موسمی تغیر قدیم ترین درختوں کو نگلنے لگا

ندیم سبحان میو  جمعرات 14 جون 2018
کئی درختوں کے تنے دکانوں، گھروں، ذخیرہ گاہوں اور بسوں کے شیڈز میں بدل گئے ہیں۔فوٹو : فائل

کئی درختوں کے تنے دکانوں، گھروں، ذخیرہ گاہوں اور بسوں کے شیڈز میں بدل گئے ہیں۔فوٹو : فائل

دنیا کے قدیم ترین درخت براعظم افریقا میں پائے جاتے ہیں۔ ان درختوں کو بیوباب کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں سب سے بڑے پھول دار درخت ہیں۔ یہ افریقا میں مدارینی علاقوں کے وسیع گھاس کے میدانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میدانوں میں درخت خال خال ہوتے ہیں۔ براعظم افریقا سے باہر بھی یہ گرم علاقوں میں نمو پاسکتے ہیں۔

بیوباب عجیب و غریب ہیئت کا حامل شجر ہے۔ اس کا تنا بے حد جسیم ہوتا ہے اور شاخیں آسمان کی جانب اٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔ دور سے دیکھنے پر یہ چھتری نما آتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ عمر تین ہزار سال بتائی جاتی ہے۔ بیوباب کی سب سے خاص بات اس کا جسیم تنا ہے۔ اس کی موٹائی ایک بس کے برابر تک ہوسکتی ہے۔ افریقا میں بیوباب کے تنوں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔ زمبابوے میں ایک قدیم بیوباب کے کھوکھلے تنے میں چالیس افراد نے ٹھکانہ بنالیا ہے۔

کئی درختوں کے تنے دکانوں، گھروں، ذخیرہ گاہوں اور بسوں کے شیڈز میں بدل گئے ہیں۔ ایک کے تنے کو جیل کی شکل بھی دی جاچکی ہے۔ بیوباب کے جسیم تنے میں پانی وافر مقدار میں ذخیرہ ہوتا ہے اور اس کا پھل انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی بھی خوراک بنتا ہے۔ اس کے پتے بھی پالک کی طرح ابال کر اور پکا کر کھائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں انھیں دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی چھال سے رسی بٹ کر اس سے ٹوکریاں، کپڑے اور ہیٹ بنائے جاتے ہیں۔ یوں یہ درخت مقامی معیشت بھی کردار ادا کرتا ہے۔

جنوبی افریقا، زمبابوے، نمیبیا، بوٹسوانا اور زیمبیا میں بیوباب کے تیرہ درخت ایسے ہیں جن کی عمریں گیارہ سو سے لے کر ڈھائی ہزار سال تک ہیں۔ یعنی ان میں سے بعض درخت قدیم یونانی دور کے بھی شاہد ہیں۔ بدقسمتی سے کرۂ ارض کا یہ شان دار اثاثہ معدوم ہونے کے قریب ہے۔ تیرہ قدیم ترین درختوں میں سے نو درخت کُلی یا جزوی طور پر سُوکھ گئے ہیں۔ جزوی طور پر سوکھ جانے والے درخت بھی بہ تدریج کُلی موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ امریکا، جنوبی افریقااور رومانیہ کے سائنس دانوں پر مشتمل محققین کی ٹیم نے ان شان دار درختوں پر تحقیق کی ہے۔ تحقیق کے مطابق پچھلے بارہ سال کے دوران تیرہ میں سے نو اشجار مکمل طور پر یا سُوکھ گئے ہیں یا کچھ کے قدیم ترین حصے جیسے تنے مُردہ ہوگئے ہیں البتہ ان کی شاخیں ہری ہیں۔

محقق ایڈرین پیٹریٹ اور ان کے ساتھیوں کے مطابق ان درختوں کی ’ موت‘ کی اصل وجہ ہنوز نامعلوم ہے تاہم قوی امکان ہے کہ موسمی تغیر ان کی تباہی کا سبب ہے۔ محققین گذشتہ کئی برسوں سے ان درختوں پر تحقیق کررہے تھے۔ 2005ء سے 2017ء کے دوران انھوں نے بیوباب کے ساٹھ سے زائد درختوں کا بارہا جائزہ لیا۔ اس دوران ٹیم تنے کے قطر، اونچائی، عمر وغیرہ سے متعلق گاہے بگاہے معلومات جمع کرتی رہی۔ ان کی تحقیق کے دوران قدیم ترین درخت اپنے انجام کی طرف بڑھتے رہے اور رفتہ رفتہ ان کے ’ جسم‘ سے ’ جان‘ نکلتی رہی۔

سائنس دانوں کی تحقیق کا اصل موضوع درختوں کی موت کے اسباب کا تعین کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا تھا کہ درخت اس قدر جسیم کیسے ہوجاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے درختوں کے مختلف حصوں سے نمونے حاصل کرکے ریڈیوکاربن ڈیٹنگ تیکنیک کے ذریعے ان کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے معلوم کیا کہ بیوباب کے ایک نہیں کئی تنے ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں ختم کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے ۔ نذرآتش کیے جانے، چھال اتارلینے کے باوجود بھی یہ زندہ رہتے اور نمو پاتے رہتے ہیں۔ تاہم جب ان کی ’ موت‘ واقع ہونے لگتی ہے تو یہ اندر سے سُوکھ جاتے ہیں اور ڈھے جاتے ہیں۔

محققین کی تحقیق کے درمیانی عرصے میں چار درخت مکمل طور پر ختم ہوچکے تھے جب کہ پانچ کے مختلف حصے سُوکھ گئے تھے۔ ’ موت‘ سے دوچار ہونے والا قدیم ترین درخت ڈھائی ہزار سال پرانا تھا۔ یہ زمبابوے میں تھا۔ اسے Panke کا نام دیا گیا تھا۔ سُوکھ جانے والا سب سے بلند، ننانوے فٹ اونچا درخت نمیبیا میں تھا۔ مقامی افراد اسے Holboom کے نام سے جانتے تھے۔ اس کے تنے کا پھیلائو 115 فٹ تھا۔ یعنی تنا اس کے قد سے زیادہ موٹا تھا۔

سب سے مشہور بیوباب وسطی بوٹسوانا میں تھا۔ Chapman نامی اس درخت کو قومی یادگار قرار دیا گیا تھا ۔ اس کی عمر چودہ سو سال تھی۔ قدیم ترین بیوباب کے علاوہ کچھ نوجوان بیوباب بھی زندگی سے محروم ہوچکے ہیں۔ محققین کے مطابق تمام درختوں میں کسی بیماری کی علامات نہیں پائی گئیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موسمی تغیر ان کے سُوکھ جانے کی وجہ بنا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔