پرانی سیاست گری خوار ہے

رئیس فاطمہ  ہفتہ 4 مئ 2013

ہم بھی کتنے عجیب لوگ ہیں… شاید ہمارے حافظے جواب دے چکے ہیں، یا شاید ہمارے طالع آزما لیڈر اور سیاست دان ایسا سمجھتے ہیں… جبھی تو گزشتہ کئی برسوں سے جو افتاد عوام پر ہر ممکن طریقے سے پڑی ہے اس کے باوجود الیکشن سے پہلے جہازی سائز کے اشتہارات اور ان میں دکھائے گئے ترقی اور خوشحالی کے دعوے…!! صرف اور صرف لفظوں کی بازی گری…؟ اعداد کا الٹ پھیر…؟ یا یہ کہ ان کی نظروں میں عوام دو کوڑی کی چیز ہیں وہ پھر ان نعروں سے خوش ہوجائیں گے…!! کچھ کو زعم ہے کہ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں سخاوت کے جو دریا بہائے اس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی… کیونکہ انھوں نے ’’پہیہ‘‘ جام نہیں ہونے دیا… ترقی اور خوشحالی کی ’’روشنی‘‘ ہر طرف دکھائی دے رہی ہے۔

گھر گھر میں ضرورت مندوں کو اناج اور ضروریات زندگی کی ہر شے مہیا کردی گئی، کوئی بھوکا نہیں سوتا، اب کوئی کوڑے کے ڈھیر میں سے شیر مال، خمیری روٹی اور برگر کے ٹکڑے چن کر نہیں کھاتا… البتہ ترقی اور خوشحالی کے نظارے صرف اشتہاروں میں نظر آتے ہیں… عام زندگی میں ان دعوئوں کا کوئی وجود نہیں… ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ حالات بدل جائیں گے، کوئی نجات دہندہ آئے گا اور امن و آشتی کا پرچم لہرائے گا… اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا… لیکن باشعور اور سول سوسائٹی کے لوگ جانتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، اس ملک میں جو بڑی قربانیوں سے حاصل کیا گیا، اس پر شروع ہی سے مفاد پرست ٹولے کا قبضہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ الیکشن سے کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے، کیونکہ ہماری تقدیروں کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، سب کو اپنی اپنی کرسی پکی کرنی ہوتی ہے، خواہ اس کے لیے لوگوں کو آپس میں لڑانا پڑے، اسلام کا نعرہ لگانا پڑے یا ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی دینے کے عوض اپنے اقتدار کی مدت میں اضافہ مانگ لیا جائے… سب نے نقابیں پہنی ہوئی ہیں۔

لیکن جو کئی کئی بار مسند اقتدار پر جلوہ افروز رہے وہ کس دیدہ دلیری سے اپنے اپنے دور کو ’’سنہرا دور‘‘ قراردے رہے ہیں… لاشوں کی سیاست ہورہی ہے، مرے ہوئے لوگوں کے ذریعے ووٹوں کی بھیک مانگی جارہی ہے… وہ عوام جو مسلسل قطاروں میں کھڑے ہوکر بجلی اور گیس کے بل دیتے ہیں، اندھیرے ان کا مقدر ہیں اور جو کروڑوں کے بل ادا نہیں کرتے، اربوں کے قرضے معاف کرواتے ہیں، ان کے گھر برقی قمقموں سے روشن ہیں، خوشحالی کے فرشتے ہمارے ملک میں صرف ارکان اسمبلی کے دروازوں ہی پہ دستک دیتے ہیں، کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کیا ان اقتدار کے بھوکے لوگوں میں ذرا بھی شرم باقی نہیں ہے جو یہ اپنے تمام تر سیاہ کرتوتوں، کرپشن، لوٹ مار، اقربا پروری اور میرٹ کے قتل عام کے باوجود ووٹ کے لیے کشکول پھیلائے کھڑے ہیں اور ان کشکولوں میں سے بہت کچھ ان کی جھولیوں میں بھی گرا ہے اور گرتا رہے گا، جن کی فہرست سامنے آچکے ہے۔

حالانکہ یہ نام سامنے نہ آتے تب بھی ’’تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں‘‘ کے مصداق ان کی تحریروں سے ہی بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کشکول سے کتنا کچھ کس جھولی میں گرا ہے، یہ کھیل ہے اقتدار کا… سیانے کہتے ہیں کہ ہم پر برا وقت اس لیے آیا ہے کہ ہم خود اپنے آپ سے مخلص نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے خود اپنے اوپر ہمیشہ ایسے نا اہل لوگ مسلط کیے جن کا دین وایمان صرف پیسہ تھا… وہ لوگ گاہے گاہے جن کے نام کشکول سے گرے دانے کھانے والوں میں سامنے آتے رہتے ہیں، وہی ایسے لوگوں کو اقتدار میں لانے کے ذمے دار بھی ہیں، فرض شناسی، ایمان داری، وطن کی محبت اب صرف کتابوں تک محدود ہے یا شعرا کے کلام تک… جب تک بکنے والے لوگ اپنا نیلام کرتے رہیںگے، خریدار ملتے رہیں گے… کون بے وقوف ہوگا جو گھر آئی دولت کو ٹھکرادے… اگر کوئی صاحب ضمیر ’’لکشمی‘‘ کو ٹھکرانے کی کوشش بھی کرے تو دوسرا فوراً اسے احساس دلائے گا کہ… بھائی تم یہ کام نہیں کروگے تو کوئی اور کرلے گا، کیوں اپنا نقصان کرتے ہو، تم اکیلے اس سسٹم کو نہیں بدل سکتے اور پھر وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار ہوجائے گا۔ ان خدمات کے عوض کبھی انھیں ایوارڈ سے نوازا جائے گا، کبھی کوئی لیڈر اپنے ساتھ دوروں پر لے جائے گا، تاکہ واپسی پر وہ اپنی تحریروں میں اس کا قصیدہ لکھ سکیں۔

’’الیکشن ہماری تقدیر بدل سکتے ہیں‘‘ یہ راگ وہی الاپ رہے ہیں جنھیں ایسا کرنے کے لیے ڈیوٹیاںلگائی گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ’’مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘‘ کیونکہ پاکستان میں موروثی اور خاندانی سیاست کی کالی بلا نے بڑی بے رحمی سے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں، اخلاق، کردار اور شرافت کا کیا لینا دینا، اس ملک کے الیکشن سے ذات، برادری، جرگہ سسٹم، قبائلی رسم و رواج اور صوبائی و نسلی تعصب کی بدولت اسکول ٹیچر پر بہ نفس نفیس تشدد کرنے والے کے کاغذات منظور ہوجاتے ہیں، جعلی ڈگریوں والے سرخرو ہورہے ہیں اور اصلی ڈگری ہولڈر نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھررہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ سولہ سال تک پڑھنے اور محنت کرنے کے باوجود ایک کلرکی تک نہیں ملی! اور جعلی ڈگری والے اب ہمارے قسمتوں کا فیصلہ کریں گے… تو پھر اتنی ریاضت اور محنت کس کام کی، جو ایک اچھی نوکری نہ دلاسکے…؟ پھر یہ سوچ کرپشن سے محبت کو جنم دیتی ہے اور لوگ مسترد شدہ لوگوں کے لیے نعرے لگانے لگتے ہیں۔

ایک صاحب اپنی دو بیویوں، دو بیٹیوں اور بھتیجے سمیت الیکشن لڑرہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح حکومت میں شامل رہیں، کسی نے بیٹی کو کھڑا کیا، کسی نے بھائی، بھاوج اور بھانجوں، بھتیجوں کو… پرانا ریکارڈ اٹھاکر دیکھ لیجیے، یہ جو اقتدار کی بندربانٹ میں شریک ہیں ان کا کوئی نہ کوئی رشتے دار مختلف پارٹیوں میں موجود ہیں۔ بظاہر مخالفت… اندر ہی اندر ایک دوسرے کے ساتھی۔ میری نظر میں سب سے زیادہ خطرناک آزاد امیدوار ہوتے ہیں جو کامیاب ہونے کے بعد اپنا بھائو خود طے کرتے ہیں، انھیں کوئی بھی خرید سکتا ہے، کیونکہ ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا سوائے اپنے ذاتی فائدے کے، ہوسکتا ہے ماضی میں کسی آزاد امیدوار کی ایسی بھی مثال ملتی ہو جو سودے بازی کا قائل نہ ہو اور واقعی اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہو… لیکن مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان نہیں۔اس ملک میں الیکشن سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے کیونکہ جب تک ملک سے خاندانی اور موروثی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوتا کسی بھی قسم کی خوش فہمی بے کار ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ صنعتی ترقی ہوئی تو ایک ڈکٹیٹر کے دور میں، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو آزادی ملی تو بھی ایک ڈکٹیٹر کے  دور میں… کسی نام نہاد سویلین حکومت کا اگر کوئی کارنامہ ہو تو ہمیں یاد نہیں، البتہ جن کی جیبیں بھری ہیں وہ ریت کی پوری میں سے سوئی تلاش کرکے لے آئیںگے اور ترقی و خوشحالی کی ایسی ایسی مثالیں پیش کریںگے کہ عقل دنگ رہ جائے گی… ہماری ’’جمہوری‘‘ حکومتوں نے صرف اور صرف نفرت، تعصبات، علاقائی سیاست، اقربا پروری اور رشوت کو فروغ دیا۔

حقیقت تو یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ میں اکثریت نوابوں اور جاگیرداروںکی تھی انھیں اپنی بقا منظور تھی، اسی لیے انھوں نے جاگیرداری نظام کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا، اسمبلی میں کوئی بل منظور نہیں کرایا جب کہ بھارت نے 1954 ہی میں جاگیرداری نظام کا خاتمہ کردیا تھا۔ لیکن پاکستان میں ان بچے کچھے نوابوں کو ماہانہ اخراجات کے لیے کثیر رقم ملتی رہی، سندھ اور پنجاب میں میلوں چلتے چلے جائیے، جاگیرداروں اور وڈیروں کی زمینیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں اور دعویٰ ہے ’’غریبوں کا لیڈر‘‘ نہیں بلکہ ’’نجات دہندہ‘‘ ہونے کا۔

دانشور کہتے ہیں کہ آدھا خالی گلاس مت دیکھو… بلکہ یہ دیکھو کہ گلاس آدھا بھرا ہوا بھی ہے۔ کیونکہ یہی رجائیت ہے اور پھر زندہ رہنے کے لیے کسی نہ کسی امید کا ہونا ضروری ہے… لیکن جب گلاس بالکل خالی ہو تو انسان کیا کرے…؟ پاکستان کی صورتحال بھی اس خالی گلاس کی طرح ہے جس میں ایک قطرہ پانی نہیں…!! 1947 میں تو پانی بہت تھا لیکن مفاد پرست طبقے اور خاندانی سیاست کے رکھوالوں نے ملی بھگت سے گلاس کا سارا پانی اپنے محلات کے لان میں، اپنی فیکٹریوں میں، اپنے اپنے سوئمنگ پولوں میں جلدی جلدی بھرلیا… اور گلاس خالی ہوگیا… جنرلوں کے گملوں میں اگنے والی پنیریوں کی طرح کے لیڈر جمہوریت اور عوامی فلاح و بہبود کی باتیں کرتے اچھے نہیں لگتے۔ جمہوریت کے یہ چیمپئن خودساختہ لیڈر ہیں، کوئی دوسرا ان کی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا، ایسا تو سوچنا بھی محال ہے، کسی ڈر خوف یا قانون کی پاسداری کرنے کی وجہ سے الیکشن کروانے بھی پڑجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ’’ورکرز‘‘ کو پتہ ہے کہ کسی نے ان کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کی تو حشر کیا ہوگا؟ ڈکٹیٹر  تو بے چارے یونہی  بدنام ہیں، اصل ڈکٹیٹر شپ کے نمائندے تو مختلف سیاسی ، لسانی ، فسطائی و مذہبی پارٹیوں کے لیڈر خود ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔