آزاد عورت

جاوید قاضی  جمعرات 14 جون 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

کسی معاشرے کے صحتمند ہونے کی قوی پہچان یہ ہے کہ اس معاشرے میں عورت کا مقام اور حیثیت کیا ہے؟ بلکہ فرد کی سوسائٹی کی قدر پرکھنے کا ایک پیرا میٹر یہ بھی ہے کہ وہ کتنا sensitized ہے، عورت کے حوالے سے۔ ہم جو رویہ اختیار کرتے ہیں وہ ہمارے لاشعور سے جنم لیتا ہے ہم جو دیکھتے ہیں وہ ہی رویہ ہم اختیارکرلیتے ہیں۔

گھر کے اندر عورت کام کرے تو ٹھیک ہے لیکن ہم اس کے حصے دار نہیں بنتے۔ اس کا ہاتھ نہیں بٹاتے اور جو مرد عورت کے ساتھ گھرکے اندر کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں تو ان کو ’’جوروکا غلام‘‘ کے لقب سے نوازا جاتا ہے اور اسی طرح کی سیکڑوں باتیں جس سے ہماری مجموعی نفسیات بنتی ہے۔

ہم سماج سے فرد کو اور فرد کو سماج سے سمجھ سکتے ہیں۔ حال ہی میں IMF  کی ایک رپورٹ جاری ہوئی کہ پاکستان کی مجموعی پیداوار GDP  30% تک بڑھ سکتی ہے اگر عورت کو empowered  کیا جائے۔ یہ معاملہ غور طلب بھی ہے اور سیلس بھی۔ سیلس اس لیے کہ ہمارا پیداواری نظام ایک ٹانگ پر کھڑا ہے یعنی کہ ہر طرف مردوں کا غلبہ ہے جو کہ لیبر مارکیٹ میں نظر آتے ہیں جب کہ ملک کی 50% آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور غور طلب اس لیے کہ یہاں سے ہم اپنے تاریخی پس منظر میں چلے جاتے ہیں کہ بآلاخر کیوں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے بارے میں IMF  نے ایسی رپورٹ جاری نہیں کی۔ بنگلہ دیش کی garment industry  نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔بنگلہ دیش کی خواتین ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ان فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں اور ملک کے زرمبادلہ کو بڑھانے کے لیے لاکھوں ڈالرکماتی ہیں۔

بنگلہ دیش نہ کپاس پیدا کرتا ہے اور نہ ہی کپڑا تیار کرتا ہے۔ وہ ہندوستان سے کپڑا امپورٹ کرتا ہے اور اسکو valuate کرتا ہے۔ چین کے بعد بنگلہ دیش اب دوسرا بڑا ملک ہے جو وافر مقدار میں کپڑا ایکسپورٹ کرتا ہے اور جیسے جیسے چین hi-tech industry  کی طرف جارہا ہے تو چھوٹی چھوٹی industrial jobs  یا  lowskilled jobs،ne belt one road   کے ذریعے اپنے قریبی ممالک کی طرف منتقل کرتا جائے گا۔

چین جو سب سے بڑا انقلاب لایا وہ یہ ہے کہ اس نے خواتین کو اپنے لیبر مارکیٹ میں برابرکا حصے دار بنایا۔ وہ عورت کوگھر سے باہر لایا اس کو فولادی ہاتھ دیے، اس کو آہن گر بنایا اور اس تمیزکا فرق مٹا دیا کہ کون سا کام خواتین کا ہے اورکونسا مردوں کا۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ہندوستان میں 33 کروڑ آبادی شہری مڈل کلاس ہے اور اس شہری آبادی کہ  skilled labour  میں خواتین کا بہت بڑا کردار ہے۔

IMF  کی اس رپورٹ میں ترکی کا حوالہ اس طرح سے دیا گیا ہے کہ ترکی لیبر فورس میں un skilled  خواتین کی ٹوٹل تعداد 17% ہے جب کہ skilled خواتین کی تعداد 70% ہے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ جو خواتین تعلیم، بہتر صحت اور بہتر نشونما پر پہنچ رکھتی ہیں ان کے لیے معاشرے میں روزگار کے بہتر مواقعے پیدا ہوتے ہیں لیکن حال ہی میں new york times  کے ایک آرٹیکل کے مطابق ترکی ہی وہ ملک ہے جہاں زیادہ تعداد میں عورتیں اپنے شوہروں کے ہاتھوں جان سے ماری جاتی ہیں، جس کو ہم honour killing  بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو خواتین،مردوں کے شانہ بشانہ مختلف شعبہ زندگی و معاشیات میں کام کرتی ہیں ان کو مردوں کے مقابلے زیادہ اہمیت نہیں ملتی ۔عورت کی بہ نسبت مرد کو زیادہ سراہا جاتا ہے۔

عورت کے ساتھ نا انصافی کی پہلی سیڑھی گھر سے ہی نکلتی ہے ایسا عموما پسماندہ اور نچلے طبقوں میں جہاں تعلیم کا فقدان پایا جاتا ہے وہاں بیٹے اور بیٹی کی پرورش میں تضاد ہوتا ہے۔ یعنی ماں کی کوکھ سے ہی ایک کلاس بنائی جاتی ہے بیٹا اہم اور بیٹی غیر اہم۔ نچلے طبقے میں اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ultra sound  کے ذریعے اگر معلوم ہوجائے کہ بیٹی کی پیدائش ہونے والی ہے تو بیوی کا ابارشن کروادیا جاتا ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ غذا کی فراہمی میں بھی فرق کیا جاتا ہے بیٹی کی نسبت بیٹے کو اچھا کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی بیٹوں کو آگے اور بیٹیوں کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔ ہمارا اسٹیٹس بتاتا ہے کہ اسکولوں سے لڑکیوں کا dropout لڑکوں کے بہ نسبت زیادہ ہے۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے بھٹائی کی سطروں کو یہاں لکھوں :کہ سسی کی سر میں وہ لکھتے ہیں ’’یا تو میں پیدا ہی نہ ہوتی اور جو ہوتی تو پیدا ہوتے ہی مرجاتی‘‘

کچھ ایسی ہی روداد عورت ہے اس سماج میں۔ پاکستان عورتوں کے حقوق کے حوالے سے دنیا کا بدترین ملک ہے ۔ اب الیکشن کا دور ہے اورامکان ہے کہ بہت سی خواتین پولنگ اسٹیشن پر ووٹ دینے کے لیے پہنچ ہی نہ سکیں گی کیونکہ ان کے مرد انکو ووٹ دینے کی اجازت ہی نہیں دینگے۔ ہمارا پچھلے ووٹ پیٹرن کے حساب سے یہی اندازہ ہے کہ اس دفعہ بھی مردوں کی بہ نسبت عورتوں کا ووٹ ٹرن آؤٹ زیادہ ہوگا۔ اس مقام پر اہل قلم اپنا کردار بہ خوبی نبھاتے ہیں۔

ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے ، awareness پروگرامز لانچ کیے جاتے ہیں ، ڈرامے بنائے جاتے ہیں ، ٹاک شوز کیے جاتے ہیں حکومت مختلف معلوماتی پراجیکٹس لے کر آتی ہے ، لوگوں کو اس علم سے روشناس کروایا جاتا ہے کہ عورت اور مرد کے مقام میں کوئی تضاد نہیں۔ عورت اور مرد مساوی ہیں نہ صرف ہمارا آئین اس بات کو واضح کرتا ہے بلکہ ہمارا مذہب بھی عورت کو مردوں کے برابر حقوق دیتا ہے  بد نصیبی ہے ہماری کہ ہم ادارے نہ بنا سکے ۔ اداروں کی ناپیدگی نے ہماری مجموعی پیداوار اور اس بحث کو الجھا دیا ہے۔

اب تک یہ بھی طے نہیں ہو پایا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے بھی کہ نہیں اور ہماری سول قیادت اور اس کی کارکردگی بھی ہمارے سامنے ہے۔ انھوں نے اپنے مفادات کو عزیز رکھتے ہوئے بیرونی قرضوں کا بوجھ اس قدر ملکی معیشت پر بڑھادیا ہے کہ آگے آنیوالا سب سے بڑا بحران ان قرضوں کی ادائیگی ہے۔ ہمارے ہاں تمام نظام ایڈہاک پر ہے ۔ جج صاحبان سو موٹو پر چلے گئے ہیں، بیورو کریسی سمری پر چلتی ہے خواہ وہ رولز کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اجازت اگر تین منزلہ عمارت بنانے کی ہے تو ہم آٹھ منزلہ عمارت بناتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ راستوں کا جال بچھانا اور میٹرو بس اور اورینج ٹرین جیسے پروجیکٹس کا لانچ ہی ترقی ہے جب کہ تعلیم و صحت پر صرف کرنا فضول ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی وجوہات کو شاید ہم اس نظر سے جانچتے ہی نہیں کہ ان کے معاشرے میں خواتین کا کردار مردوں کے برابر ہے اور ان کی لیبر فورس میں خواتین برابرکی حصے دار ہیں۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ اسپین کی پارلیمنٹ میں آدھی تعداد خواتین کی ہے اور وہاں کا قانون عورتوں کے حقوق کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔

دنیا میں ایک ریسرچ کے مطابق اب بزنس ایگزیکٹو پوسٹ پر خواتین کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ مردوں اور عورتوں کے درمیاں واضح فرق کو متوازن کیا جا سکے ۔ اب دنیا ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہے جہاں عورتوں کی شمولیت کو واضح اورکثیر بنایا جا رہا ہے ۔آگے آنیوالا دور عورتوں کی empowerment  کا دور ہے جو دنیا کو نہ صرف ترقی دیگا بلکہ امن کا بھی ضامن ہوگا۔ آپ اپنے آپ کو اس دور میں reformist  کہہ ہی نہیں سکتے جب تک کہ اپنے گھر سے لے کر باہر کی دنیا تک اس تضاد (gender discrimination) کا خاتمہ نہ کریں۔ چونکہ میں شاگرد ہوں شاہ عبدالطیف بھٹائی کا اور انھوں نے اپنی شاعری میں دنیا کی تشریح عورت کی نگاہ سے کی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔