عام انتخابات؛ کیا پولیس امن وامان برقرار رکھنے کے لئے تیار ہے؟

اعجاز انصاری  اتوار 8 جولائی 2018
سخت احکامات کے باوجودپولیس کے غیرموثراقدامات کے سبب ایک حلقہ میں 3لیگی اور پی ٹی آئی کارکن فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

سخت احکامات کے باوجودپولیس کے غیرموثراقدامات کے سبب ایک حلقہ میں 3لیگی اور پی ٹی آئی کارکن فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

فیصل آباد: تصادم کی سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر 25 جولائی کے عام انتخابات کاانعقاد پرامن بنانے کیلئے حکام کی طرف سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کوالیکشن کمیشن آف پاکستان کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کارلانے کا پابند کیا گیا ہے۔

انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب سید کلیم امام نے اس ضمن میں ماتحت افسران کو 2013ء کے جنرل الیکشن میں 23 افراد کی ہلاکت اور 63 شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات کو ملحوظ خاطررکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور تشدد کا پرچارکرنے والے عناصرکوموقع پر ہی قابوکرنے کے لئے سیاسی تقریبات کی نگرانی یقینی بنانے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

سکیورٹی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اعلیٰ افسرکی جانب سے پنجاب پولیس کی 80فیصد نفری الیکشن ڈیوٹی پر مامورکرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ناخوشگوار واقعات کے خدشات کے پیش نظر حساس قراردیئے گئے پانچ ہزارسے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس کواپنی گرفت مضبوط رکھنے کا پیغام بھی دیا گیا ہے، لیکن زمینی حقائق کاجائزہ لیا جائے توکم نفری کا شکار پنجاب پولیس اور اس کے افسران کے لئے اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوئے پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بناناآسان نہ ہوگا۔

’’پری الیکشن‘‘ انتظامات کے حوالہ سے بھی پنجاب پولیس کی کارکردگی بھی زیادہ تسلی بخش نظر نہیں آرہی۔ سیاسی حریفوں میں پائی جانے والے ’’ٹینشن‘‘ کے باوجود خون خرابہ سے بچاؤ کے لئے پیش بندی کے طور’’جلالی‘‘ طبیعت کے حامل اور تشدد پسند عناصرکو نظر بند یا پابند ضمانت کرنے کے انتظامات پرتوجہ بھی نہیں دی گئی، نتیجتًا سیاسی سرگرمیوںکے آغاز پر ہی فیصل آباد اور شیخوپورہ سمیت بعض شہروں میںکئی پرتشدد واقعات رونماہوچکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ناخوشگوار حتیٰ کہ انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات رونماہونے کے خدشات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

یہ امرقابل ذکر ہے کہ حکام کو ارسال کی گئی رپورٹس میں خفیہ ایجنسیاں بھی بارہا واضح کرچکی ہیں کہ 2013ء کے عام انتخابات میں رونما ہونے والے تصادم،گھیراؤ جلاؤ اور جانی نقصان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قابل ذکر انسدادی اقدامات پرتوجہ نہ دی گئی تو 25 جولائی کے انتخابات میں بھی خون خرابہ روکا نہیں جا سکے گا۔

2013ء کے عام انتخابات میں رونما ہونے والے 101واقعات میں سے 89 میں آتشیں اسلحے کا استعمال ہوا اور بیشتر میں ہوائی فائرنگ ہوئی۔ پُرتشدد واقعات میں سے12 راولپنڈی ریجن میں رونماہوئے جس کے نتیجہ میں10 افراد اموات کا شکار جبکہ 6 زخمی ہوئے، شیخوپورہ ریجن کے 22واقعات میں3 افراد جان سے گئے، 12زخمی ہوئے، فیصل آباد ریجن میں پیش آنے والے 16 واقعات میں 4 افراد شدید زخمی ہوئے، لاہور ریجن کے 13 واقعات میں ایک شہری قتل اور ایک زخمی ہوا، گوجرانوالہ ریجن کے 9واقعات مں 2شہری قتل ،4 زخمی ہوئے، سرگودھا ریجن کے 4 واقعات میں 3 شہری قتل جبکہ 3 زخمی ہوئے، ساہیوال ریجن کے 6 واقعات میں 3 شہری قتل ،11 زخمی ہوئے، ملتان ریجن کے 3 واقعات میں 8 شہری زخمی ہوئے، ڈیرہ غازی خان ریجن میں پیش آنے والے 5واقعات میں 3 شہری زخمی ہوئے، بہاول پور ریجن میں رونماہونے والے 8 واقعات میںایک شہری جان سے گیا جبکہ 11 زخمی ہوئے۔

سیاسی رقابت پر رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظرپنجاب کے مختلف تھانوں میں63 مقدمات کااندراج عمل میں لایاگیا، جن میں سے 38کیسز کا ابھی تک فیصلہ ہوناابھی باقی ہے۔ ایسی صورتحال میں سیاسی مخالفین میں پائی جانے والی رقابت بھی رنگ دکھاسکتی ہے ۔یہاںیہ امرقابل ذکرہے کہ فرض کی بجاآوری کے لئے جانیںداو پر لگانے والے سپوتوںکے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس میں کالی بھیڑوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو ’’وردی‘‘ بھی بیچ کھاتے ہیں۔

ایسے ضمیر فروش برملا کہتے ہیں کہ جرم روکا نہیں جا سکتا، پولیس کاکام تو صرف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مقدمات کی شکل میں قانونی کارروائی عمل میںلانا ہے۔ گویا سادہ الفاظ میں مطلب لیا جا سکتا ہے کہ جرائم کے خاتمہ کی صورت میں ان کی اہمیت کم اور ’’دکانداری‘‘ متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام ہیں کہ سخت ترین انتباہی احکامات کے باوجود فرائض سے راہ فراراختیارکرنے حتیٰ کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب پائے جانے والوں کے شوکازنوٹس بھی محض وارننگ پر ’’فائل ‘‘کردیئے جاتے رہے ہیں۔

پنجاب پولیس میں ایسی بہت سی’’ مثالیں ‘‘موجود ہیں کہ پتنگ بازی پرپابندی کے باوجودکئی گردنیں کٹیں،شادی کی تقریبات میں کئی شہری فائرنگ کانشانہ بنے،ڈکیتی کی وارداتوں میں بہت سے شہریوں کے خون ہوئے۔ 2013ء کے جنرل الیکشن سے قبل جاری کردہ سخت احکامات کے باوجود قتل وغارت گری کابازارگرم ہوا لیکن اہم عہدوں پرفائز رہنے والے پولیس افسران سکیورٹی کے خاطرخواہ انتظامات میں ناکام رہنے والے سبق آموزمحکمانہ سزائیں نہ دے پائے۔

ماضی کی طرح پنجاب پولیس میں اہم عہدوں پر ذمہ داریاںسنبھالنے والے پولیس افسران کی طرف سے جنرل الیکشن 2018ء کے پرامن انعقادکیلئے فول پروف سکیورٹی کے جاری کردہ احکامات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس کااندازہ توآنے والے وقت سے ہی ہوگا، تاہم صورتحال یہ ہے کہ اعلیٰ افسروں کے جاری کردہ احکامات کے باوجود پولیس کے غیرموثر اقدامات کے سبب سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثنااللہ خاں کے حلقہ انتخاب میں تین لیگی اورپی ٹی آئی کارکن فائرنگ کانشانہ بن کر زخمی ہوچکے ہیں،دیگرشہروں کے سیاسی مخالفین میں پائی جانے والے رنجشوں سے بھی صورتحال کشیدہ ہونے کی خدشات ظاہرکئے جارہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں آئی جی پنجاب سمیت سینئر پولیس افسران ہی نہیں بلکہ سیاسی اکابرین بالخصوص قومی وصوبائی اسمبلی کے انتخابات میںحصہ لینے والوں پربھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ’’سیاسی درجہ حرارت‘‘ میں کمی لانے کیلئے ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے اپنے جذباتی ووٹروں، سپورٹروں کوکنٹرول میں کریں، انہیں صبر و برداشت سے کام لینے کاپیغام دیتے ہوئے واضح کریں کہ الیکشن آنے جانے ہیں،ضائع ہونے والی جانیں کبھی واپس نہیں آتیں۔ جنرل الیکشن کے موقع پر تخریب کارعناصرکی مذموم کارروائیوں سے بچاوکیلئے پنجاب پولیس کو خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں سرچ آپریشن بھی عمل میں لانا ہوں گے۔

جنرل الیکشن کے پیش نظر پولیس افسروںکے وسیع پیمانے پر ہونے والے تبادلہ جات کے سلسلہ میں ریجنل پولیس آفیسر فیصل آبادکے عہدے پر تعینات ہونے والے غلام محمود ڈوگر اور سی پی اوفیصل آبادکی سیٹ سنبھالنے والے اشفاق احمدخاںبھی سیاسی سرگرمیوں سے انتخابی عمل پرامن بنانے کے لئے اگرچہ ماتحت عملہ کوسخت احکامات جاری کرچکے ہیں، تاہم قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ وال چاکنگ،شرانگیز تقاریر، اسلحے کی نمائش ،ہوائی فائرنگ اوردنگافساد ہی نہیں بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی عام نوعیت کی خلاف ورزیوں کی صورت میں بھی پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کواپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے بلاامتیاز کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے موثر ایکشن کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔