بھارت میں کھُلے پیسے نہ دینے پردکاندارکا گاہک پرچھری سے حملہ

ویب ڈیسک  جمعرات 14 جون 2018
کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے دکان میں زیادہ سے زیادہ  10 روپے کے سکے ہوتے تھے،پڑوسی دکاندار۔فوٹو: فائل

کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے دکان میں زیادہ سے زیادہ 10 روپے کے سکے ہوتے تھے،پڑوسی دکاندار۔فوٹو: فائل

جھارکھنڈ: بھارت میں 15 روپے کی چاکلیٹ لینے کے لیے 500 کا نوٹ دینے پر دکاندار نے گاہک کو چھری کے پے درپے وارکرکے زخمی کردیا۔

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے شہرجمشید پورگاہک نے 15 روپے کی چاکلیٹ خریدنے کے لیے 500 روپے کا نوٹ دکاندارکے سامنے کردیا جس پردکاندارنے کھلے پیسوں کا مطالبہ کیا اورنہ ملنے پر غصے سے گاہک پرچھری سے حملہ کرکے زخمی کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 64 سالہ دواریکا گرم دماغ کا شخص ہے جس نے کھلے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے 36 سالہ بھگت مہاٹو سے جھگڑا کیا،جھگڑے سے قبل بھگت نے دکاندارکو10 روپے دیکر بقایا 5 روپے بعد میں دینے کا بھی کہا اور دکاندارکی جانب سے یہ بات نہ ماننے کی صورت میں چاکلیٹ بھی واپس کرنے کا کہا تاہم دکاندارکو یہ برداشت نہ ہوسکا اورگاہک پرحملہ کرکے چھری کے وار سے زخمی کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاہک بھگت مہاٹو پیشے کے اعتبار سے رکشہ ڈرائیور ہے جو اپنے بچوں کے لئے چاکلیٹ لینے پان کی دکان پر گیا تھا جب کہ زخمی گاہک کو فوری طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا اور ملزم کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

دکان دارکے پڑوسی کا کہنا ہے کہ پان کی دکان کا مالک دواریکا غصے پر قابو نہ رکھنے والا شخص ہے جس کی بنیادی وجہ اس کا کاروبار ہے جوکہ آج کل ٹھپ پڑا ہے اوراسی وجہ سے دکان میں صرف 1،2،5  اور 10 روپے کے ہی سکے ہوتے تھے اور ایسی صورتحال میں 500 اور 2000 کا کھلا دینا نا ممکن ہوتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔