ہمارے ٹیلی ویژن ڈراموں کا وارث کون ہوگا؟

خضر حیات  پير 9 جولائ 2018
ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے کے وقت شہروں کی سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے کے وقت شہروں کی سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ازراہِ تفنن قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی ایک وجہ غیر معیاری ڈراموں اور گھٹیا پروگراموں کا آن ایئر ہونا بھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران بغیر روک ٹوک کے کچے پکے میڈیا کونٹینٹ کا نشر ہونا ہوائی فضا کو مسلسل متعفّن کر رہا ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ ان پروگراموں اور ڈراموں پر فوری طور پر اگر کوئی روک ٹوک نہ لگائی گئی تو حالات ایسے ہو جائیں گے کہ دن کی روشنی میں بھی کچھ سُجھائی نہیں دے گا۔ نشریاتی آلودگی ریالٹی کو پوری طرح دُھندلا دے گی اور پاس کے ڈھول بھی سہانے لگنے لگیں گے۔

اصل بات یہ ہے کہ فضاء اس قدر آلودہ ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کس کس چیز پر سر پیٹیں۔ عصرِ حاضر کا میڈیا ایک طرف دن رات نشر کی جانے والی خبروں، تبصروں اور تجزیوں کی مدد سے ایک خاص طرح کی فضاء تخلیق کر رہا ہے تو دوسری جانب ٹیلی ویژن ڈرامے بھی کچھ زیادہ مختلف کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ زمینی حقائق سے دُور دُور کا بھی تعلق نہ رکھنے والے مسائل پر درجنوں قسطوں کے سیریل بنائے جا رہے ہیں اور دکھائے جا رہے ہیں۔ خواتین کے مسائل پر بات کرنے کے نام پر عورت کو مظلوم ترین بنا کے پیش کرتے جاؤ اور اس کے دل میں انتقام کا جذبہ پیدا کرکے معاشرتی مساوات کو بگاڑتے چلے جاؤ۔ ہمارے معاشرے کی عورت کو اس حد تک بدظن کر دو کہ وہ اپنے ہر رشتے پر شک کرنے لگے۔ اسے یہ دکھایا جائے کہ وہ کسی پر بھی اعتبار نہیں کر سکتی۔ محبت کے نام پر اسے ہمیشہ استعمال ہی کیا جائے گا اور محبت حقیقت میں چاہے کچھ بھی ہو، لیکن اگر ایک مرد اس کا اظہار کرے گا تو لازمی سی بات ہے وہ محض آپ کا فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے، اپنی جسمانی بھوک مٹانے کےلیے ڈورے ڈال رہا ہے۔

یہاں دکھایا جاتا ہے کہ ہر آدمی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے کیونکہ پہلی شادی اس کی مرضی کے برخلاف خاندان والوں نے اپنی پسند سے کی ہوتی ہے، لہٰذا ارینج میریج کی تو قسمت میں لکھ دیا گیا ہے کہ اس نے ناکام ہونا ہی ہونا ہے۔ مرد اور عورت کے باہمی تعلق میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی باقی تمام وجوہات کو نظرانداز کرکے محض ایک ہی وجہ کو تمام کیسز پر اپلائی کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ منطق کی زبان میں اسے عجلت میں کی گئی عمومیت سے پیدا ہونے والا مغالطہ (The Fallacy of Hasty Generalization) کہیں گے۔

مذکورہ بالا کے علاوہ جو چند ایک دیگر پاپولر تھیمز ہیں ان میں سرفہرست یہ ہے کہ حسد سب سے مضبوط جذبہ ہے۔ بھارتی ٹیلی ویژن ڈراموں سے ہم نے خودساختہ اور چھینی ہوئی وراثت میں جو مصالحے حاصل کئے ہیں یہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ اور پھر یہ بھی دکھاتے جاؤ کہ کسی ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی تمام انسانی رشتے ناقابل اعتبار ہیں۔ لکھنے اور ڈرامہ بنانے والے کی نظر میں اس سے شاید معاشرہ مضبوط ہوتا ہوگا۔

انسانی تعلقات اور معاملات سے متعلق ڈرامہ لکھنے والا خودساختہ سوشل سائنٹسٹ بند کمرے میں بیٹھ کر اپنا نظریہ عوام کی بڑی تعداد کے ذہنوں پر نقش کر رہا ہے۔ ساس بہُو، دیور بھابھی اور دیگر سبھی رشتوں کو محدب عدسے کے نیچے رکھا جاتا ہے اور اس عدسے میں سے وہ رشتے جس شکل میں بھی لکھنے والے کو نظر آتے ہیں، لکھنے والا ساری خلقت کو دکھاتا جاتا ہے۔ ذرا دیر غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ موجودہ ڈرامہ نگاروں کا لکھا ہوا ایک ایک مکالمہ مشاہدے کی شدید کمی کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے۔ آپ کی بیشتر زندگی بڑے شہروں میں رہتے ہوئے گزری ہے مگر آپ ڈرامہ لکھ رہے ہیں تھل کی معاشرتی زندگی پر یا بلوچستان کے سیاسی حالات پہ۔ اچنبھا تو ہوگا ہی! اور پھر جس جس انداز کے سیٹ دکھائے جاتے ہیں ان سے مصنوعی پن چھلک چھلک کے باہر آ رہا ہوتا ہے۔

ایک ایسی فضا جہاں ان گنت چینلز پر ہر روز بے پناہ ڈرامے بازی چل رہی ہو، جہاں ڈراموں کی ایک بڑی تعداد اسی قسم کے مسائل پر بات کر رہی ہو اور یہ ڈرامے سال ہا سال تک چلتے جائیں تو دیکھنے والوں کے ذہنوں پر جو اثر پڑے گا، اس کا اندازہ لگانا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ٹیلی ویژن ڈرامہ ایک بہت ہی مضبوط میڈیم ہے جو ملکی آبادی کی بڑی اکثریت کو ایک وحدت میں پِرو سکتا ہے۔ معاشی اعتبار سے لوئر کلاس ہو، لوئر مڈل ہو یا پھر مڈل کلاس؛ ان تینوں کلاسوں کو آپ ڈرامے کے ذریعے ایک لڑی میں باندھ سکتے ہیں۔ ان کی ذہنی تربیت کر سکتے ہیں انہیں صحت مند تفریح فراہم کر سکتے ہیں اور انہیں مثبت سوچنے پر قائل کر سکتے ہیں۔

یہ سب کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن تقریباً 40 سال تک یہی کچھ کرتا رہا ہے۔ ہمیں اب بھی ہمارے بڑے اس طرح کی باتیں بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے کے وقت شہروں کی سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ ایک ایسی ہی مثال 1979ء میں پی ٹی وی سے نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ‘وارث’ کی دی جا سکتی ہے۔ کیسا سنہرا دور تھا جب مضبوط کہانی اور عمدہ اسکرپٹ نے ملکی آبادی کے بڑے حصے کو ایک ڈرامے کے انتظار پر مجبور کر دیا تھا، اور انہیں آج بھی دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ خواہ مخواہ بالکل بھی مجبور نہیں کیا تھا۔ ‘وارث’ جاگیرداری نظام پر بنایا جانے والا اب تک کا شاندار ترین ڈرامہ ہے جس نے امجد اسلام امجد کو ایک بڑے ڈرامہ نگار کے طور پر متعارف کروایا۔ کہانی اتنی جاندار کہ ایک ایک مکالمہ موتیوں کی مانند چمکتا نظر آئے۔ مناظر ایسے شاندار کہ آنکھ جھپکنے کو دل نہ کرے۔ پچھلی نسل کے لوگوں کے ذہنوں میں ‘چوہدری حشمت’ آج بھی اپنے پورے رُعب، دبدبے، شان و شوکت، غصے، جبر اور خوف کی صورت میں زندہ ہے۔ یقین نہ آئے تو دو چار پرانے لوگوں کو ٹٹول کر دیکھ لیں۔

امجد اسلام امجد کے قلم سے نکلا ہوا یہ شاہکار ڈرامہ پہلی دفعہ پی ٹی وی پر 1979ء میں نشر کیا گیا تھا۔ ڈرامے کی کاسٹ میں اس قدر عظیم فنکار اور فنکارائیں شامل تھیں کہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ کس نے عمدہ اور کس نے بہترین اداکاری کی ہے۔ محبوب عالم، شجاعت ہاشمی، عابد علی، فردوس جمال، منور سعید، اورنگزیب لغاری، عظمیٰ گیلانی، ثمینہ احمد، غیور اختر، جمیل فخری، طاہرہ نقوی، آغا سکندر و دیگر ان جیسے بڑے فنکار اس ڈرامے کی کاسٹ میں شامل تھے۔

بنیادی طور پر یہ ایک جاگیردار خانوادے کی کہانی ہے جو انگریز کے دور سے اور اُن کی شہہ پر مقامی لوگوں پر حکمرانی کرتا چلا آیا ہے اور ہر صورت میں اپنی جاگیر اور حاکمیت کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ حکومتِ پاکستان جب ‘سکندر پور’ میں ڈیم بنانے کا اعلان کرتی ہے تو اس خاندان کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اسی خطرے سے لڑتے ہوئے ہم ایک ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو کسی زخمی شیر کی طرح اپنے پنجے ہوا میں چلا رہا ہے اور جب اپنی پوری کوشش کے باوجود کچھ نہیں کر پاتا تو اپنے ملبے پر ہی جان دے دیتا ہے۔ یہی جان دینے والا شیر پی ٹی وی ڈرامے کی تاریخ میں آج تک چوہدری حشمت کے نام سے زندہ ہے۔

اس ڈرامے کا سب سے بڑا کردار بلاشبہ چوہدری حشمت کا ہے جسے ایک عظیم فنکار محبوب عالم نے نبھایا ہے اور کیا ہی عُمدگی سے نبھایا ہے۔ اُس دور کی نسل کے ذہنوں پر آج تک یہ کردار نقش ہے۔ جس سے پوچھ لیں اسے چوہدری حشمت ضرور یاد ہوگا۔ محبوب عالم اتنا بھرپور اداکار تھا کہ ڈرامے میں اس کے سامنے اتنے بڑے بڑے اداکار نظر آئے مگر کوئی بھی اس کی شبیہ پر حاوی نہ ہو سکا۔ عابد علی نے دلاور کا سنجیدہ کردار بہت مہارت سے نبھایا۔ وجاہت ہاشمی نے مولاداد کے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ فردوس جمال نے چوہدری انور کا نفرت انگیز کردار بھرپور انداز میں پورٹرے کیا۔ منور سعید چوہدری یعقوب جیسے شاطر، زمانہ شناس اور لالچی آدمی کے روپ میں خوب جچے۔ اورنگزیب لغاری چوہدری نیاز کے روپ میں آدھا جاگیردار اور آدھا عام انسان بن کے اپنے اندر کی کشمکش کو بڑی خوبصورتی سے پردے پر لے کے آیا۔ عظمیٰ گیلانی نے ذکیہ کا کردار نبھایا۔ ڈرامے کی کاسٹ بہت بڑی تھی اور سبھی اپنی اپنی جگہ پر دنیائے ٹیلی ویژن کے مایہ ناز ستارے تھے۔ مگر چوہدری حشمت بلاشبہ اور بلا شرکت غیرے اس کہکشاں کا چاند تھا۔

رواں صدی کی پہلی دہائی میں پی ٹی وی نے ‘کاجل گھر’ کے نام سے ایک ڈرامہ نشر کیا تھا جس میں سہیل احمد کو ایک ظالم جاگیردار کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جاگیرداری نظام پر بہت سارے ڈرامے بن چکے ہیں۔ ہوائیں، ماروی، راہیں، ملنگی وغیرہ سارے جاگیرداری نظام پر بنے ہوئے ہیں مگر وارث جیسا ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ یہی وہ ڈرامہ تھا جس کے بارے میں مشہور ہے کہ جب آن ائیر ہوتا تھا تو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔

ہم اس طرح کی باتیں اکثر سنتے رہتے ہیں کہ میڈیا صرف وہی کچھ دکھاتا ہے جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں، یا دوسری طرف والے کہتے ہیں کہ عوام وہی کچھ دیکھتے ہیں جو میڈیا دکھانا چاہتا ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے کہ انڈہ پہلے آیا تھا یا مرغی۔ ہم شاید حتمی طور پر کسی بھی ایک صورتحال کو درست تسلیم نہیں کر سکیں گے مگر بعض صورتوں میں کامن سینس سے بھی رہنمائی لے لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ دیکھیں اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ڈراموں کے نام پر دکھایا جا رہا ہے عوام یہی کچھ دیکھنا چاہتے ہیں اور کچھ معیاری یا سنجیدہ دکھانا شروع کر دیا جائے تو ویوورشپ کا گراف گر جائے گا، تو میرا خیال ہے یہ خود سے تعمیر کیا گیا ڈر کا قلعہ ہے جو کمزور بنیادوں پر استوار ہے۔ مجھے یہ بتا دیں کہ وہ کوئی آسمانی مخلوق تھی جو دن رات پاکستان ٹیلی ویژن کا سنجیدہ، موضوعی، فکری اور معیاری کونٹینٹ دیکھتی جاتی تھی اور اس سے بور بھی نہیں ہوتی تھی؟ وہ یہی پاکستانی قوم تھی، اور تب تو خواندگی کا تناسب بھی آج کی نسبت کم تھا۔ اللہ جانے ہم آگے کو جا رہے ہیں یا پیچھے کو!

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو تفریح چاہیے اور فارغ اوقات کے خلا کو انہوں نے کسی نہ کسی چیز سے بھرنا ہی ہے۔ اگر آپ ٹیلی ویژن پر کچھ نیا دکھانا شروع کر دیں گے تو وہ یہ نیا بھی اسی شدّومد اور شوق سے دیکھتے جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان کی تفریحی ترجیحات اور رجحانات میں ایک تبدیلی واقع ہوتی چلی جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کا سنجیدہ کونٹینٹ بھی آپ کو اتنے ہی اشتہار لے کے دے گا جتنے آپ کو ابھی مل رہے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک یہ سوچنا غلط ہے کہ ہم تو وہی کچھ دکھا رہے ہیں جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ کینوس آپ کے پاس ہے، برش آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کو چاہیے کہ آپ ذمہ داری لے کر کچھ اچھا پینٹ کریں اور عوام کو اچھا دیکھنے کا عادی بنائیں۔ بالفرض شروع میں وہ سنجیدہ مواد کی جانب نہیں راغب ہو رہے تو یہ بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے کہ انہیں اس کےلیے تیار کریں، ان کا ذہن بنائیں کیونکہ بہرحال آپ پر یہ بھاری ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ میڈیم کو محض پیسہ کمانے کی مشین ہی نہ سمجھ لیں، بلکہ اس کے ذریعے سے سماجی آگاہی کا فریضہ بھی سرانجام دیا جانا چاہیے۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج کل تمام پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز کے تمام ہی ڈرامے غیر معیاری ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ کہیں کہیں کچھ اچھا بھی نظر آ جاتا ہے، مگر جتنے بھی چینل گھماتے جائیں عمومی تاثر یہی ملتا ہے کہ میچور کونٹینٹ نایاب ہوگیا ہے۔ خدارا تھوڑا پروڈیوس کر لیں مگر معیار پر پوری توجہ دیں۔ سبھی کچھ پیسہ ہی نہیں ہوتا، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پیسہ ہر ہر جگہ سے کمایا جائے۔ آپ ڈرامے کے میڈیم کو بخش دیں۔ فلموں، پروگراموں، گیم شوز، ٹاک شوز میں جتنی مرضی کمرشلائزیشن کرتے جائیں۔ صرف ٹی وی ڈرامے کی جان چھوڑ دیں اور اسے کسی بہتر شکل میں سامنے آنے کےلیے راستہ دے دیں۔

عین نوازش ہوگی!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔