دہشتگردی ختم کرنے کا دعویٰ کرنیوالے نوازشریف خود دہشتگردوں سے ملےہوئے ہیں، الطاف حسین

ویب ڈیسک  جمعرات 2 مئ 2013
ایم کیو ایم کا کوئی عسکری ونگ نہیں نہ ہی ہمیں انگریزوں کے وفاداروں سے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے، الطاف حسین  فوٹو: فائل

ایم کیو ایم کا کوئی عسکری ونگ نہیں نہ ہی ہمیں انگریزوں کے وفاداروں سے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے، الطاف حسین فوٹو: فائل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے نوازشریف خود دہشت گردوں سے ملےہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں لیکن حیرت ہے کہ عسکری ونگ یہاں ہے اور گولیاں پنجاب میں چلتی ہیں۔  

کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران الطاف حسین نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں اقتدار میں آکر ان کا خاتمہ کردیں گے ، حیرت کی بات ہے کہ عسکری ونگ کراچی میں ہیں اور گولیاں بنجاب میں چلتی ہیں، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اقتدار میں آکر وہ دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے کیونکہ وہ تو دہشتگردوں کے ساتھ مل کر ملک میں اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ایم کیو ایم کا کوئی عسکری ونگ ہے اور نہ ہی ہمیں انگریزوں کے وفاداروں سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کی واحد نمائندہ جماعت ہے جوان کے حقوق کے لئے جد وجہد کررہی ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ کراچی کے بزرگوں نے قیام پاکستان کےلئے قربانیاں دیں اورآج کی نسل ملک کے 98 فیصد عوام کو حقوق دلانے کے لئے جدو جہد کررہی ہے، ریاستی آپریشن کے دنوں میں بھی بزرگوں اور خواتین نے حمایت جاری رکھی، جب نائن زیرو پر تالے ڈال دیے گئے تو بزرگوں نے ساتھ دیا،آج بھی ہم پر وہ آپریشن مسلط ہے، ہماری حب الوطنی پر شک کیا جارہا ہے لیکن ہمیں پاکستان کی مخالفت کرنے والوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور اولیائے کرام نے دین کو زبردستی یا تلوار کے ذریعے نہیں پھیلایا بلکہ اپنے اخلاق ، دلائل اور حقیقت پسندی سے لوگوں کو اس کی جانب مائل کیا لیکن آج دہشت گرد اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کے لئے بے گناہ افراد اور فوجیوں کو قتل کرتے ہیں، مساجد، مزارات، بازاروں اور عوامی مقامات پر دہشت گردی کرکے لوگوں کا خون بہاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔