آبی بحران اور زمینی حقائق

ایڈیٹوریل  منگل 10 جولائ 2018
آبی امور سے متعلق تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ فوٹو: فائل

آبی امور سے متعلق تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ فوٹو: فائل

پانی بحران کے حقیقی ادراک کی راہ میں غالباً اب کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی، اہل اقتدار کو اندازہ ہوگیا ہے کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

ارباب اختیار برسوں کے خواب غفلت سے جاگ اٹھے ہیں، آبی بحران پر عدلیہ کا اسٹینڈ بروقت ثابت ہوا ہے کیونکہ آج واقعی پانی کا گھمبیر مسئلہ ریاستی اور حکومتی ایوانوں کو مضطرب کیے ہوئے ہے، نگراں حکومت متوجہ ہوگئی ہے جب کہ عدالت عظمیٰ نے ایک طرف پانی کی قلت کے خدشات کو آیندہ برسوں میں ملک کا سب سے سنگین ایشو قراردے دیا ہے۔

دوسری جانب نئے ڈیموں کی تعمیر سے پہلو تہی کا جس دوٹوک انداز میں محاسبہ اور بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر کے لیے چندہ تک جمع کرنے کا جو عندیہ دیا ہے اس سے بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، اس جمود شکن کنکر کا سیاسی جھیل میں پھینکنا وقت کا تقاضہ تھا ورنہ آبی بحران کے حوالے  سے تجاہل عارفانہ مزید وقت لے لیتا۔

ذرایع کے مطابق ملک میں پانی کی کمی مزید شدت اختیار کر گئی اور سب سے بڑے ڈیم تربیلا میں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ختم ہونے کے بعد پانی کی سطح ڈیڈ لیول ایک ہزار 386فٹ پر آ گئی، فلڈ فار کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح ڈیڈ لیول کی جانب بڑھ رہی ہے، بتایا گیا ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار122فٹ ہے، کم بارشوں اور گلیشیرز کے نہ پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر جولائی میں بھی بہتر نہ ہو سکے، جب کہ ارسا نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ چند روز میں بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

فلڈ فار کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا میں پانی کی آمد ایک لاکھ ایک ہزار، اخراج 95ہزار 500کیوسک ہے جب کہ منگلا میں پانی کی آمد 39ہزاراور اخراج 69ہزار 127کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

حکام کے مطابق ڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث صوبوں کو ملنے والے پانی کی مقدار میں بھی کمی آئیگی، صرف سندھ کے گدو، سکھر اور کوٹری بیراج میں پانی کی قلت چالیس سے پچاس فیصد تک پہنچ جائے گی جس کے بعد چاول سمیت مختلف فصلوں کے متاثر ہونیکا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ادھر چیئرمین ارسا احمد کمال نے قومی آبی ڈیٹا بیس یکجا کرنیکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، سرکاری ریڈیو سے گفتگو میں انھوں نے دیامر بھاشا اور منڈا ڈیم کی تعمیر میں پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے میں مدد ملے گی، ارسا کے چیئرمین نے کہا ڈیموں کی تعمیر میں کئی سال لگیں گے اور پانی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ آبی مسئلہ کا احاطہ کثیر جہتی سطح پر جاری ہے، ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز( پی سی آر ڈبلیو آر) نے 1990ء میں یہ تنبیہ کردی تھی کہ ملک میں پانی کی دستیابی ’’واٹر اسٹریس لائن‘‘ کی سطح پر آگئی ہے، یہ 2005ء سے قبل کی بات ہے جب یہ سطح ’’واٹر سیکیورٹی لائن‘‘ تک پہنچ گئی اور ان تمام خدشات کے بعد صورت حال یہ ہے کہ 2025ء تک ملک میں پانی کی عدم دستیابی کے سنگین خدشات پیدا ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئر(برفانی تودے) موجود ہیں، لیکن اس کے باجود پاکستان کا شمار پانی کی دستیابی سے متعلق دباؤ کا شکار دنیا کے 36ممالک میں ہوتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کی طلب رسد سے کئی گنا زیادہ  بڑھ جائے گی۔ اس بحران کو روکنے کے لیے فوری طور پر مربوط منصوبہ بندی اور اطلاق کی ضرورت ہے۔

تیزی سے ختم ہوتے آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ ہونے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ آبادی کی بڑے پیمانے پر شہری علاقوں میں منتقلی جیسے عوامل پانی کی دستیابی پر مزید اثر انداز ہورہے ہیں۔ مستقبل قریب میں ہمیں خشک سالی جیسی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے اور صورتحال کی سنگینی کو ان اعداد وشمار سے سمجھا جاسکتا ہے، جن کے مطابق 1947ء میں فی کس پانی کی دستیابی 5000کیوبک میٹر سے کم ہو کر آج صرف 1000کیوبک میٹر تک آچکی ہے۔

ایکسپریس میں شایع شدہ ایک رپورٹ میں بعض تشویشناک پہلو اجاگر کیے گئے ہیں، اور یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ چاہے ڈیموں کی تعمیر ہو، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہو یا بڑھتی ہوئی قلت سے نبرد آزما ہونے کے لیے آبی ذخائر کی گنجائش میں اضافے کے اقدامات ہوں، کوئی حکومت اس حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی نظر نہیں آتی، صوبوں میں باہمی عدم اعتمادی کو ختم کرنے کے لیے آبی وسائل کی تقسیم سے متعلق قومی آبی پالیسی(این ڈبلیو پی) کے سلسلے میں کاوشیں ہوتیں تو شاید ہم اس بحران سے سات برس دور ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور  وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سابق وزیر خارجہ اور وفاقی وزیر خزانہ اور بعد ازاں منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین رہنے والے سرتاج عزیز کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے 24اپریل 2018ء کو پاکستان کی پہلی متفقہ نیشنل واٹر پالیسی بنوائی، جس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے دستخط کیے۔

اس پالیسی میں آبی وسائل کی حفاظت، ذخائر کی تعمیر، تقسیم اور زیر زمین پانی کے معیار سے متعلق امور کو شامل کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ نئے ڈیموں کی تعمیر اور صوبوں میں پانی کی تقسیم کو مطلوبہ اہمیت بھی دی گئی ، سیاسی ماہر و مبصر نے قومی سطح کے ماسٹر پلان کی ضرورت کی بات کی ہے، جس میں پانی کے ذخائر، سیلاب، خشک سالی کے شکار علاقوں، شہری علاقوں کے لیے پانی اور نرخوں کا تعین، موجودہ ذخائر کی عمر بڑھانے کے لیے چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر اور ملک کے موجودہ انفرااسٹرکچر بحالی اور ری ماڈلنگ جیسے امور کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

محدود آبی وسائل میں اضافے اور مستقبل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے آبی امور سے متعلق تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس بات پر شدید خفگی کا اظہار کیا گیا ہے کہ 1960ء کی دہائی میں منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد سے ملک میں کوئی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں کیا گیا۔ رواں برس مارچ میں سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے صرف دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی جس کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 625 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس کی رقوم مقامی ذرایع سے حاصل کی جائیں گی۔

اب جب کہ ملک کودرپیش آبی وسائل کی تلاش اور پانی کے مزید ذخائر کی تعمیر میں کوئی دو رائے نہیں تو لازم ہے  کہ ماہرین کے خدشات اور آبی قلت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماحولیات، تھرمل پاور سے سے بجلی و پانی کے حصول میں آلودگی کا بھی سد باب ہو، زرعی ٹیوب ویلوں کی افادیت پر جامع پالیسی بنے، اس استدلال پر بھی غور ہونا چاہیے کہ زائدالمیعاد تربیلہ اور منگلا ڈیموں میں پانی نہیں تو نئے ڈیموں میں پانی کہاں سے آئیگا، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی اور سی پیک کے مرکزی کردار گوادرپورٹ کے ساحلی شہرکے لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں، میٹھا پانی ضایع پورہا ہے، زیر زمیں پانی کی سطح کم ہورہی ہے، سندھ ، پنجاب کی زرعی معیشت تباہ جب کہ بلوچستان بنجر ہو رہا ہے، بھارت آبی جارحیت پر تلا بیٹھا ہے، افغانستان کا مجوزہ ڈیم بھی خیبر پختونخوا کے لیے سوالیہ نشان بنے گا، ان آبی طوفانوں سے نمٹنے کا وقت بہت کم ہے،اب تساہل نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔