تکمیل پاکستان کا سفر

محمد ہارون  جمعرات 14 جون 2018

اگلے روز رمضان المبارک کی ستائیسویں تھی۔حسن اتفاق یہ بھی تھا کہ وطن عزیز کے اکثر علاقوں میں اس روز، روزہ بھی سات بجکر 27 منٹ پر افطار کیا گیا۔یہ وہ مبارک روز بھی ہے جب 1947ء میں وطن عزیز پاکستان،معرض وجود میں آیا تھا۔یہ بھی کیا خوبصورت اتفاق ہے کہ آزادی حا صل ہونے کے اکہتر برس بعد،قبائلی علاقہ جات بھی ملک کے دیگر بندوبستی اضلاع کی طرح،خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے۔

یقینا اس وقت کی سیاسی قیادت کی بھی یہ دلی تمنا ہو گی کہ قبائلی علاقہ جات کو صوبے میں ضم کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ بھی رمضان المبارک کی ستائیسویں کو ہی تکمیل پا تا لیکن چونکہ حالیہ جمہوری دور کی مدت اقتدار 31 مئی مقرر تھی لہذا وہ اس آئینی مجبوری کی بنا پر ایسا نہیں کر سکے ہوں گے۔ بہر طور اب قبائلی علاقہ جات کے عوام وطن عزیز کے دیگر حصوں کے عوام کے ہمقدم ہو نے پر کمر بستہ ہو چکے ہیں۔

طویل آزمائش کے بعد امن و امان اور استحکام کی فضا بھی قائم ہے؛تعمیر و ترقی بھی جاری ہے اور جمہوری نظام کے استحکام کی جانب پیشرفت کے لیے بھی لا ئحہ عمل وضع کیا جا چکا ہے۔ اندرون ملک ان حقائق کا ادراک سبھی کو ہے اور بیرونی دنیا بھی یقینا ان حقائق سے با خبر ہے۔ حال ہی میں پاک فوج کے شعبہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی جا نب سے غیر ملکی صحافیوں کے ایک وفد کے شمالی وزیرستان کے دورے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اس اکیس رکنی وفد میں بھارت کے ایک بڑے مڈیا گروپ کا نمایندہ بھی شامل تھا۔ سوشنت سنگھ نامی اس صحافی کی Once ‘terror central’, Pak Army showcases its counter-terror ‘success’ with fancy infra amidst rubble in North Waziristan  کے زیر عنوان رپورٹ نے یقینا دنیا کے لیے چونکا دینے والنے انکشافات کیے ہیں۔ بہر طور متذکرہ صحافی اپنے دل کی روائیتی خلش کو پس پردہ رکھنے کی تمام تر کوشش کے باوجود بعض حقائق شایع کرنے پر مجبور دکھائی دیا۔ایساشاید وہ پیشہ صحافت کے اصولی تقا ضوں کو نظر انداز نہ کر سکنے کی بنا پر کرتا دکھا ئی دیا۔رپورٹ کا عنوان بذات خود اس کے دلی عناد و بغض کا گواہ ہے۔

لیکن صورتحال کو رپورٹ کر تے وقت وہ معروضی حقائق کو منظر عام پر لا ہی گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی گئے بھارتی موبائل ٹیلیفون نیٹ ورک کے سگنل تو ہر جگہ دستیاب تھے ہی لیکن پاک افغان سرحد سے محض سترہ کلومیٹر کے فا صلے پر افغان فون نیٹ ورک کوبھی رسائی حا صل ہے۔ لیکن خوشنت سنگھ یہ بھی تسلیم کر گیا کہ محض چند برس قبل تک جہاں محض امریکی ڈرونز کو ہی رسائی حا صل تھی اب امن و استحکام قائم ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا ضرب عضب کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔

خشنت سنگھ میراں شاہ میں نئے اورجدید یونس خان اسٹیڈیم، اسکول، فلاحی اداروں، پارکوں، اسپتال اور نو تعمیر شدہ مارکیٹوں سے بھی متاثر دکھا ئی دیا۔انھوں نے خا ص طور پر میرانشاہ میںنو تعمیر کردہ 1340 دکانات کا ذکر کیا جو حال ہی میں متعلقہ تاجروں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

لیکن انھوں نے اپنی دلی کدورت یہ کہہ کر عیاں کر دی کہ وہ جہاں کہیں بھی گئے انھیں عوام کا رش؛سل بسل اور کھیل کو د کا سماں دکھائی نہیںدیا۔ تاہم اگر وہ فوری طور معروضی حقائق کا ادراک کرنے میں ناکام رہے یا ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن جلد یا بدیر کسی اور ذریعے سے نہ سہی اس بات کا جواب بھی آئندہ عام انتخابات کے دوران ضرور مل ہی جا ئے گا۔ ہاں البتہ پاکستان کے عوام خصوصا قبائل حقائق سے بخوبی اگاہ ہیں۔

خشنت سنگھ نے 2611 کلو میٹر طویل پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس میں سے 350 کلو میٹر طویل حصہ پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے جس میں محض وزیرستان سے متصل 180 کلو میٹر طویل سرحد کو محفوظ بنانا بھی شامل ہے جب کہ دیگر حصہ 2019ء تک مکمل کر لیا جا ئے گا۔رپورٹ کا ایک اہم ترین حصہ غلام خان کا پاک افغان تجارتی روٹ کا ذکر بھی ہے۔

خشنت سنگھ کا کہنا ہے کہ اس تجارتی پوائنٹ پر ٹیکنالوجی کا استعمال کسی عجوبے کی طرح بے حد دلچسپی کا باعث ہے جسے میرانشاہ میں قائم فوجی مرکز سے براہ راست بھی ما نیٹر کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے اختتام پر وہ یہ بات بھی کہہ گیا کہ افغانستان۔ پاکستان سرحد پر بھارتی موبائل ٹیلیفون نیٹ ورکس کی رسائی بھی بھارتی کنکشن کااظہارہے۔اس صحافی کی سوچ جو بھی ہو لیکن بلا شبہ حقائق جب مخالف کی زبان سے سامنے آئیں تو اعتماد کی پختگی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔اس سے ان خدشات کی بھی تصدیق ہو تی ہے جو وطن عزیز کی سرحدوں سے متصل دشمن کی سازشوں کے حوالے سے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

معروضی حقائق کے تناظر میںیہ بھی احساس بھی پیدا ہوتاہے کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارت کو باڑ لگانے کی جو زحمت کرنی پڑی اس کا بدلہ پاکستان کوپاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے پر مجبور کر کے لے لیا گیا ہو۔بہر طور دو برادر ممالک کے ما بین عمدہ تعلقات در حقیقت شفافیت ہی کی بنیاد پر مستحکم ہو ا کرتے ہیں۔

لہٰذا اس امر میں شک نہیں کہ یہ باڑ خود برادر ملک افغانستان کے ساتھ پائیدار خطوط پر تعلقات استوار کرنے کا وسیلہ بھی ثابت ہو گی۔ امن و استحکام کی موجودہ فضا کی صورت بہر طور یہ حقیقت آشکارہ ہو ہی چکی ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ پاکستان اور افغانستان کے ما بین آزادانہ خطوط پر تجارت ہو، لیکن اعداد و شمار کے مکمل ریکارڈ اور شفافیت کے ساتھ۔ رسل و رسائل اور کلیرنگ کا عمل اسقدر عمدہ ہو کہ دشمن بھی غلام خان تجارتی پوائنٹ پر ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرح حقائق کو تسلیم کر نے پر مجبور ہو جا ئے۔قبائلی علاقہ جات میں نظام کی تبدیلی عملی طور پر ممکن ہو چکی ہے۔

قانون کی عملداری کا جو معیار آج قائم ہو گا وہ یقینا قبائلی عوام کی راہنمائی اورمستقبل کے لا ئحہ عمل کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگا۔ عوام میں کسی تبدیلی کو قبول کرنے کا جو جذبہ آج ہوسکتا ہے،شاید ہی مستقبل میں اس کی کو ئی مثال مل سکے۔ ان تمام تر حقائق کے با وجود حال ہی میں پشاور کے نزدیک چمکنی کے مقام پر ایک بس کی تلاشی کے دوران کسٹم اسکواڈ کے ایک اہلکار کے جا نبحق ہونے کی اطلاع یقینا لمحہ فکریہ بھی ہے اور افسوسناک حقیقت بھی ۔ اب جب کہ قبائلی علاقہ جات کے عوام یکساں قانون و قواعد کی عملداری کی صورت قومی دھارے کا حصہ بن ہی چکے ہیں تو انھیں بہتر مستقبل یقینی بنانے کے مواقع کا حامل اس نوع کی مشکلات سے پاک، پائیدار و باوقار ما حول بھی دستیاب ہونا چاہیے۔یہی در حقیقت ماہ مبارک کے دوران اس وطن عزیز کے معرض وجود میں آنے کا فطرتی اعتبار سے حقیقی پیغام بھی ہوسکتا ہے اور تکمیل پاکستان کا عمدہ سفر بھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔