مرغی کا گوشت بھی مہنگا، حکومت خاموش تماشائی

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 14 جون 2018
پولٹری فارمرز اورہول سیلرز چاند رات تک گوشت کی قیمت 350روپے تک پہنچائیں گے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

پولٹری فارمرز اورہول سیلرز چاند رات تک گوشت کی قیمت 350روپے تک پہنچائیں گے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

 کراچی: عیدالفطر کی آمد کے ساتھ ہی پولٹری مافیا نے مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے، ایک ہی دن میں مرغی کی قیمت میں 16روپے اور مرغی کے گوشت کی قیمت میں25 روپے کا اضافہ کردیا۔

شہر میں ایک بار پھر مرغی کے گوشت کی قیمت بچھیے کے گوشت کی سرکاری قیمت سے تجاوز کرگیا،بچھیے کے گوشت کی سرکاری قیمت 300روپے مقرر ہے، مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 310روپے تک پہنچ گئی ہے چاند رات تک مزید اضافہ کا امکان ہے، مذہبی تہواروں پر گراں فروشی کراچی کا معمول ہے۔

شہری انتظامیہ کارروائی کے دعووں تک ہی محدود ہے ،پولٹری کی قیمتوں کا معاملہ یکسر مختلف ہے ،مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمت پولٹری انڈسٹری مقرر کرتی ہے ،کنٹرولر جنرل آف پرائسز کمشنر کراچی کے دفتر کا عملہ پولٹری انڈسٹری کے مقرر کردہ نرخ پر آنکھ بند کرکے سرکاری توثیق کی مہر ثبت کردیتا ہے، شہری انتظامیہ کے پاس پولٹری کی قیمت مقرر کرنے کا کوئی سائنسی طریقہ نہیں ہے۔

شہری انتظامیہ کے پاس کراچی اور اس کے گردونواح میں قائم پولٹری فارمز کی کوئی فہرست تک موجود نہیں جس کی وجہ سے شہر کی طلب اور رسد کے فرق کا بھی درست اندازہ ممکن نہیں ہے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے 13جون کو جاری کردہ پولٹری نرخ نامے کے مطابق زندہ مرغی کی قیمت 200 روپے جبکہ برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت 310روپے مقرر کی گئی ہے، جون  میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں 59 روپے فی کلو تک اضافہ ہوچکا ہے۔

پولٹری دکانداروں کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ زیادہ اور سپلائی کم ہے تاہم اکثر پولٹری کی دکانیں ویران پڑی ہے اور گاہکوں کا رش نظر نہیں آرہا دکانداروں کا کہنا ہے کہ مرغی کی قیمت میں اضافے کے اصل ذمے دار پولٹری فارمرز اور ہول سیلرز ہیں تاہم گراں فروشی کی روک تھام کے لیے تمام کارروائیوں کا نشانہ دکانداروں کو بنایا جاتا ہے۔

دکانداروں کے مطابق پولٹری فارمرز اور ہول سیلرز کو لگام نہ دی گئی تو چاند رات تک مرغی کے گوشت کی قیمت 350روپے تک پہنچ جائیگی، شہر کے مختلف علاقوں میں مرغی کی دکانوں پر پہلے ہی سرکاری نرخ سے بھی زائد قیمت پر مرغی فروخت کی جارہی ہے مرغی کی 90فیصد دکانوں پر سرکاری نرخ نامہ (پرائس لسٹ) بھی آویزاں نہیں کی جاتی اور سیاہ تختیوں پر اپنا ریٹ مقرر کرنے آویزاں کردیا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ کی نمائشی کارروائیوں کے دوران سرکاری پرائس لسٹ نکال کر لٹکا دی جاتی ہے جو چھاپہ مار ٹیموں کے جاتے ہی دوبارہ اتار کر رکھ دی جاتی ہے۔

شہریوں نے نگراں وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ عید پر گراں فروشی کی روک تھام کے لیے شہری انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کیے جائیں مرغی کی قیمت بڑھنے کے اسباب کا پتہ لگایا جائے اور مصنوعی مہنگائی بڑھانے اور گراں فروشوں کی سرپرستی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں لایا جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔