سمجھوتہ بہت ضروری ہے

رئیس فاطمہ  اتوار 8 جولائ 2018
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

’’آپ کی بیٹی کیسی ہے؟‘‘ میں نے قریب بیٹھی ہوئی مسز احمد سے پوچھا۔

’’میرے گھر پر ہے۔ میں نے اسے بٹھالیا ہے اور خلع کا مطالبہ کردیا ہے۔‘‘ انھوں نے لاپرواہی سے کہا۔

’’مگر کیوں؟‘‘ آپ تو اس کی سسرال کی بہت تعریف کرتی تھیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔ میرے استفسار پر طلاق کا جو جواز انھوں نے بتایا وہ بہت عجیب تھا۔ ان کی بیٹی کی شادی تین سال قبل ایک اچھے خاندان کے نوجوان سے ہوئی تھی جو سعودی عرب میں جاب کرتا تھا۔ شادی کے وقت طے پاگیا تھا کہ لڑکا ایک سال بعد بیوی کو بلالے گا۔ دو ماہ کی چھٹی گزار کر جب وہ واپس گیا تو کسی وجہ سے اس کی ملازمت ختم ہوگئی۔

لڑکی سسرال میں چند دن رہی پھر زیادہ تر وقت میکے میں گزارنے لگی۔ نئی جاب کنڈیشن کی بنا پر لڑکا بیوی کو سعودی عرب نہ بلاسکا۔ اس عرصے میں وہ ایک بیٹی کا باپ بھی بن گیا۔ نئی ملازمت کی وجہ سے اسے پاکستان آنے کی چھٹی نہ مل سکی، وہ بھی ڈرا ہوا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھٹی پر جاؤں اور ہمیشہ کی چھٹی ہوجائے۔ لیکن وہ گھر والوں سے، بیوی سے اور سسرال والوں سے مسلسل رابطے میں تھا۔ روزانہ واٹس ایپ، IMO پر بیوی سے بات ہوتی تھی۔ لیکن وہ کمپنی کی سختی اور پالیسی کی بنا پر فوری طور پر بیوی اور بیٹی کو بلا نہیں سکتا تھا۔

سسرال میں لڑکی پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ لیکن لڑکی اب وہاں رہنے کو تیار نہ تھی۔ وہ مزید اکیلا پن برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ ساس سسر نے داماد پر زور ڈالا کہ نوکری چھوڑ کر پاکستان آجاؤ۔ تو لڑکے نے منع کردیا کہ پاکستان میں خصوصاً کراچی میں اچھی جاب کا ملنا ممکن نہیں۔ سفارش اس کے پاس نہ تھی۔ صرف اعلیٰ ڈگری تھی، محنتی تھا، لیکن پاکستان میں ان دونوں باتوں کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ سو مسز احمد نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ یا تو اسی سال لڑکی کو اپنے پاس بلالو یا پھر طلاق دے دو۔ بیٹی پوری طرح ماں کے دباؤ میں تھی لہٰذا اس نے ماں کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کردی۔ اب نہیں معلوم کہ کیا ہوا۔ یہ پچھلے سال کی بات ہے۔

ایک اور واقعہ سنیے! صفیہ نے شادی کے ایک ماہ بعد ہی الگ رہنے کی فرمائش کرڈالی۔ شوہر بینک میں ملازم ہے اور صفیہ ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ گھر اپنا ہے دو منزلہ۔ ساس سسر اور دیور دیورانی ساتھ رہتے ہیں، اوپر کے پورشن کے دو کمرے صفیہ کے استعمال میں ہیں لیکن انھیں علیحدہ گھر چاہیے۔ سسر نے تجویز پیش کی کہ تیسری منزل پر گھر بنوالو، بینک سے لون لے لو۔ لیکن صفیہ اس کے لیے تیار نہیں۔

صفیہ کی والدہ خاصی تیز اور چرب زبان عورت ہے۔ لوگوں پہ الزام لگا دینا، انھیں ذہنی طور پر ٹارچر کرنا یہ سب ان کے مشاغل میں شامل ہے، لڑکے کی ماں اس رشتے کے لیے صرف اپنے بیٹے کی پسند کی وجہ سے راضی ہوئی تھیں، باپ کو بھی اعتراض تھا، لیکن صفیہ کے گھر والے چونکہ غیر تھے اس لیے وہ صفیہ کے خاندان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ لہٰذا لڑکی والوں نے جب شادی پر زور دیا تو دو مہینے میں صفیہ دلہن بن کر ہاشم کے گھر آگئی۔

مختصر فیملی تھی، دو بھائی اور ماں باپ۔ لیکن ایک ماہ بعد ہی ہاشم اور اس کے والدین کو اندازہ ہوگیا کہ وہ غلط جگہ پھنس گئے ہیں۔ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ ایک دن صفیہ نے شوہر سے خوب لڑائی کی اور میکے آکر بیٹھ گئی اور مطالبہ کردیا کہ جب تک علیحدہ گھر نہیں لو گے میں واپس نہیں آؤں گی۔ صفیہ کو میکے بیٹھے ہوئے چھ ماہ ہوگئے، ایک نیا وجود اپنے آنے کی اطلاع دے رہا تھا۔ صفیہ کی ماں نے اسے ایک ہتھیار بنالیا اور بیٹی کو یقین دلادیا کہ باپ بننے کی خبر سن کر ہاشم دوڑا چلا آئے گا۔

یہی ہوا صرف ہاشم ہی نہیں بلکہ ساس سسر بھی خوش خبری سن کر آگئے اور صفیہ کو گھر چلنے کو کہا، لیکن صفیہ کی ماں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے نیا مطالبہ دہرا دیا۔ یا تو میری بیٹی کو الگ گھر لے کر دو یا پھر جس مکان میں رہ رہے ہو وہ میری بیٹی کے نام کردو۔ ہاشم اور اس کے والدین یہ مطالبہ سن کے حیران رہ گئے اور الٹے قدموں واپس چلے گئے۔ صفیہ کی ماں کو یہ بھی احساس نہ تھا کہ ابھی تین بیٹیاں اور شادی کے لیے بیٹھی ہیں۔ اکلوتا بیٹا صرف دس سال کا ہے۔ صفیہ کے والد صحیح معنوں میں بیوی کے غلام تھے۔

ان کی گھر میں ایک نہ چلتی تھی۔ انھوں نے داماد سے معافی بھی مانگی اور بیٹی کو بھی سمجھایا لیکن سب بے سود۔ صفیہ پوری طرح سے اپنی ماں کے قبضے میں تھی۔ چند ماہ بعد بیٹا پیدا ہوا تو اسے باپ کو نہ دکھایا نہ ہی دادا دادی کو دیکھنے دیا۔ بیٹے کی ماں بننے کے بعد اس نے سوچا کہ ہمالیہ سر کرلیا ہے۔ اب ہاشم ہر بات مانے گا، لیکن الٹی آنتیں گلے بڑ گئیں۔ اس نے مطالبہ کیا کہ یا تو الگ گھر لے کر دو یا پھر مجھے طلاق دے دو۔ ہاشم نے پوچھا کہ کیا وہ واقعی ایسا چاہتی ہے۔

صفیہ نے ترنت جواب دیا کہ ’’ہاں‘‘۔ ہاشم نے دوبارہ پوچھا کہ وہ گھر چلے گی یا نہیں۔ لیکن صفیہ اس وقت خدا جانے خود کو کیا سمجھ رہی تھی اس کا خیال تھا کہ بیٹے کی ماں بن کر وہ جو چاہے منوا سکتی ہے۔ تب ہاشم نے کہا کہ وہ اپنے ماں باپ کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ البتہ دوسری منزل پہ اس کے لیے علیحدہ پورشن بنوا دے گا۔ لیکن صفیہ پوری طرح اپنی ماں کے دباؤ میں تھی جو دور کھڑی اشارے سے اسے منع کر رہی تھی۔ تب تنگ آکر ہاشم نے کہا کہ ’’اگر وہ طلاق چاہتی ہے تو کاغذ پر لکھ کر دے کہ وہ خود خلع چاہتی ہے۔‘‘

صفیہ احمق تھی اور اونچی ہواؤں میں تھی، کچھ شکل و صورت پہ بھی ناز تھا اور جانتی تھی کہ ہاشم اسے بہت چاہتا ہے۔ لہٰذا اس نے فوراً کاغذ پر لکھ کر دے دیا کہ وہ خلع لینا چاہتی ہے اور پھر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور بغیر نومولود بیٹے کو دیکھے ہوئے ہاشم نے صفیہ کو طلاق دے دی۔ اپنی آنکھوں سے نمی پونچھتا ہوا وہ باہر نکل گیا۔

صفیہ اور اس کی ماں اونچی ہواؤں میں تھیں، دو سال گزر گئے، کوئی دوسرا رشتہ صفیہ کو نہیں ملا۔ بچے کے ساتھ کوئی قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ دوسری بہنوں کے رشتوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ پھر ایک ایسی جگہ صفیہ کی شادی ہوئی جن کی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی۔ لیکن انھوں نے بھی بچے کی ذمے داری قبول نہ کی۔ آخر طے پایا کہ بچہ ننھیال میں رہے گا۔ بدنصیب بچے سے باپ اور دادا دادی تو پہلے ہی دور ہوگئے تھے، اب ماں بھی پرائی ہوئی۔

مندرجہ بالا دونوں واقعات بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو لڑکیوں کی شادیاں مسئلہ بنی ہوئی ہیں، دوسری طرف طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح تشویش ناک ہے۔ عام طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق کا سن کر افسوس بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی۔ میں نے بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے کہ لڑکیوں کے رشتوں کا مسئلہ خود لڑکی والوں کا پیدا کردہ ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ رشتوں میں حائل ہے۔ لڑکا پڑھا لکھا ہو، جاب اچھی ہو، گھر اپنا ہو، لمبا چوڑا خاندان نہ ہو۔ پھر جب ان ڈیمانڈ پہ پورا اترنے والا لڑکا نہیں ملتا تو پھر مجبوری میں جو رشتے کیے جاتے ہیں انھیں نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ نجانے وہ مائیں ناپید کیوں ہوگئیں جو بیٹیوں کو سسرال میں محبت سے رہنا سکھاتی تھیں۔ ان کے معاملات میں بولتی نہیں تھیں۔

اب تو شادی والے دن ہی بیٹی کے کان میں کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’گھبرانا نہیں، کسی سے دبنا نہیں، ہم ہیں تمہارے ساتھ، کسی کی مجال نہیں جو تمہیں کچھ کہے۔‘‘ بلکہ رشتہ ہوتے ہی داماد کو گھیرنے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں۔ طلاق کا سب سے زیادہ منفی اثر بچوں پہ پڑتا ہے۔ شادی کے بعد بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ عورت کو گھر بنانے شوہر اور سسرال والوں کے دل میں جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ محبت کرنے والی بہوئیں دلوں پہ راج کرتی ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’روپ کی روئے بھاگ کی کھائے‘‘۔

آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں اور اختلافات پر طلاقوں کا ہونا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بچے بے چارے رل جاتے ہیں، ماں اور باپ طلاق کے بعد اپنا اپنا گھر بسا لیتے ہیں لیکن بچوں کی زندگی میں جو خلا پیدا ہوتا ہے اسے کوئی نہیں بھر سکتا۔ ان کی شخصیت میں خود اعتمادی اور بھروسے کی کمی ہو جاتی ہے۔ وہ سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔ میں نے بہت قریب سے ایسے بچوں کو دیکھا ہے جن کے ماں باپ میں طلاق ہوئی اور طلاق کی ذمے دار ماں اور نانی تھیں۔

زندگی تو گزر ہی جاتی ہے لیکن بہت تکلیف دہ طریقے سے۔ ماں باپ کی کمی کا ناسور وقت کے ساتھ ساتھ اور گہرا ہوجاتا ہے۔ کاش لڑکیوں کو ان کی مائیں اور باپ یہ تعلیم دیں کہ زندگی میں سمجھوتہ بہت ضروری ہے۔ خاص کر شادی کے بعد۔ گھر عورت کی قربانی سے بنتا ہے۔ محبت کرنے والی عورت اچھی بیوی اور اچھی ماں ثابت ہوتی ہے لیکن کیا کیجیے کہ اب ان باتوں کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔