نظام عدل ۔۔۔ چند گزارشات

مزمل سہروردی  جمعرات 14 جون 2018
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

میں ذاتی طور پر خواجہ حارث کے موقف سے متفق نہیں ہوں کہ انھیں چھٹی والے دن کام کرنے کا کہاجا رہا ہے لہذا وہ کیس  سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ وکیل کا کام ہے کہ اپنے موکل کا دفاع کرے اور اس کام کی وہ باقاعدہ فیس لیتا ہے۔ اگر وہ چھٹی والے دن کام کرنے کی الگ فیس لینا چاہتے ہیں تو یہ ان کے اور ان کے موکل کے درمیان کا معاملہ ہے۔

تاہم ایک سوال میرے ذہن میں ضرور آرہا ہے کہ صرف نواز شریف کا کیس ہی چھٹی والے دن کیوں سنا جائے گا، وہ تو اب وزیر اعظم نہیں ہیں۔ اب تو وہ ایک عام شہری ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ عام شہری والا سلوک ہونا چاہیے۔ کیا ان کا کیس بھی ویسے ہی نہیں چلنا چاہیے جیسے باقی سابق وزراء ا عظم کے چل رہے ہیں۔ کیوں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے کیسوں میں وہ جلدی نہیں دکھائی جا رہی جونواز شریف کے کیس میں دکھائی جا رہی ہے وہاں چھ چھ سال میں فرد جرم بھی عائد نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے کیا ہی بہتر ہوتا کہ سارے سابق وزر اء اعظم کے مقدمات بھی  چھٹی والے دن سننے جائیں۔

لیکن اس کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ نظام عدل میں  اصلاحات بھی ہونی چاہیے۔ نظام عدل کو اپنے اندر ایک ایمرجنسی لگانی چاہیے جس میں سب عدالتوں کو چھٹی والے دن کام کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ملک میں زیر التوا مقدمات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر چھٹی والے دن بھی کام کیا جائے تب بھی اس بوجھ کو کم کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔

میرے ایک دوست نے میری توجہ ایک اور جانب دلوائی ہے، اس کا موقف ہے کہ اگر عدالتیں چھٹی والے دن کام نہیں بھی کر سکتیں تو کم از کم عدالتوں میں کئی ہفتوں پر مشتمل گرمیوں کی چھٹیاں ہی ختم کر دی جائیں۔ یہ گرمیوں کی چھٹیوں کا رواج تب سے ہے جب ہندوستان پر انگریز کا قبضہ تھا اور اعلیٰ عدلیہ کے جج برطانیہ سے آتے تھے۔انھیں چھٹیوں میں واپس برطانیہ جانا ہوتا تھا۔ویسے بھی وہ ہندوستان کی گرمی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے گرمیوں میں واپس برطانیہ چلے جاتے تھے۔ یوں تقریبا ڈیڑھ ماہ کے لیے نظام عدل بند ہو جاتا تھا ۔

لیکن اب تو ہم آزادہو چکے ہیں۔ ایسے میں اب اتنی لمبی گرمی کی چھٹیاں نا قابل فہم ہیں۔کسی اور سرکاری محکمہ میں اس طرح گرمیوں کی لمبی چھٹیوں کی کوئی روائت نہیں ہے۔ صرف تعلیمی اداروں میں بچوں کو گرمیوں کی چھٹیاں دی جاتی ہیں۔اس کے ساتھ انھیں گرمیوں کی چھٹیوں کا لمبا کام بھی دے دیا جاتا ہے تا کہ چھٹیوں میں فارغ نہ رہیں۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدالتیں مکمل طور پر چھٹیوں میں بند نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ چھٹیوں میں کچھ جج صاحبان کام کرتے ہیں کچھ چھٹیوں پر جاتے ہیں۔ اہم نوعیت کے مقدمات چھٹیوں میں سنے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی زیر التوا مقدمات ان چھٹیوں میں نہیں سنے جاتے۔ صرف ایسے مقدمات سنے جاتے ہیں جن میں کوئی ہنگامی صورتحال ہو۔

متعدد مقدمات جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان کو گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں سنا جاتا۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا ہے کہ اب بہت سے مقدمات میں  جون کے بعد ستمبر کی تاریخیں دی جارہی ہیں۔کیونکہ  عید کی چھٹیاں ہیں، اس کے بعد جولائی کے وسط سے  گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی۔ جس کے بعد اب ستمبر میں ہی کام ہو گا۔

اس طرح مقدمات میں التوا بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے کیا ہی اچھا ہو کہ عدالتوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے ۔اس کے ساتھ سردیوں کی چھٹیوں کو بھی ختم کر دیا جائے۔ گو سردیوں کی چھٹیاں گرمیوں کی نسبت بہت کم ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر موجود ہیں۔یوں سخت موسم کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہم ان چھٹیوں کو ختم کر کے عدالتی نظام کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

یقین کیجیے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ  ایک تاریخی اقدام ہو گا۔پاکستان کی عدالتی اور عام تاریخ میں اس اقدام کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں میں موجود لاکھوں کروڑوں سائل دعائیں دیں گے۔ دنیا میں پاکستان کی عزت بڑھے گی۔ یہ کام کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ بس ایک حکم چاہیے۔

ایک جوڈیشل کانفرنس جس میں تمام ججز موجود ہوں، اس میں متفقہ طور پر بھی یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان چھٹیوں کو مستقبل طور پر ختم کرنے میں کوئی قباحت ہے تو کم از زیر التوا مقدمات کو ختم کرنے کے لیے دو سال کے لیے تو یہ چھٹیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ اس سے پاکستان کی پوری دنیا میں نیک نامی ہو گی۔ اور دنیا سمجھے گی کہ پاکستان میں ایک متحرک نظام عدل موجود ہے۔

جہاں تک ہفتہ اور اتوار کو کام کرنے کی بات ہے اس میں بھی صرف نواز شریف کے مقدمہ میں حکم دینا کافی نہیں۔ماتحت عدالتیں تو ہفتہ والے دن بھی کام کرتی ہیں۔ ہفتہ کو مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس خود تو اب ہفتہ اتوار کو کیا رات گئے تک کام کر رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملک بھر کی تمام عدالتوں کو ہفتہ کو مکمل کام کرنے کے احکامات دے دئے جائیں۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان ہفتہ کوکام کرتے ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ہفتہ کو فیصلے لکھائے جاتے ہیں اور ہفتہ بھر کا باقی کام نبٹایا جاتا ہے۔ یقینا بروقت فیصلہ لکھنا اور انھیں جاری کرنا بھی ایک کام ہے۔ ویسے بھی لمبے عرصہ تک محفوظ فیصلے عدلیہ کے لیے کوئی نیک نامی کا باعث نہیں ہیں۔ اب شیخ رشید کے فیصلے کو ہی لے لیں اگر یہ فیصلہ اتنے لمبے عرصے تک محفوظ نہ رکھا جاتا تو بہتر تھا۔ کم از کم مخالفین کو سوال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ لیکن پھر بھی اگر ہفتہ کو اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات میں سماعت بھی شروع کر دی جائے تو بہتر ہوگا۔ عوام کے لیے آسانی پیدا ہوگی۔

چیف جسٹس پاکستان بہت سے اچھے کام کر رہے ہیں۔ وہ اسپتالوں میں جا رہے ہیں۔ ان کے اسپتالوں کے دورے سے کم از کم بڑے شہروں کے اسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ لوگوں کو ریلیف ملا ہے۔ عام آدمی خوش ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی لوٹ مار بھی ختم ہوئی ہے۔ جہاں جہاں چیف جسٹس نے سو موٹو لیا ہے بہتری ہوئی ہے لیکن۔اب انھیں ماتحت عدلیہ میں بھی سرپرائز وزٹ کرنے چاہیے۔جس طرح انھوں نے مریضوں کی فریاد سنی ہے اسی طرح سائلین کی فریاد بھی سننا چاہیے۔ کم از جو مقدمات پانچ سال یا اس سے زائد عرصہ سے ایک ہی عدالت میں زیر التوا ہیں ان کے فوری فیصلے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ اسپتالوں اور ماتحت عدلیہ کی حالت زار میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔