صرف پنجاب ہی پاکستان نہیں ہے

نصرت جاوید  منگل 30 اپريل 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

پاکستان اٹک سے شروع ہو کر رحیم یار خان پر ختم نہیں ہو جاتا۔ اس کے تین اور صوبے اور سات قبائلی حصے بھی ہیں۔ 11 مئی کے دن وہاں بھی انتخابات ہونے ہیں۔ آپ مگر ہاتھ میں ریموٹ پکڑ کر ٹیلی وژن دیکھنا شروع کر دیں تو تاثر کچھ یوں بنتا ہے جیسے انتخابی مہم کی ساری گہماگہمی صرف پنجاب کی حد تک محدود ہے۔

مقابلہ بھی صرف دو جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ ایک دوسرے کے بڑی بے رحمی سے لتے لیتے ہوئے نواز شریف اور عمران خان کے درمیان کم از کم ایک بات پر اتفاق بھی نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ آصف علی زرداری نامی ایک شخص ہے۔ نواز شریف صاحب اس بات پر دُکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کی طرف سے پانچ سال تک ذمے دارانہ اپوزیشن کرنے کے باوجود زرداری صاحب اس ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔

عمران خان ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر نواز شریف کی ’’مک مکا‘‘ والی سیاست کو زرداری کے پانچ ’’ضایع شدہ سالوں‘‘ کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔ تبدیلی کے نشان کا اپنے لوگوں سے یہ وعدہ بھی ہے کہ وہ انتخاب جیتنے کے بعد وزیر اعظم بننے کے لیے صدر زرداری سے حلف بھی نہیں لیں گے۔ ان کا یہ وعدہ ان کے دل و جان سے متوالے پرستاروں کو تو بہت پسند آتا ہے۔

مگر پاکستانی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے مجھے اس وعدے کو سن کر یہ خوف لاحق ہو جاتا ہے کہ 11 مئی کا انتخاب Sweep کر لینے کے بعد تحریک انصاف حکومت بنانے کے بجائے آصف علی زرداری کا استعفیٰ لینے کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کر دے گی۔ وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دینے کو تیار تو نہیں ہوں گے۔ ان سے استعفیٰ لینے کے لیے سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلانا پڑے گی جس کی انتہاء پر ’’کسی اور کو‘‘ ایوانِ صدر پہنچ کر زرداری صاحب کو فارغ کرنا پڑے گا۔

دریں اثناء یہ بات تو نواز شریف یا عمران خان کے حمایتی تجزیہ کار بھی مان رہے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں ان دونوں رہنماؤں کی جماعتوں کے حالات زیادہ شاندار نہیں۔ ان صوبوں میں شاید کچھ اور جماعتوں کو مخلوط حکومتیں بنانا پڑیں گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ جماعتیں آصف علی زرداری کے استعفیٰ کا انتظار کیوں کریں گی۔ ان کی اپنی صوبائی اسمبلیاں ہیں جن کے اجلاس انتخابی نتائج آ جانے کے بعد جلد از جلد بلانا پڑیں گے تا کہ وہ اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب کر سکیں۔ باقی دو صوبوں اور مرکز میں حکومت سازی میں تاخیر اس تناظر میں بہت مضحکہ خیز نظر آئے گی۔

اس ضمن میں نواز شریف زیادہ محتاط دِکھ رہے ہیں۔ بار ہا کہہ چکے ہیں کہ انتخابات جیت جانے کے بعد وہ صدر زرداری سے حلف لینے سے ہرگز انکار نہیں کریں گے۔ ایسا کہتے ہوئے انھیں شاید اس امر کا احساس نہیں کہ اسلام آباد میں مقیم سفارتکاروں کی اکثریت بار بار اپنے ملنے والوں سے یہ پوچھنا شروع ہو گئی ہے کہ اگر عمران خان کو 11 مئی کے دن وہ نتائج نہ ملے جو وہ خود اور ان کے حامی اپنے لیے طے کر بیٹھے ہیں تو تحریک انصاف ان نتائج کو تسلیم کر لے گی۔

ایسی ملاقاتوں میں بہت سارے سفارتکار 1977کے حوالے بھی دینا شروع ہو گئے ہیں۔ میں ان صحافیوں میں شامل ہوں جسے یہ سوال بہت تواتر سے تقریباََ روزانہ سننا پڑ رہا ہے۔ اپنے تئیں میں 1977والی صورتحال بنتی نہیں دیکھ پا رہا۔ مگر زیادہ ترسفارتکار میرے تجزیے سے متفق ہوتے نظر نہیں آتے۔ غیر ملکی صحافی اور سفارتکار ابھی تک یہ بھی نہیں جان پائے ہیں کہ نواز شریف یا عمران خان کے برسرِ اقتدار آ جانے کے بعد پاکستان امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلاء کے لیے 2014 تک انتظار کرے گا۔

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ طالبان کو مطمئن کرنے کی خاطر نیا وزیر اعظم امریکی افواج کے افغانستان سے جلد از جلد باہر نکل آنے کا مطالبہ کر ڈالے۔ فرض کریں صدر اوباما یہ مطالبہ تسلیم کر لیں تو کیا پاکستان اپنے زمینی راستوں سے ان افواج کی خیر خیریت سے واپسی کی ٹھوس ضمانتیں دینے کو تیار ہو گا یا نہیں۔ سفارتکار میرے جیسے صحافیوں سے یہ سوالات کرتے چلے جا رہے ہیں لیکن عمران خان یا نواز شریف کی انتخابی تقاریر میں ان کا تذکرہ نہیں ہو رہا۔ وہ دونوں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں دن بدن بڑھتے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں بھی زیادہ فکر مند نظر نہیں آ رہے۔

میری بڑی خواہش تھی کہ پاکستان کی وحدت کے تاثر کو تقویت پہنچانے کے لیے نواز شریف اور عمران خان سندھ اور بلوچستان کے حلقوں سے بھی قومی اسمبلی کے امیدوار بنتے۔ ان دونوں نے اس سے اجتناب برتا۔ عمران خان نے اپنا یکم مئی کو ہونے والا کراچی کا جلسہ بھی منسوخ کر دیا۔ ان دونوں رہنماؤں کے بلوچستان کے ان گیارہ ضلعوں میں جانے کے بھی کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے جہاں کے سیکڑوں اساتذہ نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ اپنی جان کے خوف سے انتخابی ڈیوٹیاں نہیں دیں گے۔

نواز شریف اور عمران خان کا ان اضلاع میں جلسے کرنا انھیں کچھ حوصلہ دے سکتا تھا مگر کسی نے اس معاملے پر سوچا تک نہیں۔ یہ دونوں رہنما تو بس پنجاب اور خیبر پختون خوا سے ووٹ اکٹھے کرنے کے بعد پورے پاکستان پر حکومت کرنے کو تیار بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔