ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟

منیب الحسن رضا  منگل 10 جولائ 2018
عوام کا فرض بنتا ہے کہ آگے بڑھ کر انتخابات کو ان کی اصل روح کے ساتھ منعقد کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ (فوٹو: فائل)

عوام کا فرض بنتا ہے کہ آگے بڑھ کر انتخابات کو ان کی اصل روح کے ساتھ منعقد کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ (فوٹو: فائل)

ایک زمانہ تھا کہ تجاوز کا لفظ ہی معاشرے میں ایک برائی سمجھا جاتا تھا۔ اگر کسی کے گھر کی منڈیر یا چار دیواری نقشے کے مطابق نہ ہوتی تو اسے محلے میں ناپسندیدہ نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کھیلتے ہوئے بچے بھی اپنی حدود کا خیال رکھتے تھے لیکن اب حال یہ آن پہنچا ہے کہ کسی کو اپنی حدود کا خیال ہی نہیں۔ ہر کو ئی شتربےمہار بنا پھرتا ہے۔ آئیے اس بحران کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

یار لوگوں نے قائد کی تقریر غائب کروائی تو کسی نے بانی پاکستان کے فرمودات کی ڈائری برآمد کر ڈالی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 11 اگست والی تقریر منشور سازی کےلیے کافی تھی تو پھر 25 فیصد آبادی کے حصے کے حقوق کی ضمانت کیوں نہیں دی گئی اور آج یہ نوبت آگئی ہے کہ نقل مکانی کرکے جانے والے، قائد سے سوال کررہے ہیں۔

چیف کورٹ سے آنے والا فیصلہ ہو یا گورنر جنرل کی کرسی پر ایک بیوروکر یٹ کا بیٹھ جانا، فیلڈ مارشل کی کابینہ ہو یا ایبڈو و پروڈا نامی قوانین کا نفاذ، ہر جگہ ایک ہی کہانی چل رہی ہے کہ اختیارات و فرائض سے تجاوز کی مثال قائم کرنے میں کوئی ہمارا ثانی نہیں۔ تاریخ کا ہر ورق شکوہ کناں ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اونٹ کو ہنڈیا میں بٹھانا چاہتے ہیں۔ کہیں میڈیا کے کان مروڑے جارہے ہیں تو کہیں جمہور کو زباں بندی کا سامنا ہے۔ ماضی کے ہر گرے ہوئے کی مشکیں کسنے کےلیے کوئی نہ کوئی ساقی موجود ہے۔

آزادی کے ستر برس میں سے تقریباً 32 برس ایک سیاہ رات کا سامنا کرنے کے باوجود آ ج بھی وہ کالی گھٹا ہے کہ بڑھی چلی آتی ہے؛ اور ظلم تو یہ ہے کہ اس کا نام لینا بھی کوئی گوارہ نہیں کرتا۔

’’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں‘‘ کے مصداق، انتخابات کا مرحلہ آن پہنچا ہے مگر کیسے انتخابات؟ ہر امیدوار کو کسی نہ کسی تلوار کا سامنا ہے۔ کوئی صیاد کی قید سے مانوس ہے تو کسی کو درخت پر بیٹھے دو پرندے نظر آرہے ہیں؛ اور مرے پہ سو دُرّے کی مانند جیپ کا پراسرار انتخابی نشان تیزی سے چند مخصوص امیدواروں میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔ چند جماعتیں پورے ملک میں ماحول گرما رہی ہیں اور چند کو تو امیدوار ہی پورے نہیں پڑ رہے۔ اساتذہ کرام تو کہتے تھے کہ لڑائی وہ ہوتی ہے جب تلوار دونوں کے پاس ہو، ایک کے پاس تلوار نہ ہو تو مقابلہ نہیں بلکہ زیادتی ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں عوام ہی کا فرض بنتا ہے کہ آگے بڑھ کر انتخابات کو ان کی اصل رو ح کے ساتھ منعقد کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انگریزوں نے تو کرامویل کے بیٹے کو بادشاہ تسلیم کر نے سے انکار کردیا تھا اور موروثیت کی بادشاہت کو واپس لے آئے تھے، تو ہم تو ابھی جمہوریت کا سبق پڑھ ہی رہے ہیں، لہذا آزمائے ہوئے کو آزمانا اس بار جہالت نہیں بلکہ دانشمندانہ کہلائے گا۔ اس جدوجہد میں ہم اکیلے نہیں، اس بار انسانی حقوق کے مایہ ناز علمبردار بھی موجود ہیں؛ اور اب تو آزادی اظہار رائے کےلیے سماجی رابطے کی سائٹس کا ساتھ بھی میسر ہے جبکہ فیض، جالب و فراز کا کلام تو ہمیشہ ہی نظریاتی لوگوں کی ذہنی غذا ثابت ہوا ہے۔

تجاوزات کا راستہ ہمیشہ کےلیے روکنے کا یہ ایک آخری موقع ہے اور کمان ہمارے ہاتھ میں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ

ہم جانا کہاں چاہتے ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

منیب الحسن رضا

منیب الحسن رضا

بلاگر سیاسی اور سماجی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے رہتے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بھی منسلک ہیں اور جامعہ کراچی سے ایم اے اردو ادب میں طلائی تمغہ حاصل کرچکے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔