ہم اور ہماری جمہوریت

مبین مرزا  اتوار 8 جولائ 2018
توقع کہ ہم زیادہ بہتر سطح پر جمہوریت پسندی اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں گے۔ فوٹو: فائل

توقع کہ ہم زیادہ بہتر سطح پر جمہوریت پسندی اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں گے۔ فوٹو: فائل

حقائق بتاتے ہیں کہ ہم نے من حیث القوم بہت زیادہ عرصہ بادشاہوں کی رعیت کے طور پر گزارا ہے، لیکن اب ہم بہت حد تک اُن حالات اور اجتماعی رویوں سے نکل کر جمہوریت پسند ہوچکے ہیں۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قومی سطح پر اس سلسلے میں ہماری کسی تربیت کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا، اس کے باوجود ہم نے بڑے بڑے قومی یا اجتماعی معاملات میں جس طرزِاحساس اور جس اندازِِنظر کا اظہار کیا ہے، وہ بجائے خود اور واضح طور پر ہماری جمہوریت پسندی کا مظہر ہے۔ جمہوریت پسندی کے اس رویے کا اظہار ہمارے یہاں سام راجیت اور استعماریت کے آخری زمانے میں ہی خاصے نمایاں انداز سے ہونے لگا تھا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسی جمہوریت پسند رجحان نے اس عوامی قوت کا اظہار کیا تھا جو بعد ازاں برِصغیر کے عوام کو آزادی کے حتمی اور فیصلہ کن مراحل تک لے کر آئی تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو قیامِ پاکستان کے پس منظر میں بھی جمہوری طاقت کارفرما نظر آتی ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ہمارا اجتماعی، قومی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب یہ توقع کہ ہم زیادہ بہتر سطح پر جمہوریت پسندی اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں گے، ہرگز غلط نہ تھی، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ اس توقع کے بالکل برعکس تھا۔ حالات و حقائق نے آگے بڑھ کر جو نقشہ ابھارا، وہ تو علی الاعلان کہتا سنائی دیا کہ کیسے جمہور اور کہاں کی جمہوریت پسندی، سب طاقت و جبر کا تماشا ہے۔ اس لیے کہ اپنے یہاں ہمیں بار بار اور مختلف شکلوں میں جبر کے ڈنڈے کا کھیل دیکھنے اور آئین و اقدار کو کچلتے بوٹوں کی دھمک سننے کو ملتی ہے۔ یہ کئی بار کا دہرایا ہوا منظر ہے، اور اُس ریاست و مملکت میں کہ جو نامِ خدا آزادی، اختیار، امن آشتی، بھائی چارے، محبت اور انسانیت کے فروغ کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ سوچنا چاہیے، دیکھنا اور پوچھنا چاہیے کہ آخر ایسا کیا اور کیوں ہوا کہ ہمارے یہاں یہ الٹی گنگنا بہنے لگی۔

ماننا پڑتا ہے کہ جب اور جس طرح ہمارے یہاں سے لیاقت علی خاں رخصت ہوئے تھے، تب اور اسی طرح جمہور اور جمہوریت کی بساط بھی لپٹتی چلی گئی تھی۔ اس کے بعد جو ماحول بنا اور جو نقشہ ابھرا وہ جبر، مطلق العنانیت اور ڈکٹیٹر شپ کا ہے۔ افسوس صد افسوس! یہ نقشہ اُن ادوار میں بھی اسی انداز سے قائم نظر آتا ہے جب ہمارے یہاں جمہوری حکومتیں اختیار و اقتدار کی حامل نظر آتی ہیں۔ سوال کیا جانا چاہیے: لیکن جمہوری حکومتوں میں کیوں؟ یہ مختصر سا سوال ہے، لیکن اس کا جواب بہت تفصیل چاہتا ہے۔ اِس لیے کہ اس میں بہت سے اگر مگر اور چوںکہ چناںچہ جیسے سابقے اور لاحقے لازمی طور سے گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔ بس اختصار سے یہ سمجھ لیجیے کہ آزادی سے پہلے ہم اُن کے رُو بہ رُو اور اُن سے دُو بہ دُو تھے جن سے ہمارا اختلاف اور مسابقت کا رشتہ تھا، اور آزادی کے بعد ہم اپنی سادگی یا اندھے اعتماد کی وجہ سے اُن کے نرغے میں آگئے جنھیں ہم اپنا سمجھتے تھے، لیکن وہ دراصل مفاد پرست اور طالع آزما لوگ تھے۔ انھیں اپنی قومی طاقت، ملکی مفاد اور جمہور کی فلاح اور خوش حالی سے قطعاً کوئی غرض نہ تھی۔ وہ صرف اور صرف اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتے تھے، چاہے ملک اور قوم کو اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔

یہ کھیل ہمارے یہاں لیاقت علی خاں کے بعد شروع ہوا تھا اور آج تک جاری نظر آتا ہے— لیکن اب ایک قطعیت کے ساتھ حالات کی کروٹ اور حقائق کا بدلتا ہوا رخ یہ بتا رہا ہے کہ اب اس کھیل کے خاتمے اور اس میں شامل کھلاڑیوں کے انجام کو پہنچنے کا وقت آگیا ہے۔ وہ مرحلہ اب بہت زیادہ دور نہیں ہے کہ جب یہ طالع آزما کھلاڑی اپنی اصلیت کو کسی بھی طور چھپا نہیں پائیں گے اور عوام کی عدالت سے انھیں بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ یہ اپنی قسمت کا فیصلہ سن کر اور اپنے اعمال کے نتائج کا پرچہ بائیں ہاتھ میں لے کر پابہ زنجیر اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔ انھیں جمہور کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی طاقت کے آگے سر کو جھکانا پڑے گا۔ ممکن ہے، کچھ لوگوں کو فی الوقت یہ سب باتیں ابھی ایک طرح کی خوش گمانی کا اظہار معلوم ہورہی ہوں، لیکن آپ دیکھ لیجیے گا، آنے والے دنوں کے حالات آپ کو جلد ہی ان حقائق کے عملی نمونے پیش کریں گے۔

دیکھیے، اس کے تو آپ خود چشم دید گواہ ہیں کہ ساٹھ برس بعد ہی سہی، لیکن ہمارے یہاں اب یہ عمل شروع ہوچکا ہے اور اس کا مشاہدہ بھی ہم سب کررہے ہیں کہ گزشتہ دو قومی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے۔ کسی رکاوٹ اور عذر کے بغیر ان دونوں حکومتوں نے اگلے انتخابات کے مرحلے تک اپنا کردار ادا کیا ہے۔

نئی سیاسی و جمہوری حکومت کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ ہم فی الحال اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ کام انھوں نے کس حد تک دیانت داری اور اخلاص سے کیا ہے اور اپنا کردار کتنی ذمے داری سے نبھایا ہے۔ اس لیے کہ اپنی جگہ خود یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں ہے کہ ساٹھ برس بعد ہی سہی، لیکن یہ کام ہمارے یہاں شروع تو بہرحال ہوگیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان دونوں حکومتوں کے اقتداری دورانیے میں وزیرِاعظم نااہل قرار پائے اور نکال باہر کیے گئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان حکومتوں کی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہی۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دونوں حکومتوں میں بعض نمائندہ حکمران جو وزیرِمملکت اور صوبائی وزیر کے عہدوں پر فائز رہے، کرپشن کے الزام میں، اپنی حیثیت و حد سے تجاوز کرنے کے جرم میں، ملک و قوم کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں اپنے عہدہ و اختیار سے الگ کیے گئے۔ اس کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ ان دس برسوں میں جمہوری حکومتیں اور ان کے نمائندہ افراد پسِ پردہ کام کرنے والی غیرجمہوری قوتوں کے آلۂ کار بھی بنے اور یہ کوشش کی کہ وہ ان قوتوں کی مدد سے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے میں کام یاب ہوجائیں، اور یوں انھوں نے اپنے یہاں جمہوری عمل کو خود ہی نقصان پہنچایا اور دانستہ خود اپنے ہی ہاتھوں جمہوری قدروں کی نفی کی اور جمہوری قوتوں کو کم زور کرنے میں اُن لوگوں کی معاونت کی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈان لیکس، وکی لیکس، پانامہ پیپرز وغیرہ نے ان نام نہاد جمہوری جماعتوں اور ان کے سرکردہ افراد کے چہروں سے نقاب نوچ کر پھینک دیے اور یہ اپنے اصل روپ میں ہمارے سامنے آگئے۔ اس امر کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ اس عرصے میں فاشسٹ قوتوں نے مختلف بہروپ بھر کر کبھی مذہب اور کبھی عوامی حقوق کے نام پر جمہوری نظام کو زک پہنچانے کی اپنی سی پوری کوشش کی اور ایک حد تک وہ اس معاملے میں بظاہر فائدہ بھی اٹھانے میں کامیاب رہیں۔ یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اب جو سیاست دانوں کے مال و متاع اور احوال و آثار کی چھان پھٹک ہونے لگی ہے تو حقائق سامنے آئے اور معلوم ہوا کہ ملک و قوم کی تقدیر سنوارنے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں میں کتنے ہی ایسے ہیں کہ جو غیر ملکوں کی شہریت حاصل کیے ہوئے بیٹھے ہیں اور بڑے بڑے اثاثے باہر منتقل کرکے ملک و قوم کو بھاڑ میں جھونک کر اپنے مستقبل کے معاشی تحفظ کا سامان کیے بیٹھے ہیں۔ یہ سب باتیں سچ ہیں اور ان میں سے کسی کی کوئی توجیہہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی نفی۔ تاہم ہمارے عہد کے سیاسی منظرنامے کی کل حقیقت صرف اتنی نہیں ہے اور نہ ہی اُس کے معاملات اور واقعات کا دائرہ صرف ان امور تک محدود ہے۔ دیکھنے اور غور کرنے کے لیے اور بہت کچھ بھی موجود ہے اور ہمیں اسے بھی تحمل اور توجہ سے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

سچی بات یہ ہے کہ ان دونوں جمہوری ادوار میں جب ہم حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت روزِروشن کی طرح نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ غیر جمہوری اور جابر قوتوں کے لیے اُن کی درپردہ ساری کوششوں کے باوجود اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ آئین کو روندتے ہوئے جمہوری حکومتوں کو جب چاہیں اور جس طرح چاہیں یرغمال یا مفلوج بناکر ایک طرف ڈال دیں، جمہور کے حق پر ڈاکا ڈالیں، آئین پر شب خون ماریں اور راج سنگھاسن پر آبراجیں۔ ذرا اطمینان سے دیکھیے اور سوچیے کہ آخر یہ جمہوری قوت کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے۔

یہ بھی سیاسی جمہوری قوت کا اظہار ہے کہ ان دونوں جمہوری ادوار میں ان سیاسی حکومتوں کے وزیرِاعظم نااہل ہوئے اور گھر بھیج دیے گئے اور اقتدار کی طاقت رکھنے کے باوجود ان حکومتوں کو عدالتِ عالیہ کے ان فیصلوں کو مانے ہی بنی۔ پھر دیکھیے کہ یہ جمہوریت کے استحکام کا ہموار ہوتا راستہ ہی تو ہے کہ مذہبی اور سیاسی نام پر دھرنوں کی دھماچوکڑی مداری کے تماشے سے زیادہ کچھ بھی دکھانے اور حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی جمہوری قوت کا مظہر ہے کہ جنرل راحیل شریف حالات اور واقعات کو حکومت کے خلاف پاتے ہیں، لیکن حکومت کی معزولی اور فوج کے اقتدار میں داخل ہونے کے فیصلے سے گریزاں رہتے ہیں۔ یہ بھی جمہوریت کا فیض ہے کہ جنرل مشرف ایک سیف ایگزٹ لے کر جب ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو حالات کو دیکھتے ہوئے دوبارہ واپسی کا فیصلہ یا اپنے نام نہاد چاہنے والوں سے کیا گیا وعدہ بار بار کے اعلان کے باوجود عملاً پورا نہیں کرپاتے۔ یہاں تک کہ انھیں بڑے طمطراق سے بنائی گئی سیاسی پارٹی کی سربراہی بھی چھوڑنی پڑتی ہے اور وہ خاموشی سے یہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لیتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں جمہوری نظام اب اُس ٹریک پر ہے کہ جہاں اسے ڈی ریل کرنا آسان نہیں ہے۔

یہ بھی تو جمہوری قوت کا ثبوت ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور چیف جسٹس ثاقب نثار کو عوامی مفاد اور ملکی استحکام کے لیے اپنے منصب کے لیے وہ قوت محسوس، بلکہ حاصل ہوجاتی ہے کہ وہ سوموٹو اقدامات میں ہر ممکن حد تک جاسکتے ہیں۔ یہ جمہوری طاقت کا فیض ہی تو ہے کہ اُن کے فیصلوں کے آگے سیاست داں، بیوروکریٹ اور بعض دوسری قوتیں بھی کھڑی نہ ہونے اور انھیں بہرحال قبول کرلینے میں ہی عافیت محسوس کرتی ہیں۔ یہ بھی مستحکم ہوتی ہوئی جمہوریت کا مظہر ہے کہ سیاست دانوں کو غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے ملنے والی سیاسی رشوت کا مقدمہ عدالت تک آجاتا ہے اور اس کی سماعت شروع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جمہوریت کا استحکام ہے کہ آصف علی زرداری ایک انٹرویو میں صاف لفظوں میں کہہ ڈالتے ہیں کہ انھوں نے جنرل کیانی کو 500 ملین ڈالر دیے تھے۔ کیوں دیے تھے اور کیا اہداف مقرر تھے، رقم کس مد سے آئی تھی اور کہاں پہنچانی مقصود تھی، کوئی مضائقہ نہیں ہے، یہ تفصیلات بعد میں آجائیں گی، سرِ دست ایک واقعہ تو ریکارڈ پر آگیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی سے لے کر حالیہ دور تک عدالتِ عالیہ کے فیصلوں اور اقدامات تک، نیب کے فعال ہونے اور کارکردگی دکھانے تک، سینیٹر پرویزرشید اور مشاہداللہ کی عہدوں سے علاحدگی اور دانیال عزیز کی نااہلی تک، اور اسی طرح ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کے اندراج، اسٹیل مل، پی آئی اے اور پی ٹی وی جیسے اداروں کی نج کاری کے اقدامات کی راہ میں مزاحمت، سیاست دانوں کے اثاثہ جات کے ریکارڈ اور ان کی غیرملکی شہریت کے سوال پر حالات کا بدلتا ہوا رخ— ذرا تحمل سے ان سب حقائق وواقعات کے عقب میں دیکھا جائے تو جمہوری عمل، جمہوری ادارے اور جمہوری قوتیں ہی تو کارفرما نظر آتی ہیں۔ جمہوریت نے اگر قوت، صلابت اور استحکام کا راستہ اختیار نہ کیا ہوتا تو ہمارے ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ میں کیا ایسے اقدامات اور یہ حالات ممکن ہوسکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔

یہ سب باتیں تو ہیں، لیکن ان کے ساتھ گذشتہ دنوں دو چار واقعات اور بھی ایسے ہوئے جو ہمارے بہتر عوامی شعور اور جمہوری عمل کی ایک سطح پر تطہیر کا اعلان بڑے واشگاف لفظوں میں کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آپ نے اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے یہ خبر سنی اور اس کا عملی نمونہ دیکھا ہوگا کہ مسلم لیگ کے رانا افضل، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری اور نبیل گبول جیسے جانے پہچانے لیڈر جو اپنی پارٹی کا چہرہ بنے ہوئے ہیں، جب انتخابی مہم کے لیے اپنے حلقوں میں پہنچے تو عوام نے اُن کا استقبال سخت ناپسندیدگی کے رویے کے اظہار کے ساتھ کیا۔ اُن کی آمد پر اپنے غصے اور ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُن پر پتھر، ڈنڈے اور جوتے برسائے، یہاں تک کہ وہ جس جلسے اور جلوس کے لیے آئے تھے، وہ نہ ہوسکا اور مکمل ناکامی سے دوچار ہوا۔ یہ سراسر عوامی شعور اور جمہوری قوت کا اظہار ہے۔ یہ ردِعمل دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اب نہ صرف حقائق کو عوام سمجھ رہے ہیں، بلکہ ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے بارے میں اپنا احساس بھی سامنے لارہے ہیں۔ یہ عمل ہمارے یہاں یقینا بہت تاخیر سے شروع ہوا ہے، لیکن اب ہوگیا ہے تو آپ جلد اس کے وہ نتائج بھی دیکھ لیں گے جو قومی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ حالات ابھی ویسے نہیں ہیں جیسے ایک مستحکم جمہوری ملک کے ہوسکتے ہیں یا ہونے چاہییں، اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں من الحیث القوم اپنی جمہوریت پسندی اور جمہور کی طاقت کے اظہار کے لیے اور بہت کچھ کرنا ہے۔ یہ تو ابھی صرف اُس راستے پر سفر کا آغاز ہے، جس پر کہیں بہت آگے چل کر ہمیں منزل ملے گی، لیکن حالات کے اس نئے ابھرتے ہوئے منظرنامے کو ہمیں طمانیت کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ اس پر مثبت رویے کا اظہار کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے تک اپنے اثباتی جذبے کو پہنچانا چاہیے کہ اب ہم جس صورتِ حال میں اور جس راہ پر ہیں، یہ ہمیں صحیح سمت کی طرف لے کر آگے بڑھے گی۔ ہمیں منفی رویوں اور مایوس کن احساسات سے گریز کرنا چاہیے اور ان کا راستہ روکنا چاہیے۔ اس لیے کہ مایوسی، منفی خیالات اور ڈپریشن کی باتیں بھی ہمارے یہاں دراصل وہ افراد، ادارے اور قوتیں پھیلانا چاہتی ہیں جو ہمیں اپنے ٹریک سے ہٹانے اور اندھیروں میں دھکیلنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا اور اس کے شعور کو عوام میں عام کرنا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔