تحریکِ انصاف کلین سوئپ کرسکے گی؟

ایس نئیر  جمعرات 2 مئ 2013
s_nayyar55@yahoo.com

[email protected]

کیا تحریکِ انصاف 11 مئی کو عمران خان کے دعوے کے مطابق کلین سوئپ کرسکے گی ؟ کیا 342 کے ایوان میں تحریکِ انصاف سادہ اکثریت یعنی 172 نشستیں جیت لینے کی پوزیشن میں آسکتی ہے ؟اِس سوال کا جواب جاننے کے لیے بڑے بڑے سیاسی تجزیہ نگار اور سیاسی پنڈت اپنے آزمودہ فارمولوں اور پاکستان کی سیاسی و انتخابی تاریخ کو سامنے رکھ کر اپنے اپنے مقرر کردہ پیمانے کے ذریعے ، ناپ تول کر کے مختلف پیشن گوئیاں کر رہے ہیں ۔

کسی نے یہ پیشنگوئی کر رکھی ہے کہ پی ٹی آئی ، تیس سے پینتیس نشستیں جیت پائے گی ، اِس سے زیادہ ہرگز نہیں۔ کسی نے پی ٹی آئی کو 45 سے 50 نشستوں کا حق دار قرار دے رکھا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی پارٹی اِس پوزیشن میں نہیں ہوگی کہ تنہا حکومت بنا سکے ۔ انتخابی سرویز اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور تبصرہ نگاروں کی اکثریت اِس نقطے پر تقریباً متفق نظر آتی ہے کہ آئندہ حکومت مسلم لیگ ن کی ہوگی یا نواز شریف دیگر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ایک اتحادی حکومت تشکیل دیں گے۔

اور تیسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا تاج اپنے سر پر سجا کر پاکستان کی ایک نئی سیاسی تاریخ رقم کردیں گے۔ لیکن میری ذاتی رائے اِس سلسلے میں قطعی مختلف ہے اور اِس رائے کو قائم کرنے کے لیے میں نے قدیم اور فرسودہ انتخابی فارمولوں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے اور ایسے پیمانوں کی مدد بھی حاصل کی ہے جنکا تعلق نئی ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ سے ہے اور یہ جدید پیمانے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں 11 مئی کو ہونے والے انتخابی معرکے سے قبل کبھی بروئے کار نہیں لائے گئے یا پھر اُن کا کردار معمولی نوعیت کا تھا ۔

تجزیہ نگاروں کی اکثریت آج بھی جدید ذرائع ابلاغ کو نظر انداز کر کے اپنے اُنہی پُرانے فارمولوں کی کسوٹی پر 11 مئی کے انتخابات کے متوقع نتائج کو پرکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِن کی اکثریت کے نزدیک میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن فیورٹ ہیں۔ لیکن میری ذاتی رائے کیمطابق ( جو غلط بھی ہوسکتی ہے ) تحریکِ انصاف با آسانی کلین سوئپ کر جائے گی اور اِس اپوزیشن میں ہوگی کہ تنہا اپنی ایک مضبوط حکومت تشکیل دے سکے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ آنیوالے انتخابات کے نتائج پر جدید ذرائع ابلاغ کے علاوہ کچھ دیگر عوامل بھی شدت سے اثرانداز ہوں گے جو کہ اِس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آئے ۔

جدید ذرائع ابلاغ جن میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا شامل ہیں، انتخابی دنگل میں شریک تمام جماعتوں کا نقطہ نظر بڑے بھرپور انداز میں گھر گھر پہنچا رہے ہیں، لیکن الیکٹرانک میڈیا کا سب سے زیادہ قابلِ تحسین کردار یہ ہے کہ تقریباً تمام ہی چینلز بلامعاوضہ عوام کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے راغب بھی کر رہے ہیں، اِس پہلو پر اتنی سنجیدگی سے ماضی میں کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ لہذا اِس مرتبہ، ٹرن آوٹ پچھلے تمام ریکارڈ توڑدے گا ۔ اِس سے قبل یہ ٹرن آئوٹ کبھی 46 فیصد سے آگے نہیں گیا ۔

یعنی 54 فیصد ووٹرز نے کبھی اپنی رائے کا اظہار ہی نہیں کیا ، جو کہ مجموعی ووٹرز کا اکثریتی حصہ ہے اور فیصلے کا اصل اختیار اِنہی ووٹرز کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ دوسرے عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ اِس مرتبہ ساڑھے چار کروڑ ووٹرز بالکل نئے ہیں جو پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یہ تقریباً مجموعی ووٹ کا پچاس فیصد حصہ ہے۔ یہ وہی ووٹرز ہیں جو گزشتہ پانچ برس سے قوم پر مُسلط پیشہ ور، مکار و عیارسیاستدانوں ، جاگیرداروں ،پیروں ، وڈیروں کی کرپشن کہانیاں بلکہ سچی داستانیںالیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے سُن سُن کر اور اِن سے بیزار ہوکر تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔

جنھیں تحریکِ انصاف نے بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ متحرک کر رکھا ہے۔ تیسرا اثر انداز ہونے والا طاقتور عنصر یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پچھلے پانچ برس میں عوام اِس حقیقت سے واقف ہوچکے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت اگر دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر کولیشن گورنمنٹ بناتی ہے تو تمام اتحادی آپس میں ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے اور مختلف سمجھوتوں کے ذریعے اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کے تمام منصوبے کرپشن کی دیمک چاٹ جاتی ہے ۔

پچھلی حکومت میں عوام لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، بدامنی ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی شکل میں ایک کمزور اور سنگ دل حکومت کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ تجربہ سب سے بڑا اُستاد ہوتا ہے۔ لہذا ووٹرز کی شعوری اور لا شعوری خواہش یہی ہوگی کہ اِس مرتبہ ایک ایسی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے جو ایک مضبوط حکومت تشکیل دے سکے اور اپنی اتحادی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے محفوظ رہ سکے ۔ اِن تمام عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، عوام یقینا کسی ایسی جماعت کے پلڑے میں اپنے ووٹ کا وزن ڈالیں گے یا ایسے لیڈر کا انتخاب کرنا چاہیں گے جس کا کردار بے داغ ہو ، جس پر وہ یقین کر سکیں ، جسے ابھی تک آزمایا نہ گیا ہو ۔

ایسے میں اگر عمران خان اپنی جماعت کے ساتھ ، اپنی انتخابی مُہم اپنے دعویٰ کے مطابق سونامی کی طرح پہلے ہی دِن اُٹھا دیتا ہے، جو کہ اُس نے اُٹھا دی ہے تو وہ باآسانی عوام کے ووٹ اپنی طرف کھینچ سکتا ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ عمران خان گزشتہ دس برس سے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے گھر گھر اپنا پیغام پہنچاتا رہا ہے۔ اُس نے بالکل دُرست طریقے سے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کیا ہے۔ 30 اکتوبر 2011 اچانک نہیں آگئی تھی ۔ پھر اُس نے کم وقت میں پارٹی الیکشن کروا کر پارٹی کارکنوں کو خود پارٹی مالکان میں تبدیل کردیا۔ اِس کے نتیجے میں ہر کارکن انتخابی مُہم میں اپنی جان لڑا رہا ہے ۔

سوشل میڈیا کے ذریعے موبائل فون کی شکل میں کپتان ہر ووٹر کی جیب میں موجود ہے۔ سوشل سیکٹر میں بے لوث خدمت کا قابلِ رشک ریکارڈ اُس کا اثاثہ ہے ۔ موبائل ایس ایم ایس کو اُس نے حریف کے لیے ’’بارودی سُرنگ‘‘ کی طرح استعمال کیا ہے ۔ پھر اُس نے اپنے کھلاڑی ہونے کا زبردست فائدہ یہ اُٹھایا ہے کہ 60 برس کی عمر میں بھی وہ جسمانی طور پر مکمل فٹ ہے ۔ 29 اپریل کو اُس نے 6 جلسوں سے خطاب کیا ، جو کسی دوسرے لیڈر کے لیے ممکن ہی نہیں ہے ۔ اُس کی انتخابی طوفانی مُہم نے بھٹو کی مُہم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ، جو اُنہوں نے 70 کے الیکشن میں چلائی تھی ۔ روزانہ چار سے چھ مختلف شہروں میں اپنے انتخابی جلسوں کے باعث اُسے الیکٹرانک میڈیا پر جو لائیو کوریج مل رہی ہے ، اُس کے سیاسی حریف اتنی کوریج حاصل کر ہی نہیں سکتے ۔

بعض بڑے لیڈر ایک دِن میں ایک جلسہ کور کرتے ہیں اور کپتان 4 سے 6 جلسے کر رہا ہے ، کیونکہ فزیکل فٹ ہے ۔ اب ذرائع ابلاغ کا وہ زمانہ ہے کہ خطاب اگر چیچوں کی ملیاں میں کیا جائے تو ٹی وی کے ذریعے لیڈر کا پیغام پاکستان کے ہر گھر بلکہ بیرون ملک بھی پہنچ جاتا ہے ۔ لہذا کوئی بھی انتخابی جلسہ ، صرف اُسی شہر تک محدود نہیں ہے ، جہاں پر وہ جلسہ منعقد ہو رہا ہے ۔ اب وہ جلسہ ہر گھر میں موجود ہوتا ہے ۔ اِس کے علاوہ کپتان جب بلدیاتی نظام کی بات کرتا ہے اور ارکانِ اسمبلی کو فنڈ نہ دینے کی بات کرتا ہے تو ووٹرز کی سمجھ میں یہ بات با آسانی آتی ہے اور اِس لیے بھی آتی ہے کہ اُس کے حریف مواقعے ملنے کے باوجود بھی یہ سب کچھ نہ کرسکے ، اِنہی عوامل کو مدِ نظر رکھ کر میں یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوں کہ تحریکِ انصاف با آسانی کلین سوئپ کر جائے گی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔