5 ہزار ادھار واپس نہ لوٹانے پر لڑکی کو قتل کرنیوالے 2 ملزم گرفتار

اسٹاف رپورٹر  بدھ 20 جون 2018
رمشااوربھائی کے موبائل فونزاورآلہ قتل برآمد،والدین اپنے بچوں کے موبائل فون چیک کریں،ایس ایس پی
۔ فوٹو:فائل

رمشااوربھائی کے موبائل فونزاورآلہ قتل برآمد،والدین اپنے بچوں کے موبائل فون چیک کریں،ایس ایس پی ۔ فوٹو:فائل

 کراچی:  نیوکراچی میں ڈھائی ماہ قبل قتل کی جانے والے لڑکی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا قتل میں ملوث مرکزی ملزم سمیت2 ملزمان کو گرفتارکرکے مقتولہ اور اس کے بھائی کے موبائل فون اور آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا مقتولہ 5 ہزار روپے کی مقروض تھی رقم نہ دینے پر ملزم نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر قتل کیا۔

ایس ایس سینٹرل ڈاکٹررضوان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ30 اپریل کو نیو کراچی تھانے کی حدود میں مکان میں 20 سالہ لڑکی رمشا کو قتل اور اس کے چھوٹے بھائی کو شدید زخمی کردیا تھا واقعے کا مقدمہ مقتولہ کی والدہ لبنیٰ کی مدعیت میں درج کرکے تفتیش شروع کی تھی، ایس ایس پی نے بتایا کہ قتل کی واردات کے بعد سے مقتولہ رمشا اور اس کے بھائی وجاہت کا موبائل فون غائب تھا، شروع میں جب پولیس ان دونوں موبائل فونز کو چیک کیا تو دونوں موبائل فون بند تھے پولیس 26 سے31 مئی تک موبائل فون چیک کرتی رہی تو موبائل آن اور کسی دوسری سم پر چل رہا تھا۔

جس پر پولیس آئی ای ایم آئی سے موبائل فون کی لوکیشن معلوم کی اور گھر پر چھاپہ مارکر دانش نامی نوجوان کو حراست میں لیا، دانش نے بتایا کہ موبائل فون محمد حسن آغا نے اسے استعمال کرنے دیا تھا جس پر پولیس نے نشاندہی پر ملزم حسن آغاز کو شامل تفتیش کرکے تفتیش شروع کی تو ملزم حسن آغا نے اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کی رمشا سے گزشتہ 2سال سے دوستی تھی، اس کے رمشا سے گہرے مراسم تھے، ملز م نے بتایا کہ رمشا نے اس سے 5 ہزار روپے ادھار لیے تھے اور جب اس نے رقم کی واپسی کا تقاضا کیا تو رمشا نے ٹال مٹول سے کام لیا اور جب میں اس نے زیادہ زور دیا کہ میں تمہارے گھر آکرتم سے اپنی رقم لوں گا تو رمشا نے کہ اگر تم میرے گھر آئے تو میں شور مچادوں گی اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

جس پر میں نے اپنے دوست عظیم سے مشورہ کیا اور ہم دونوں نے30 اپریل کی دوپہر نیو کراچی پی ٹی ایس ایل کے دفتر کے قریب زیر تعمیر میٹروبس پل کے پاس سے سریے کا ٹکڑا لے کر رمشا کے گھر قصبہ کالونی نیوکراچی پہنچے اور وہاں پر میں نے رمشا سے رقم کا تقاضا کیا تو اس نے میرے سامنے کسی فیضان نامی لڑکے سے بات چیت کی رمشا کی اس حرکت پر میری اس سے تلخ کلامی ہوئی اور میں نے طیش میں آکر اپنے دوست کے ساتھ مل کر رمشا پر سریے کے پے در پے وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی، اسی دوران اس کا چھوٹا بھائی بھی آگیا جو اسے جانتا تھا، ثبوت مٹانے کیلیے اس کے بھائی کو بھی سریے کے پے درپے وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا اور ہم وہاں سے فرار ہوگئے بعدازاں اسے معلوم ہوا کہ رمشا موقع پر دم توڑگئی تھی جبکہ اس کا بھائی زیر علاج رہا اور زندہ بچ گیا، ڈاکٹر رضوان نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کے دوست عظیم کو بھی گرفتارکرلیا۔

زیرحراست دانش کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا، انھوں نے بتایا کہ مقتولہ رمشا کی والدہ کو اس بات کا علم تھا کہ رمشا کی کسی لڑکے سے دوستی ہے اور وہ موبائل فون پر اکثروبیشتر باتیں کرتی تھی لیکن ان دونوں کے تعلقات یہاں تک پہنچ گئے اس کاعلم اس کی والدہ کو نہیں تھا، ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے فوبائل فون چیک کریں سوشل میڈیا اور موبائل فون سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہواہے انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے مقتولہ رمشا اوراس کے بھائی کے موبائل فونزاور آلہ قتل سریے کی راڈ برآمد کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔