راجیو کے قتل جیسا ایک اور واقعہ

توقیر چغتائی  جمعرات 14 جون 2018

بھارت کے سیاسی حلقوں میں آج کل ایک خط موضوع بحث بنا ہوا ہے، جسے مبینہ طور پر مائو باغیوں نے تحریرکیا۔ اس خط میںدرج تھا کہ ’’ہم راجیو گاندھی کے قتل جیسے ایک اور واقعے کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘‘ خط کے منظر عام پر آنے اور سی پی آئی مائوئسٹ کے کئی کارکنوںکی گرفتاری کے بعد بھارت میں اس بحث نے جنم لیا کہ یہ خط سچ مچ کسی پارٹی کی طرف سے لکھا گیا یا بی جی پی نے اپنی روز بروزکم ہوتی مقبولیت کو سہارا دینے اور اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے اسے حربے کے طور پراستعمال کیا ہے۔

مذکورہ خط دہلی میں مقیم بائیں بازوکی جماعت سی پی آئی مائوسٹ کے ایک کارکن کے گھر سے بر آمد ہوا جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مودی کے دورمیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح مغربی بنگال اور بہارکے ساتھ ملک کی پندرہ ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے مستقبل میں پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس لیے مودی کے دورکو ختم کرنے کے لیے ہمیں مضبوط قدم اٹھانا پڑے گا۔خط میںہتھیاروں کے لیے آٹھ کروڑ روپے جمع کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے مگر اس میں درج سب سے اہم بات یہ تھی کہ ’’ہندو فاشزم ختم کرنا ہمارے ایجنڈے میں سر فہرست ہے‘‘ یاد رہے کہ دو ہزار چارکے دوران وجود میں آنے والی سی پی آئی مائوئسٹ پر اس الزام کے تحت حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہے کہ یہ ایک شدت پسند جماعت ہے جس نے ماضی میں کئی سرکاری اہلکاروں کا قتل عام کیا مگر اس جماعت کے علاوہ بھی بی جی پی کو ہر اس پارٹی، جماعت، سیاستدان اور دانشور سے شکایت ہے جو اس کی سوچ اور عمل کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔

ویسے تو بہت سارے لوگ اس واقعے کے بارے میں جانتے ہیں مگر ہوا کچھ یوں کہ بھارت کی ریاست تامل ناڈو کے شہر مدراس (اب چنائی ) میں اس دن سیاسی گہما گہمی عروج پر تھی اس لیے کہ وزیر اعظم راجیوگاندھی کو وہاں سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گائوں میں ہونیوالے ایک سیاسی جلسے میں شرکت کرنا تھی۔ جلسہ شروع ہونے سے قبل بھارتی رسم و رواج کے مطابق ایک خاتون ان کے گلے میں ہار ڈالنے کے بعد پیر چھونے کے لیے جھکی تو اس کے ہاتھ لباس کے نیچے بندھی ہوئی اُس بیلٹ تک پہنچ چکے تھے جس میں سات سوگرام وزنی بارودی مواد رکھا ہوا تھا۔

زور دار دھماکے کے بعد جب گرد بیٹھی تو بہت ساری دوسری لاشوں کے ساتھ راجیوگاندھی کی لاش بھی نظر آئی جن کے سرکا ایک حصہ پاس ہی گرے آخری سانسیں لیتے گانگریس کے ایک مرکزی رہنما کے سینے پر پڑا تھا۔اس سے چند لمحے قبل لبریشن ٹائیگر آف تامل ایلم کی سرگرم کارکن راجا رتنم نے راجیو گاندھی کے گلے میں ہار ڈالا تو قریب کھڑے اکیس سالہ کیمرہ مین ہری بابو نے اس منظرکو انتہائی مہارت سے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا مگر وہ اپنی زندگی کو محفوظ بنانے میں ناکام رہے۔

بھارت میں علیحدگی پسندوں کے دبائو اور ہتھیار بند جدوجہد کو سونیا گاندھی نے شاید اس خونی واقعے سے بہت عرصہ قبل ہی محسوس کر لیا تھا جس کی مثال اندرا گاندھی کے سیکریٹری پی سی الیگزینڈر کی کتاب’’ My Years with Indira Gandhi ‘‘ سے دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ’ اندرا گاندھی کے قتل کے چند گھنٹوں بعد آل انڈیا انسٹیٹیوٹ کی راہداری میں سونیا اور راجیوکو لڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ راجیو گاندھی سونیا کو بتا رہے تھے کہ پارٹی چاہتی ہے میں وزیر اعظم کا حلف اٹھا لوں۔‘ سونیا نے جواب دیا ’’ ہرگز نہیں۔ وہ تمہیں بھی مار ڈالیں گے‘‘ جس کے جواب میں راجیو گاندھی کاکہنا تھا ’’کیا کروں میرے پاس اس کا اختیار نہیں‘‘

تاریخ کی بے رحم راہداریوں میں راجیو گاندھی کے قتل سے قبل ان کی ماں اندرا گاندھی کے قتل کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، جب ان کی حفاظت پر مامور ’’آپریشن بلیو اسٹار‘‘ کی آگ دل میں سمائے دو سکھ محافظوں نے انھیں ایک دو نہیں بلکہ تیس گولیوں سے چھلنی کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اندرا گاندھی کی آواز تو ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی مگر بھارت میں نفرت کی جو آ ندھی چلی اس نے تین ہزار سکھوں کی جان لے لی اور لاکھوں کو نقل مکانی کے عذاب سے دوچارکیا۔

بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ یہ خونی دور’’دربار صاحب‘‘ امرتسر پر ہونے والے آپریشن کے بعد بھارتی پنجاب کے باسیوں کے لیے سب سے خطرناک اور قیامت خیززمانہ تھا۔گوکہ آپریشن بلیو اسٹار جون کے مہینے میں شروع ہوا تھا،جسے اندرا گاندھی کے قتل سے تو جوڑا جا سکتا ہے مگر یہ ان کے بیٹے راجیوگاندھی کے قتل کی کڑی نہیں بن سکتا لیکن بی جی پی نے اسے مودی پر ہونے والے حملے کی سازش کے ساتھ جوڑا تو اس خونی واقعے کی یاد بہت سارے لوگوں کے ذہن میں تازہ ہوگئی۔

اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے کے قتل سے جڑے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو اب بھارت کی سیاسی اور سماجی صورت حال بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت ملک میں علیحدگی پسندی کی تحریکیں اور کشمیر کا مسئلہ ہی شاید بھارت کا سب سے بڑا داخلی مسئلہ تھا اور اب بھی ہے مگر نریندر مودی کو علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں اورکشمیر سے اٹھنے والی آوازوںکے ساتھ اب بہت سارے ایسے مسائل کا بھی سامنا ہے ۔

جن میں سے زیادہ تر ان کے دور ہی کی پیداوار ہیں اور ماضی کی نسبت زیادہ خطرنا ک ہیں ۔ دوسرے مسائل کو تو چھوڑیے صرف بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی نے بھارت کو جس طرح اقوام عالم میں رسوا کیا وہ بھارتی معاشرے کے روشن خیال شہریوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔

اس حقیقت سے شاید کوئی بھی انکار نہ کرسکے کہ حکومت کے ساتھ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی خواہش مند تنظیم آر ایس ایس نے کسی انسانی اقدارکی پرواہ کیے بغیر ملک کی مذہبی اقلیتوں اور سماجی و سیاسی تنظیموں کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کا جوپر تشدد سلسلہ شروع کیا ہے وہ مستقبل میں مودی کی جان کے لیے ضرور خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد ان پر لگ بھگ پانچ حملوں کی خبریں سامنے آچکی ہیںاور ان کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے ایسے مزید حملوں کا بھی خطرہ ہے ۔

دہشتگردی چاہے کسی بھی ملک یا معاشرے میں ہو اس کی مذمت ضروری ہے مگر اس دہشتگردی میں ریاست بھی فریق بن جائے تو حالات بھارتی معاشرے کی موجودہ صورت حال کی طرح سامنے آتے ہیں۔ بھارتی معاشرے میںمذہبی انتہا پسندی جس شدت سے پروان چڑھ رہی ہے اگر اسے نہ روکا گیا تواندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے بعد مودی کو بھی شاید کسی امتحان سے گزرنا پڑے ۔ ہمارے ملک میں تو شدت پسندی کی وجہ سے صرف دو نسلوں کا مستقبل تباہ ہوا تھا مگر مودی جس ملک سے تعلق رکھتے ہیں اگر اس میں مذہبی تشدد پسندی نے قدم جما لیے تو اسے ختم کرنے کے لیے نہ صرف کئی نسلوںکی قربانی درکار ہوگی بلکہ بھارت کو جس نام نہاد سیکیولر ازم پر اتنا ناز ہے اس کا بھی جنازہ اٹھ جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔