عدالتی فیصلے، ووٹ کی تقدیس اور ہمارے دشمن

تنویر قیصر شاہد  پير 9 جولائ 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

جولائی کا مہینہ ہماری حالیہ تاریخ میں قابلِ ذکر اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جولائی ہی کی ایک سیاہ تاریخ تھی جب ایک طالع آزما نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو،کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ پھرآمریت کی سیاہ رات گیارہ برس تک مسلّط رہی۔

پچھلے سال یہ بھی جولائی ہی کا مہینہ تھا جب تیسری بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیاگیا۔ اور اب 6 جولائی کو نواز شریف ایک بار پھر عدالت کی طرف سے مجرم بھی قرار دیے گئے ہیں اور انھیں لاکھوں پاؤنڈ جرمانے کے سزا بھی سنائی گئی ہے۔ اُن کے ساتھ مریم نواز شریف اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو بھی جیل، نااہلی اور جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ پورے ملک میں اس اقدام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس پرتبصرے اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

نواز شریف اور اُن کی اولاد دنیا کا پہلا سیاسی خاندان نہیں ہے جسے الزامات ثابت ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں۔ جس وقت نواز شریف کو سزا سنائی جارہی تھی، عین اُسی وقت ملائشیا کے سابق وزیر اعظم، نجیب رزاق، بھی کرپشن، بدعنوانی اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت نہ صرف گرفتار کیے گئے بلکہ اُن پر مقدمات بھی چلائے جانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم مہاتیر محمد اِن دونوں میاں بیوی کو لے ڈُوبیں گے۔ نواز شریف کا معاملہ ذرا مختلف ہے کہ ہمارے سیاسی حالات اور ووٹر بھی تو ملائشیا سے قطعی مختلف ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اگر نواز شریف 13جولائی کو لندن سے اسلام آباد اُترتے ہیں تو ہماری سیاسی اور انتخابی دنیا ایک نئی کروٹ لے گی۔

نواز شریف، اُن کی اولاد اور داماد کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے نون لیگ کی سیاست اور ووٹوں پر اثرات تو یقینا مرتّب ہوں گے لیکن قافلہ رُکے گا نہ تھمے گا۔ مرتّب ہونے والے یہ اثرات کس نوعیت اور صورت میں ظاہر ہوں گے، اِس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ نواز شریف صاحب کو سنایا جانے والا یہ فیصلہ بھٹو صاحب کو سنائے جانے والے فیصلے سے تو زیادہ سنگین اور ظالمانہ نہیں ہے۔ قافلہ تو مگر اُس وقت بھی نہیں رُکا تھا۔

جسٹس مولوی مشتاق حسین اور جسٹس شیخ انوارالحق کا بھٹو مخالف دیا گیا فیصلہ اب تک اپنے اثرات دکھا رہا ہے۔  نواز شریف مخالف دیا جانے والا فیصلہ بھی مدتوں اپنا اثر دکھاتا رہے گا لیکن قافلہ رُکے گا نہ تھمے گا۔ حالات کا جبر ہے کہ اِس قافلے میں وہ لوگ بھی اپنی مرضی سے شامل ہوں گے جو اِس سے تازہ تازہ متاثر ہُوئے ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کہ یہی عین فطرت ہے۔ کوئی آگے نہیں بڑھے گا تو خلا پیدا ہوگا۔ اور فطرت کا اصول ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ خلا کو پُر کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی قوت فوری طور پر آگے بڑھ آتی ہے۔

6 جولائی بروز جمعہ کے اِس فیصلے سے 25جولائی کے قومی انتخابات رُکیں گے نہ منجمد ہو سکیں گے۔ ووٹ تو بہر حال ہر صورت پڑیں گے۔ کئی سیاستدان خواہ کہتے رہیں کہ نا مناسب وقت پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا گیا ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے نامناسب وقت بھی آتے ہیں اور دلخراش فیصلے بھی۔ زندہ قوم اور ملک مگر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ عوام ایک نئے شعور اور نئے عزم کے ساتھ ووٹ کی طاقت سے اپنا فیصلہ یوں سناتے ہیں کہ دوبارہ نہ تو نامناسب وقت آئے اور نہ ہی کسی دلخراش فیصلے سے دل ڈُوب سکیں۔

25 جولائی کو بھی ہمارے عوام کو کوئی ایسا ہی فیصلہ دینا ہوگا۔ ووٹ کی طاقت اور قوت کو دانشمندی سے بروئے کار لانا چاہیے۔ قوم اور ملک کی بھلائی، خوشحالی اور طاقت کے لیے۔ ہم سب اگر ووٹ کی تقدیس اور طاقت بروقت نہیں جان سکیں گے تو ہمارے وقار کے سودے بھی ہوتے رہیں گے۔ پچیس جولائی کا دن ہماری تاریخ کو بدلنے کا دن ہے۔ اِسے شغل میلے اور غیرسنجیدگی کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔

ووٹ دینا لازمی ہے، خواہ کسی کی بھی صدوقچی میں ڈالیں، لیکن ڈالیں ضرور۔ ووٹ کاسٹنگ کے وقت مگر یہ بھی پیشِ نگاہ رکھنا ہے کہ یہ کاغذ کی معمولی سی پرچی نہیں ہے بلکہ اِس ووٹ کی قوت سے مجھے اپنے ملک اور قوم کی بگڑی تقدیر بنانی اور سنوارنی ہے۔ اہلیت رکھنے والے ہر شخص کو ووٹ کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔ یہ ہمارا قانونی، آئینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔جوق دَر جوق باہر نکل کر ادا کیا جانے والا اجتماعی فریضہ۔ جو شخص اپنے ووٹ کی اہمیت سے آشنا نہیں ہے، وہ اپنی شخصیت کی اہمیت سے بھی آشنا نہیں۔

دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں ووٹ نہ ڈالنے والوں کو بھاری جرمانے، قید یا دونوں سزائیںبیک وقت دی جاتی ہیںلیکن ہمیں ان ممالک کے نقوشِ قدم پر نہیں چلنا۔ ہمیں اُن لوگوں کو بھی ووٹ ڈالنے پر مائل اور قائل کرنا چاہیے جو کندھے اُچکا کر کہتے ہیں: ہم توووٹ کسی کو بھی نہیں دیں گے، سب ایک جیسے (لُٹیرے) ہیں۔اِس روئیے اور سوچ کو بدلنے کا وقت ہے۔ جو شخص ووٹ نہیں ڈالتا، وہ اپنا قومی تشخص بھی کھو دیتا ہے۔ ابراہام لنکن نے خوبصورت بات کہی تھی: جو شہری ووٹ نہیں ڈالتا، اُسے یہ بھی حق نہیں ہے کہ وہ منتخب حکومت پر تنقید کرے!!

ووٹوں کے حصول، سیاسی جوڑ توڑ، انتخابی سرگرمیوں کی اِن گہما گہمیوں میں ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے دشمن ضرب لگانے کی تاک میں ہیں۔ ہمارے قومی وجود کے معاندین انتخابات کے اِن ایام میں اپنا کام دکھا سکتے ہیں۔ دشمنانِ دین و ملّت پر شِکرے ایسی نظریں رکھنے والی ہماری سیکیورٹی فورسز اور افواجِ پاکستان ہمہ وقت موجود تو ہیں لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین قومی مفادات نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے۔

ہمارا دشمن تو  سیندھ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔ ہم صلح اور امن کے لیے ہاتھ آگے بڑھا رہے ہیں لیکن وہ ہمارا ہاتھ جھٹک کر ہماری سالمیت اور سلامتی کے دَر پے ہے۔ مثال کے طور پر چند ہی روز قبل نئی دہلی میں ’’ فری بلوچستان‘‘ دفتر کا افتتاح، جس میں پچاس ساٹھ بھارتیوں نے حصہ لیا۔ سبھی ’’را‘‘ اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے اور کارکن تھے۔ اِس دفتر سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے، بلوچستان، کے خلاف باقاعدہ شیطانی میڈیا مہمات جاری رہیں گی۔

بھارتی میڈیا میں نشر اور شایع ہونے والی خبروں اور رپورٹوں سے منکشف ہورہا ہے کہ نئی دہلی میں قائم کیے جانے والے ’’فری بلوچستان آفس‘‘ میں بھارتی اور غیر ملکی صحافیوں اور سفارتکاروں کو مسلسل مدعو کیا جاتا رہے گا۔ مقصد یہ ہے کہ انھیں بلوچستان میں ’’زیادتیوں‘‘ سے آگاہ کیا جائے۔ ظاہر ہے اِس کے سارے اخراجات بھارتی خفیہ ادارے برداشت کریں گے۔ اِس سازشی دفتر کے قیام واساس میں بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی، وجے جولی، نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ وہ لندن میں بھی اُن عناصر سے باقاعدہ رابطے میں رہتا ہے جو بلوچستان میں انارکی اور دہشتگردی پیدا کرنے کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

یہ نیٹ ورک بھارتیوں سے مل کر ’’سی پیک‘‘ کے منصوبوں کے خلاف بھی بروئے کار ہے۔ اِس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ بھارت کھلم کھلا ’’سی پیک‘‘ کے خلاف عالمی فورموں میں آواز اُٹھانے کی کوششیں بھی کررہا ہے لیکن اُس کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ نئی دہلی میں کھولا جانے والا مذکورہ بالا دفتر بھی اِنہی بھارتی منصوبوں کی ایک کڑی ہے۔ ووٹوں کے شورو غل میں ہمارے میڈیا نے اِس خبر کو نادانستگی میں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ کھلی آنکھیں رکھنے والے ہمارے قومی میڈیا کو اِس سے غفلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔