بلیک بیری اور 3 خواتین

علی اختر رضوی  جمعرات 14 جون 2018

اردو صحافت کی تاریخ گواہ ہے کہ زرد صحافت کو کسی بھی دور میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا لیکن جب سے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا متعارف ہوا ہے اس نے اپنا روپ بدل کر زرد ٹی وی اینکر کی شکل اختیار کرلی ہے۔

اخبارات اور رسائل میں قومی، مذہبی اور سیاسی مسائل پر عموماً جہاندیدہ صحافیوں کے تبصرے اور مضامین شایع ہوتے تھے جن کا آج بھی تذکرہ تاریخی لحاظ سے کیا جاتا ہے لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک مختلف ٹی وی چینلز پر اینکرز کی شکل میں ایک چنڈال چوکڑی گلہ پھاڑ پھاڑ کر اپنے ناظرین کو محصور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہے، اس کے نتیجے میں ٹی وی ناظرین کی ایک بہت بڑی اکثریت مختلف نفسیاتی امراض کا شکار ہوچکی ہے البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ پرنٹ میڈیا کے مقابلے میں نو آموز ٹی وی اینکرز اپنی چرب زبانی اور زرد صحافت کے حربے کو استعمال کرتے ہوئے مالی طور پر فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جس انداز کی گفتگو اور زبان ٹی وی اپنے پرائم پروگرامز میں ٹیلی کاسٹ کررہا ہے اس کی پرنٹ میڈیا میں مثال ملنی مشکل ہے۔

ٹی وی اینکرز کے لیے لازم نہیں کہ وہ علمی، ثقافتی اور معاشرتی شعبوں میں دسترس رکھتا ہو۔ اگر ان کو ماضی کے بھانڈوں سے مشابہت دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کی تمام گفتگو سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالنے اور معاشرتی اور سماجی جرائم میں ملوث افراد کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں لفافہ سیاست اور صحافت کے شعبوں میں کام کرنیو الے افراد بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب ٹی وی اینکرز کی شکل میں واضح نظر آتے ہیں۔

لفافہ صحافت کی بدولت ملکی سیاسی جماعتیں بھی اس گندے کاروبار میں بری طرح ملوث نظر آتیعلی اختر رہیں خاص طور پر مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اس گندگی میں لتھڑی ہوئی ہیں۔ ان جماعتوں میں ترجمانوں کی شکل میں ایسے افراد نظر آ رہے ہیں جو چرب زبانی اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ لوٹا کریسی کے بھی ماہر ہیں۔ کل تک جو لوگ آمروں کے ترجمان تھے آج کل جمہوریت کی زبان بول رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ ایسے عناصر نے مراثیوں کو بھی مات دے دی ہے تو غلط نہ ہوگا اور اب تو اگر کسی سیاسی شخصیت کی نجی و سیاسی زندگی کا کوئی تاریک پہلو سامنے آجاتا ہے تو پھر ٹی وی اینکرز کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی مجوزہ کتاب کے حوالے سے ملک کے تقریبا ًتمام ٹی وی چینلز پر دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے جن کو سیاسی جماعتوں کے ترجمان جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے معاملے کو اور سنگین بنانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں حالانکہ ان نام نہاد ترجمانوں کا اس معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

جہاں تک ریحام خان کا تعلق ہے اسکو کتاب لکھنے یا نہ لکھنے کا فیصلہ خود کرنا ہے، اس کا کسی سیاسی جماعت سے کسی قسم کا لینا دینا نہیں ہے۔ ریحام خان اپنی زندگی کے واقعات اور سانحات بیان کرنے کا مکمل حق رکھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا جو دوسرا فریق یعنی عمران خان مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے حالانکہ اس کتاب میں ان کی ذات کو ہی موضوع بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے سیاستدانوں میں عمران خان واحد سیاسی رہنما ہیں جو سیاست میں داخل ہونے سے قبل پلے بوائے کی شہرت رکھتے تھے اور ان کے قریبی حلقے دبے دبے الفاظ میں آج بھی ان کی زندگی کے اس پہلو کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کا ماضی ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ ان واقعات کے نتائج کے اثرات کو کم سے کم کرنے کا فرض جن افراد کے سپرد کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کا ایمان چڑھتے سورج کی پوجا کرنا ہے۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری ایک زمانے میں پرویز مشرف کے بھی سیاسی ترجمان ہوا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنی سیاسی زندگی کا نصف حصہ ایک آمر کی کاسہ لیسی میں گزارا ہو وہ جب جمہوریت کی بات کرتا ہو تو وہ زبان اور اخلاق سب کو بھول جاتا ہے چنانچہ آج کل ریحام خان کے متعلق تحریک انصاف کے ترجمان اور ان کے حمایتی اینکرز، سنگر اور پلے بوائز جو کردار ادا کررہے ہیں وہ پاکستان کی ثقافت، سماجی روایات اور اقدار کے یکسر خلاف ہے۔

پاکستان کی سیاست میں حریفوں کے خلاف درستی الفاظ استعمال کا سلسلہ ستر کی دہائی کے اختتام پر شروع ہوا، 1970ء کے عام انتخابات کے دوران سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے سیاسی مخالفین کو تضحیک آمیز الفاظ سے مخاطب کرنا شروع کیا، اس کے بعد یہ سلسلہ ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد کچھ عرصہ تک موقوف رہا، سیاست میں کرکٹ کے کھلاڑیوں کی آمد کے بعد غلاظت آمیز گفتگو کا دوبارہ آغاز ہوا، اس کی شاید وجہ یہ رہی ہوگی کہ کرکٹ میچ کے دوران جب کھلاڑی حریف ٹیم کے بلے باز کو آئوٹ کرتا ہے تو اپنے جذبات کا اظہار بیہودہ الفاظ اور اشاروں سے کرتا ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرہ میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

کرکٹ کے کھلاڑیوں خاص طور پر بولرز میں غلط اور گندی زبان استعمال کرنے کی عادت اس قدر سرائیت کر جاتی ہے کہ وہ اپنی گھریلو زندگی میں بھی اس کا غیر شعوری طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں کرکٹ کے شہرت یافتہ کھلاڑی کی مثال ہمارے سامنے ہے جو اپنے سیاسی حریفوں کو روزانہ کی بنیاد پر مطعون کرتے رہتے ہیں۔

ان کی نگاہ میں سوائے ان کے اور ان کے چند مخصوص ساتھیوں کے تمام سیاستدان چور، ڈاکو، اٹھائی گیرے، لٹیرے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہیں، یہاں تک کہ ان کی زندگی میں آنیوالی خواتین بھی ان کی بدزبانی اور عادتوں کا شکار ہو کر دنیا بھر میں اپنے ساتھ ہونیوالے ناروا سلوک کی دہائیاں دیتی نظر آرہی ہیں۔

پاکستان میں سیاسی پلے بوائے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں سب سے پہلے ان کی جماعت کی ہی ایک خوبرو جوان کارکن نے آواز بلند کی، اس کی اندرونی وجوہات کیا ہیں یہ بات ابھی تک مکمل طور پر نکل کر نہیں آسکی، اس خاتون نے سب سے پہلے پلے بوائے سیاستدان کے بلیک بیری فون کا انکشاف کیا جسکے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے اندر لاتعداد طلسم ہوش ربا کہانیاں پوشیدہ ہیں۔

دوبارہ بلیک بیری ٹیلی فون کا ذکر بڑے زور و شور کے ساتھ ریحام خان کے حوالے ہورہا ہے، حریفوں کی پگڑیاں اچھالنے والا پلے بوائے بلیک بیری کے اندر موجود اپنی زندگی کے تاریک پہلوئوں کو پوشیدہ نہیں رکھ پا رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک تنہا عورت بڑی بے جگری کے ساتھ تنخواہ دار ترجمانوں اور شب کی



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔