ہے مشق سخن جاری…

عبدالقادر حسن  منگل 10 جولائ 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

شاید وہ زمانے اب گزر گئے ہیں جب سیاسی لیڈر اور کارکن قید کاٹنے پر فخر کیا کرتے تھے اور اپنے سوانح حیات میں سر فہرست قید وبند کی مدت درج کیا کرتے تھے ۔ شیخ مجیب الرحمن بات بات پر کہا کرتے تھے کہ مجھ سے کیا بات کرتے ہو، میں نے چودہ برس جیل کاٹی ہے۔ آغا شورش کاشمیری کہا کرتے تھے کہ میں نے اپنی جوانی انگریز کی جیل میں گزاردی ہے اور یہ بات سن کر ہر سر آغا صاحب کے سامنے جھک جاتا تھا۔

آج بھی کئی دینی اور سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدان موجود ہیں جو مخالف حکومتوں کی جیل کا مزہ چکھ چکے ہیں، جیل کے حکام کسی سیاسی قیدی کی سب سے بڑی بات یہ بیان کیاکرتے ہیں کہ اس نے جیل مردانہ وار کاٹی اور کسی بات پر حرف شکایت زبان پر نہیں لایا۔ مولانا مودودی کو جب جیل میں بان بننے کی مشقت دی گئی تو مولانا نے یہ مشہور جملہ کہا کہ اس قوم کو قرآن کی تفسیر سے زیادہ بان کی ضرورت ہے ۔ مولانا ان دنوں تفہیم القرآن لکھ رہے تھے ۔ مولانا حسرت موہانی کا یہ شعر تو ایک ضرب المثل بن چکا ہے کہ

یک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال جیل کاٹ کر سیاست کی آبرو کو آراستہ و پیراستہ کر دیا ۔مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرہ آفاق تصنیف ’’غبار خاطر‘‘ جیل میں لکھی گئی ۔ فیض صاحب کی بھی سب سے خوبصورت شاعری شاید وہ ہے جس میں قیدکی زنجیر کے نغمے شامل ہیں ۔ جیل کا ادب ایک صنف ادب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ مولاناسید عطا اللہ شاہ بخاری جو وقفے وقفے سے جیل جایا کرتے تھے فرماتے تھے کہ تقریر سن کر لوگ کہتے ہیں واہ شاہ جی اور جب میں اس تقریر پر جیل چلا جاتا ہوں توکہتے ہیں آہ شاہ جی ۔ اسی آہ اورواہ میں ہماری زندگی گزر گئی ہے۔

تاریخ میں ہزاروں لیڈر اور کارکن ملتے ہیں جنہوں نے جیلیں کاٹیں اور یہ اعزاز بھی عمر بھر ان کے ساتھ رہا، وہ ہنستے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے جیل میں داخل ہوئے اور اسی شان سے ہنستے اور نعرے لگاتے ہوئے باہر آئے۔ سیاسی لوگ اس قدر زیادہ جیل جایا کرتے تھے کہ چوہدری فضل حق نے اپنی کتاب میں لکھا کہ سیاسی کارکن کو تمباکو نوشی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ عادت بعض اوقات جیل میں سبکی کا باعث بن جاتی ہے اور سیاسی کار کن کی شان باقی نہیں رہتی۔

سیاسی قید و بند کا سلسلہ آج بھی زورو شور کے ساتھ جاری ہے مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گو اقتدار کی عمارت تو وہی پرانی ہے مگر سیاسی لوگ وہ نہیں رہے ۔جب سے سیاست میں اخلاقی جرائم نے راہ پائی ہے حکمرانوں کے لیے آسان ہو گیا ہے کہ وہ کسی مخالف کو کسی اخلاقی جرم میں جیل بھیج دیں اور اپنی طرف سے سیاسی قیدی ہونے کا اعزاز چھین لیں ۔ لیکن سیاستدان اصرار کرتے ہیں کہ وہ اخلاقی قیدی نہیں سیاسی قیدی ہیں لیکن اس کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوا کرتا ہے کسی ایف آئی آر پر نہیںہوتا۔

سیاستدانوں کی قید وبند مجھے کل کے حکمرانوں کی وجہ سے یاد آئی ہے جناب میاں نواز شریف اور ان کی صاحب زادی اور داماد کے خلاف پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد عدالت نے ان تینوں کی سزا کا حکم جاری کیا ہے، سب سے پہلے سزایافتہ کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا جا چکا ہے جنہوں نے سیاسی لیڈروں کی طرح ایک ریلی میں گرفتاری دی ہے ۔ اخبارات کی خبریں بتا رہی ہیں کہ میاں نواز شریف بھی اپنی صاحب زادی کے ساتھ بہت جلد پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنے کارکنوں کو ائر پورٹ پہنچنے کی ہدایت کی ہے تا کہ ان کو ہنگامہ آرائی کے بعد گرفتار کیا جائے، خبریں بنیں اور یہ خبریں قومی اور غیر ملکی میڈیا کی زینت بنیں اور سیاسی قیدی کا اعزاز ان کے حصے میں بھی آئے۔

میاں نواز شریف اس سے پہلے بھی قید رہے ہیں تب کی قید ان کی اصل سیاسی قید تھی جب ایک ڈکٹیٹر نے ان کو اقتدار سے محروم کر کے قید کیا تھا لیکن میاں صاحب اس سیاسی قید کو سنبھال نہیں پائے اور کچھ ہی مدت کے بعد ایک ڈیل کے تحت رہا ہو کر جلا وطن ہو گئے۔ میاں صاحب کے خلاف موجود فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ ان کے اثاثہ جات کے بارے میںایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے ان کی غیر ملکی جائیداد کے بارے میںثبوت فراہم کیے گئے جس پر پاکستان کی عدالت میں ان کے سیاسی مخالفین نے کیس دائر کیا جس کا فیصلہ گزشتہ دنوں پوری قوم نے سنا۔

میاں نواز شریف اپنی اس جائیدادکی خریداری کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے قاصر رہے لیکن ان کی جانب سے واویلا جاری ہے ۔ کیس کے فیصلے کے بارے میں اپیل بھی داخل کی جارہی ہے لیکن بقول شیخ رشید میاں نواز شریف کے لیے اڈیالہ جیل میں صفائی کرائی جا چکی ہے ۔

جیل کی کوٹھری کا وقت میاں نواز شریف پر دوسری بار آیا ہے، پہلی دفعہ تو دوستوںنے ساتھ دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ بھی کوئی دوست مدد کو آجائے لیکن میاں نواز شریف جو اب نظریاتی ہو چکے ہیں انھیں اپنے آپ کو نظریاتی ثابت کرنے اور اپنے اوپر کرپشن کے داغ دھونے کا اس سے بہتر موقع پھر نہیں ملے گا۔ میاں صاحب کو اس دفعہ مردانہ وار جیل کاٹنی چاہیے تا کہ ان کے سیاسی جانشین برملا یہ کہہ سکیں کہ ان کے لیڈر نے بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔

میاں نواز شریف کی سیاست میں ایک نیا موڑ آیا ہے انھیں اس نئے موڑ سے اپنی سیاست کا راستہ نکالنا ہے، اب یہ ان کی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے سیاسی راستے کا تعین کیسے کرتے ہیں اور اپنے کارکنوں اور جانشینوں کے لیے کیسی مثال قائم کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔