یو اے ای سے دوریاں کیوں بڑھ گئیں؟

سلیم خالق  جمعرات 14 جون 2018
ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں،ملائیشیا میں انفرااسٹرکچر اس معیارکا نہیں کہ اپنی تمام تر کرکٹ وہاں منتقل کردیں۔ فوٹو: آئی سی سی

ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں،ملائیشیا میں انفرااسٹرکچر اس معیارکا نہیں کہ اپنی تمام تر کرکٹ وہاں منتقل کردیں۔ فوٹو: آئی سی سی

ایشیائی کرکٹ میں پاکستان کے دوست کم ہی ہیں،ان میں سے بھی ایک یو اے ای کے ساتھ تعلقات اب خاصے کشیدہ ہوچکے، چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ’’اکتوبر سے مارچ تک کوئی لیگ رکھی تو ہم اپنی کرکٹ ملائیشیا لے جائیں گے‘‘ امارات نے جواب دسمبر، جنوری میں اپنا ایونٹ کرانے کے اعلان سے دیا، اس پر پاکستان نے فیصلہ کیاکہ اس لیگ کیلیے کھلاڑی ریلیز نہیں کیے جائیں گے، یوں دونوں ممالک کے تعلقات مزید بگڑتے ہی نظر آ رہے ہیں۔

آج کل ہر بورڈ پیسے کمانے میں لگ چکا، حد تو یہ ہے کہ ناکام ہی سہی مگریوگینڈا بھی ٹوئنٹی 20 لیگ کی کوشش کرچکا، اب اگر یو اے ای بھی ایسا کر رہا ہے تو اسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ انھیں یہ بھی خدشہ ہے کہ آہستہ آہستہ پاکستان اپنی مکمل کرکٹ ملک میں ہی منتقل کر لے گا۔

ایسے میں کچھ تو مستقبل کا سوچنا ہے، اسی لیے اپنی لیگ کرانے کا فیصلہ کیا،افغانستان بھی اکتوبر میں اماراتی سرزمین پر ہی ایونٹ کرانے کا اعلان کر چکا مگر اسپانسر شپ و دیگر مسائل کی وجہ سے انعقاد مشکل لگتا ہے، یقینی طور پر پی ایس ایل سے ایک ماہ قبل یو اے ای میں ان کی اپنی لیگ سے پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچے گا، مگر ہم ابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ اپنی شرائط منوا سکیں۔

ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں،ملائیشیا میں انفرااسٹرکچر اس معیار کا نہیں کہ اپنی تمام تر کرکٹ وہاں منتقل کر دیں، فرنچائزز مکمل پی ایس ایل پاکستان لانا چاہ رہی تھیں مگر سیکیورٹی و دیگر معاملات کے سبب فوری طور پر ایسا ممکن نہیں، کراچی اور لاہور کے سوا کوئی اور گرائونڈ بھی اس معیار کا نہیں کہ میزبانی کر سکے۔

ایسے میں انا کو پست پشت رکھ کر بورڈ نے لیگ کے بیشتر میچز امارات میں ہی کرانے کا فیصلہ کیا، ہم نے یو اے ای کو ڈرا دھمکا کر دیکھ لیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اب آخری آپشن کھلاڑیوں کو ریلیز نہ کرنا ہے جس سے تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا،ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جب کوئی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہ تھی تو اس مشکل وقت میں یو اے ای نے ہی ہماری مدد کی تھی، یہ درست ہے کہ بدلے میں معاوضہ بھی لیا مگر بات وہی آ جاتی ہے کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔

اب اس معاملے کو مزید الجھانے کے بجائے سلجھانا چاہیے،آپ یہ بات تسلیم کر لیں کہ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ ہم یو اے ای کو چھوڑ دیں، متبادل وینیوزکی بھی کمی ہے، ایسے میں اپنے وقت کا انتظار کریں اور آہستہ آہستہ کرکٹ ملک میں واپس لانے لگیں، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی اسٹیڈیمز کو اپ گریڈ کریں، وہاں سیکیورٹی سمیت جو مسائل ہیں انتظامیہ کے ساتھ مل کر انھیں حل کرائیں، فورسز کا لاہور اور کراچی میں بھی کرکٹ کی واپسی میں اہم کردار تھا، یقیناً وہ دیگر شہروں میں بھی فول پروف انتظامات کر سکتی ہیں۔

مگر اس کیلیے سب کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، پہلے خود یہ فیصلہ کریں کہ ہاں ہم پوری لیگ ملک میں کرانا چاہتے ہیں پھر دیگر اقدامات کا آغاز ہوگا، اگلے برس نہیں تو اس کے بعد ایسا کر گذریں،چار شہروں کا انتخاب کر کے ایک، ایک ہفتے وہاں میچز رکھیں، اس سے سیکیورٹی انتظامات میں بھی آسانی ہوگی، آئندہ برس 8 میچز پاکستان میں کرانے کا پلان ہے، یہ تعداد رواں سال سے کافی زیادہ ہوگی، اس دوران اچھے انتطامات سے غیرملکی کرکٹرز کا بھی سیکیورٹی پر اعتماد بڑھے گا، یہ طویل پراسس ہے، جلد بازی نہ کریں اور فی الحال اماراتی حکام سے تعلقات بھی زیادہ نہ بگاڑیں، آپ پلیئرز نہیں دے رہے کل کو وہ کوئی بہانہ بنا کر گرائونڈز دینے سے انکار کر دیں یا کرایہ بڑھا دیں پھر کیا کریں گے؟

پلان بی ذہن میں ہو تو ضرور لڑائی کریں ورنہ صبر کرنا ہی مناسب ہوگا۔ ویسے یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف پی سی بی یو اے ای میں پی ایس ایل کے سوا کسی دوسری لیگ کیلیے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کو تیار نہیں، دوسری جانب ٹی10پر مہربانیوں کا سلسلہ جاری اور ایک بار پھر پلیئرز کو این او سی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، بورڈ کے مارکیٹنگ معاملات دیکھنے والی ایک اہم شخصیت ٹی ٹین لیگ پر خاصی مہربان ہے۔

ایک پی ایس ایل فرنچائز کے مالک بھی اس ایونٹ سے منسلک ہیں، اسی دبائو کی وجہ سے پی سی بی سخت فیصلے نہیں کرپاتا،دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کا فیصلہ بورڈ نے مکی آرتھر پر چھوڑ دیا ہے،کوچ کی پی ایس ایل ٹیم کے مالک اس لیگ سے بھی وابستہ ہیں تو وہ کیسے منصفانہ فیصلہ کر سکیںگے؟ ویسے اگر دیکھا جائے تو ٹی ٹین لیگ زیادہ خطرناک ہے، اس میں کھلاڑیوں کے انجرڈ ہونے اور غلط سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگر یو اے ای میں لیگز نہیں کھیلنا تو فیصلے کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے۔

ہم اپنے کھلاڑیوں کو بھی پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ کر درست نہیں کر رہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لیگز کے حوالے سے حکمت عملی بننا چاہیے،سال میں2لیگز کی حد تک بات بھی ٹھیک لگتی ہے مگر اب کہاں کھیلنا ہے اور کہاں نہیں یہ فیصلہ بھی بورڈ کرے گا تو مسائل بڑھیں گے، پاکستانی کرکٹرز آئی پی ایل نہیں کھیل پاتے، بگ بیش میں صرف1،2 کو ہی بلایا جاتا ہے، پی ایس ایل کے معاوضے بڑھانے کا فیصلہ اچھا مگر پھر بھی ان کی آمدنی دنیا کے دیگر کرکٹرز سے بہت کم ہی رہے گی، اب ماضی والا دور نہیں جب کھلاڑی ملک و قوم کیلیے کھیلتے تھے، اب سب پروفیشنل ہیں اور پیسہ کمانا اولین ترجیح ہے، جدید دور میں کم وقت میں زیادہ آمدنی کا موقع ٹی ٹوئنٹی لیگز سے ہی ملتا ہے۔

اسی لیے کئی ممالک میں بعض کرکٹرز فری لانس بن گئے، ہمارے کھلاڑی بھی مستقبل میں ایسا کر سکتے ہیں، یہ جو عامر کبھی کندھا تو کبھی ٹانگ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی بات ہے کہ وہ بے زار ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ بورڈ صرف محدود اوورز کے میچز کھلائے، اگر آپ کھلاڑیوں کو اختیار دیں تو بہت سے ٹیسٹ میچز کھیلنے سے انکار کر دیں گے، بچے اب بڑے ہونے لگے ہیں، پرفارمنس بھی اچھی ہے لہذا آج نہیں تو کل ایسا وقت آئے گا جب وہ لیگز سے روکنے پر اعتراض کریں گے، یہ بات بھی بورڈ کو ذہن میں رکھنی چاہیے، ابھی سے کوئی حکمت عملی بنائیں تاکہ مستقبل میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔