پارٹی منشور عدالت عالیہ میں جمع ہو

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 14 جون 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

جمہوریت کوئی نیا اور نو دریافت نظام سیاست نہیں بلکہ اس کی ابتدا سرمایہ دارانہ نظام کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی ہوئی تھی، سرمایہ دارانہ نظام مغربی ملکوں میں پلا بڑھا اور ان ہی ملکوں میں اس کی آبیاری ہوئی کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی ننگی لوٹ مار کے لیے ایک خوبصورت نقاب کی ضرورت تھی جو سرمایہ دارانہ نظام کی گندگیوں پر پردہ ڈال سکے۔ سو اس نظام کے سرپرستوں نے جمہوریت کے نام سے وہ گھونگھٹ تیار کیا جس نے سرمایہ دارانہ نظام کی بد صورتیوں کو بڑی کامیابی سے اپنے اندر چھپالیا لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سر پرستوں نے اس اقتصادی نا انصافیوں کے گند کو چھپانے میں کامیابی حاصل نہ کی جو اس نظام کے چہرے پر کوڑھ بن گیا۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سرمایہ دارانہ نظام طبقاتی استحصال کی کمر پر کھڑا ہوا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ یہ کمر طبقاتی استحصال کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے جھک گئی ہے جس کا احساس اس نظام کے متعارف کنندگان کو بھی ہے لیکن استحصال اس نظام کی فطرت کا حصہ بن چکا ہے لہٰذا اس کا علاج اس کے متعارف کنندگان کے بس میں بھی نہیں ۔ آج دنیا 98/2 میں جس طرح تقسیم ہوکر رہ گئی ہے اس کا علاج اس کے ماہرین کے پاس بھی نہیں۔

طبقاتی استحصال کا ادراک اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام میں تعلیم اور سیاسی شعور عام نہ ہو، مغربی ملکوں میں چونکہ تعلیم عام ہوئی اور اس کے ساتھ سیاسی شعور بھی عوام میں پیدا ہوا سو ان ملکوں میں سرمایہ دارانہ لوٹ مار کا وہ حال نہیں ہے جو پسماندہ ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنا سیاست دانوں کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن جن ملکوں میں سیاست پر اشرافیہ کا قبضہ ہوا ان ملکوں میں سیاسی وڈیرے عوام کو ہاری اور کسان بناکر رکھ دیتے ہیں پاکستان کا شمار بھی ان ہی ملکوں میں ہوتا ہے جہاں عوام کو اہل سیاست نے ہاری کسان بناکر رکھا ہے عوام کی اپنے حقوق سے یہ بے خبری اس ملک کے حکمرانوں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی سیاسی وڈیرہ شاہی کے لیے عوام کا ہاری اور کسان بنا رہنا ضروری ہے اس ناپاک مقصد کے حصول کے لیے دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کو وڈیروں کے مویشی خانوں میں بدل کر رکھا گیا ہے اور کرائے کے معلمین سے عوام کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ حکمران خدا کا نائب ہوتا ہے جس کی اطاعت عوام کا فرض ہے یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک ننگی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ دیہی زندگی میں کیا جاسکتا ہے۔

ہمارا معاشرہ ابھی تک جاگیردارانہ اخلاقیات کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہے جس میں شخصیت اور خاندان پرستی عوام کی عادت ثانیہ بنی ہوئی ہے ہمارے شہری علاقوں کے نسبتاً با شعور شہریوں کو شخصیت پرستی اور خاندان پرستی کی زنجیروں میں اس طرح جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاسی کارکن جن کے بال پارٹی کی خدمات میں سفید ہوگئے ہیں جمہوری شاہوں ، ملکائوں، شہزادوں اور شہزادیوں کے سامنے اس طرح خم رہتے ہیں کہ ان پر شاہی حکومتوں کی رعایا کا گمان ہوتا ہے ایسے مایوس کن ماحول میں وہ جمہوریت کہاں دکھائی دے گی جس کے بارے میں اس جمہوریت کے سرپرستوں نے کہا ہے کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہوتا ہے۔

آج کل ووٹ کی عزت اور حرمت کی باتیں بڑے زور و شور سے ہورہی ہیں ، بے چارے عوام اس فراڈ سے اس لیے واقف نہیں کہ انھیں صرف مخصوص نشانوں پر مہر لگاکر ڈبے بھرنے کو جمہوریت بتایا گیا ہے ۔ ووٹ بلاشبہ بڑا محترم ہوتا ہے کہ اس کی طاقت ہی سے سیاست دان حکمران بنتا ہے لیکن ووٹ کی حرمت کا پرچار کرنے والے حکمران کیا یہ بتانے کی زحمت کریںگے کہ ووٹر کی حرمت اور  ووٹ کی عزت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس یہ نیم فاقہ کش ووٹر کی ہمارے معاشرے میں کیا عزت ہے کیا احترام ہے؟

70 سال سے عوام کی زندگی بدلنے کی پرفریب باتیں کرنے والوں نے اس بار ایک اور نعرہ ایجاد کیا ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔بلاشبہ ووٹ کی طاقت سیاست دانوں کو حکمران بنا تو دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے بعد کوئی سیاست دان، کوئی حکمران ووٹر کا حال جاننے کی زحمت کرتا ہے؟ ووٹر کے ہاتھ سے ووٹ جب بیلٹ بکس میں چلا جاتا ہے تو اشرافیائی سیاست دان حکمران بن کر قابل احترام بن جاتا ہے۔

اس کے لیے وزارت عظمیٰ کے دروازے کھل جاتے ہیں پچاسوں قیمتی گاڑیوں کی جھرمٹ میں عوام کے ووٹوں سے بنا وزیراعظم پلٹ کر نہیں دیکھتا کہ بے چارے اس ووٹر کا کیا حال ہے جس کے ووٹ کی بدولت آج وہ گردن اکڑاکر گارڈ آف آنر کا معائنہ کررہاہے اور وزیراعظم ہائوس کا مکین بنا ہوا ہے، غریب کا ووٹ لٹیروں کو عزت تو دلاتا ہے لیکن غریب اور سادہ لوح ووٹر ذلیل و خوار ہی رہتا ہے کیا اسی فریب کا نام ووٹ کو عزت دو رکھا گیا ہے؟

70 سالوں سے رنگ بدل بدل کر حلیے بدل بدل کر نعرے بدل بدل کر وہی وڈیرہ شاہی سیاست عوام کے سروں پر مسلط ہے ۔ غریب ووٹر آج بھی دو وقت کی روٹی کے لیے دن بھر محنت کرتا ہے بجلی پانی اور گیس کے لیے محتاج ہے اور وہ حکمران جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی عوام کو آج بھی اندھیروں میں دیکھ کر ذرا سی شرمندگی محسوس نہیں کرتے، سیاسی مفادات کی خاطر عوام کو قوت کا سرچشمہ کہنے والے اپنے سیاسی اور طبقاتی مفادات کے لیے تو یہ پرفریب نعرہ لگاتے ہیں لیکن اپنے سیاسی مفادات کی خاطر غریب اور سادہ لوح عوام کو رنگ، نسل زبان قومیت کے حوالے سے تقسیم کرکے ان کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کردیتے ہیں۔

25 جولائی کو ایک بار پھر عوام کا نفسیاتی طبقاتی اور اخلاقی استحصال کیا جائے گا، دلکش نعرے، حسین وعدے اور جذباتی تقریروں کے ذریعے عوام کے ووٹ حاصل کر کے انھیں دودھ کی مکھی کی طرح باہر پھینک دیا جائے گا اور سادہ لوح عوام پانچ سال بعد ایک بار پھر اسی فریب کا شکار ہوجائیںگے جس کا وہ 70 سال سے شکار ہوتے آرہے ہیں اس جمہوریت کے کھیل میں یہی ہوتا رہے گا۔

ہمارے ملک میں ہزاروں دانشور، مفکر، اہل علم ہیں لیکن وہ اس جمہوری فراڈ سے عوام کو بچانے سے قاصر ہیں ایسا کیوں ہے؟ اس کا ایک حل یہ ہے کہ ہر جماعت انتخابات سے پہلے اپنا منشور اور اس پر عمل در آمد کا شیڈول عدالت عالیہ میں جمع کرائے جو حکمران جماعت اپنے منشور اور اس پر عمل در آمد میں ناکام رہے اس سے اقتدار چھین کر دوبارہ انتخابات کرائے جائیں ۔ یہ سلسلہ تواتر سے جاری رہے تو فراڈ سیاست دانوں سے عوام بتدریج نجات حاصل کرسکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔