حیرت کدہ

رفیع الزمان زبیری  جمعرات 14 جون 2018

راشد اشرف نے خود نوشتوں اور دوسری کتابوں سے مافوق الفطرت اور ماورائے عقل واقعات ’’حیرت کدہ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیے ہیں۔ ایٹلانٹس نے یہ کتاب چھاپی ہے، راشد کا کہنا ہے کہ خود نوشت عموماً زندگی کے آخری حصے میں لکھی جاتی ہے اور یہ بھی ہے کہ عمر کے اس حصے میں لوگ عموماً سچ بولتے ہیں۔ اپنے معاشقوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔

جن معروف شخصیات کی خود نوشتوں میں ماورائے عقل واقعات کا ذکر نمایاں ہیں ان میں قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، موسیٰ رضا، نقی محمد خاں، احسان دانش، عزیز میاں شامل ہیں۔ خود راشد اشراف کے اپنے خاندان میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی زندگی انتہائی دلچسپ ماورائے عقل واقعات سے عبارت رہی ہے، ایک قریبی عزیز کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تو وہ خود گواہ ہیں۔

یہ صاحب جن کا ذکر راشد نے کمال کے نام سے کیا ہے ہندوستان سے اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو پہلے پہل راولپنڈی میں رہے، یہی ان کا بچپن اور جوانی کا زمانہ جس گھر میں گزرا وہ ہندوئوں کاچھوڑا ہوا پرانی طرز کا مکان تھا، کمال صاحب کے کمرے میں رات کے ٹھیک دو بجے چھت سے چٹخ چٹخ کی آواز آتی تھی، کمرے میں ایک آتش دان بھی تھا رات کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ آتش دان کے اندرکوئی کھرونچے مار رہا ہے، ایک رات وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے کہ انھیں یوں محسوس ہوا کوئی ان کے سینے پر سوار ہوگیا ہے۔

بوجھ ناقابل برداشت تھا انھوں نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کی جسکے بعد وہ بوجھ دور ہوتا چلا گیا بعد میں ان کے پڑوسیوں نے بتایاکہ تقسیم سے پہلے اس مکان میں ایک جواں سال ہندو لڑکی کا قتل ہوا تھا جسکی لاش کو چمنی سے آتش دان میں پھینک دیا گیا تھا۔ کمال صاحب کا خاندان کئی سال اس مکان میں رہا پھر یہ لوگ کراچی چلے آئے کراچی میں انکو ایک بلی والے بابا مل گئے یہ ایک مجذوب فقیر تھے جو اپنے معتدقین سے صرف برفی قبول کرتے تھے جو بلیاں آکر کھاجاتی تھی۔ کمال کو ان کے پاس جانے سے بڑا فائدہ ہوا اور ان کے حالات بہتر ہوئے۔

موسیٰ رضا نے اپنی خود نوشت ’’نواب صاحب کی بلبلیں‘‘ میں لکھا ہے کہ ان کی بیوی میں مافوق الفطرت اثرات محسوس کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ اور غیر مرئی چیزوں کو دیکھنے کی قوت بہت تیز تھی یہی کیفیت ان کی ماں کی تھی وہ کسی بھی مکان کو کافی فاصلے سے دیکھ کر بتاسکتی تھیں کہ کہ وہ بد روحوں کا مسکن ہے یا نہیں وہ کہتی تھیں ’’دیکھو، اگر کچھ لوگ کسی مکان میں بہت دنوں تک رہ جاتے ہیں تو ان کی روحیں اس مکان سے ، اس کی دیواروں سے، اس کے احاطے میں لگے ہوئے درختوں سے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مکان کے ایک ایک حصے سے اس طرح چمٹ جاتی ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان روحوں کی تمنائیں اس مکان پر اپنا غیر مرئی سایہ ڈالتی رہتی ہیں۔ اب اگر کوئی حساس قوت کا مالک ہو تو ان ارواح کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی فضا میں اسے اس کا ادراک ہوجائے گا یوں سمجھ کر خواہش پوری نہ ہونے پر پیدا ہونے والی افسردگی اور اداسی کا ایک نوحہ ہوا میں سنائی دے گا اور اگر وہ کسی ایسے مکان میں داخل ہوگیا تو اسے اپنی روح پر بوجھ محسوس ہوگا۔‘‘

قدرت اللہ شہاب اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ فروری 1947ء میں جب تقسیم ملک سے پہلے وہ سول سروس میں تھے تو ان کا تبادلہ اڑیسہ ہوگیا، وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی سیکریٹری تھے انھیں جو مکان رہنے کو ملا وہ ایک چھوٹی سی خوش نما کوٹھی تھی لیکن سالہا سال سے غیر آباد رہنے کی وجہ سے اس کے در و دیوارسے وحشت برس رہی تھی ان کے ساتھ ایک کشمیری ملازم رمضان تھا اس نے سارا دن لگاکر مکان کو جھاڑ پونچھ کر صاف کردیا اور یہ وہاں رہنے لگے۔

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں ’’ایک رات گیارہ بجے کے قریب میں بجلی بجھاکر لیٹا تو دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے سوچا شاید رمضان کوئی چیز بھول گیا ہے لینے آیا ہے لیکن دروازہ کھولا تو برآمدہ خالی تھا البتہ ہوا کا ایک گرم جھونکا میرے چہرے پر ضرور لگا۔ فروری کی وہ رات خوب ٹھنڈی تھی لیکن برآمدے میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کہیں پاس ہی الائو جل رہا ہے اس کے بعد یہ دستک ایک معمول بن گئی جیسے ہی بجلی بجھاکر لیٹتا دروازے پر دو تین دفعہ دستک ضرور ہوتی ایک رات میں بجلی بجھاکر لیٹ ہی رہا تھا کہ بجلی خود بہ خود روشن ہوگئی، میں بجھانے کے لیے اٹھا تو میرے سلیپرکہیں نظر نہ آئے اسی اثنا میں بجلی خود بہ خود بجھ گئی میں دوبارہ لیٹا تو دیکھا سپلیر بڑے بڑے سلیقے سے تکیے کے غلاف کے اندر دھرے تھے۔

کوٹھی کا ڈرائنگ روم سونے کے کمرے سے ملحق تھا درمیان میں ایک دروازہ تھا جو عموماً کھلا رہتا تھا دروازے میں سبز رنگ کا جالی کا ایک باریک سا پردہ لٹکا رہتا تھا، یکایک دروازے کا پردہ ہلا اور ڈرائنگ روم میں سرسراہٹ سی ہوئی جسے ریشم کا تھان کھل رہا ہو۔ پھر چوڑیاں کھنکھیں اور ایک نسوانی آواز نے چند ہچکیاں لیں فرش پر اونچی ایڑی والے زنانہ جوتوں کے چلنے کی آواز آئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پردے کے پیچھے سے جھانکا کمرے میں اندھیرا تھا لیکن فضا میں حنا کے عطرکی خوشبو رچی ہوئی تھی میں نے ڈرائنگ روم کا بلب روشن کرکے ماحول کا جائزہ لیا۔ ایک اداس خاموشی کے سوا وہاں کچھ بھی نہ تھا واپس آکر پلنگ پر لیٹا تو چھت پر بہت سے بھاری بھرکم قدموں کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی کئی پتھر پے در پے اندر برسنے لگے پتھر میرے دائیں بائیں آگے پیچھے گرتے تھے مگر مجھے لگتے نہیں تھے۔ دروازے، کھڑکی اور روشندان سب بند تھے لیکن پتھروں کا مینہ بدستور ربرستا رہا، باہر کافی زور کی بارش ہورہی تھی لیکن کمرے میں گرنے والے پتھر بالکل خشک تھے ایک اینٹ جو میرے بازو کے عین پاس آکر گری کوئی ڈھائی سیر وزنی تھی۔‘‘

قدرت اللہ شہاب کو اس واقعے کے بعد اس سے بھی زیادہ پریشان کن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ رمضان کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے پھر وہ جامع مسجد کے خطیب، درویش حاجی علی اکبرکو لے آیا انھوں نے کچھ عمل پڑھا اور پھر یکایک سارے ماحول پر ایک سناٹا سا چھاگیا اور مکان کی اینٹ اینٹ سے بے حد خوش الحان قرأت میں اذان کی آواز آنے لگی بعد میں شہاب صاحب کو معلوم ہوا کہ اس مکان میں ایک انگریز افسر نے ایک بہت خوبصورت ہندو لڑکی کو جو اس کی آیا تھی اور جس سے اس کے تعلقات ہوگئے تھے قتل کرکے اس کی کوٹھری میں لاش کو دبا دیا تھا اور یہ اس لڑکی کی روح تھی جو بھٹک رہی تھی۔

’’حیرت کدہ‘‘ میں ایسے ماورائے عقل واقعات بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور جن لوگوں کا ان سے واسطہ پڑا ہے، ان پر جو گزری ہے وہ بھی پڑھنے کے قابل ہے۔ ممتاز مفتی لکھتے ہیں ’’میں ایک منہ زبانی مسلمان ہوں۔ میری زندگی عمل سے خالی ہے میری زندگی میں چار ایسے واقعات ہوئے ہیں جنھیں بیت کر مجھے پتا چلاکہ ہماری دنیاوی زندگی کے متوازی ایک روحانی نظام بھی چل رہا ہے لیکن بنیادی طور پر میں ایک ادیب اور دانشور ہوں، میرا باطن شکوک و شبہات سے اٹا پڑا ہے ایسے واقعات سے میں چند دن متاثر ہوتا ہوں اور پھر منکر ہوجاتا ہوں۔‘‘

نقی محمد خاں جو انڈین پولیس میں اعلیٰ افسر تھے انھوں نے بھی کئی ناقابل فہم واقعات کا ذکر اپنی خود نوشت میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ راوی کا کام صرف اس قدر ہے کہ مافوق الفطرت واقعات کو جو اس کے مشاہدے میں آئیں بلا نمک مرچ لگائے بیان کردے لیکن عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ عجیب بات کو عجیب تر بناکر سننے والوں کو حیرت زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی نوعیت تبدیل ہوجانے سے وقعت جاتی رہتی ہے۔

راشد اشرف کہتے ہیں کہ ’’حیرت کدہ‘‘ میں خود نوشت آپ بیتیوں سے منتخب کردہ اوراق کے علاوہ مختلف کتابوں سے جو مضامین دست شناسی کیے پیشے سے وابستہ لوگوں کے متعلق ہیں وہ بھی ایک عام قاری کے لیے اتنے ہی دلچسپ ثابت ہونگے جتنے ماورائے عقل پر صدق دل سے یقین رکھنے والوں کے لیے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر سلمان علی شاہ نے خود نوشتوں میں محیر العقول واقعات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے، ان کا مقالہ ابھی شایع ہونا باقی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔