سے کچل کر رکھ دیا۔اس لیے صائب انداز فکر یہی ہے کہ پاک افغان تعلقات بلا شرکت غیرے دو طرفہ بنیادوں پر مستحکم ہونا چاہئیں۔ یہی امن کا راستہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔