سیاست دانوں کے اثاثہ جات

سید عاصم محمود  منگل 10 جولائ 2018
الیکشن کمیشن پاکستان میں جمع کرائے گئے امیدواروں کے حلف ناموں کی روشنی میں اثاثوں کے حقائق کا چشم کشا احوال۔ فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن پاکستان میں جمع کرائے گئے امیدواروں کے حلف ناموں کی روشنی میں اثاثوں کے حقائق کا چشم کشا احوال۔ فوٹو: فائل

ماہ جون کے اواخر میں ہزارہا امیدوار الیکشن 18ء میں حصہ لینے کی خاطر کاغذات نامزدگی جمع کرانے لگے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک حلف نامے (ایفی ڈیوٹ) میں اپنے ذرائع آمدن، جائیداد، بینک بیلنس، ٹیکسوں کی ادائیگی وغیرہ کے متعلق بھی معلومات جمع کرائیں۔ یہ کوئی نیا عمل نہیں تھا، الیکشن 2013ء میں بھی سبھی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے اپنی دولت، جائیداد وغیرہ کے متعلق تفصیل الیکشن کمیشن پاکستان کو فراہم کی تھی۔ لیکن بعض وجوہ کی بنا پر اس بار یہ معاملہ میڈیا میں بہت نمایاں ہوگیا۔

اول وجہ یہ کہ ارکان اسمبلی نے پچھلے سال چپکے چپکے کاغذات نامزدگی میں اپنے مفاد پورے کرنے والی تبدیلیاں کر دیں جو حال ہی میں سامنے آئیں۔دوسرے نامی گرامی سیاست دانوں نے بھی حلف نامے میں جائیداد کی قیمتیں اصل مالیت سے کم بیان کیں۔تیسرے اکثر امیدواروں نے اپنے ٹیکسوں کی جو تفصیلات بتائیں وہ ان کے اثاثہ جات کی نسبت آٹے میں نمک برابر تھے۔اسی لیے پورے ملک میں ایسا شور مچ گیا کہ لگنے لگا، سبھی امیدواروں نے کرپشن اور ہیرا پھیری سے اپنے اثاثے بنائے ہیں۔ اثاثہ جات کی تفصیل آنے سے خاصا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اس آگ کو پانامہ لیکس اسکینڈل سے بھی ہوا ملی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے امیدوار جدی پشتی امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر بلاول بھٹو کے نانا اور دادا،دونوں بڑے زمیندار تھے۔اسی طرح مریم نواز کے اجداد فیکٹریوں کے مالک رہے۔عمران خان نے کرکٹ اور ماڈلنگ سے اچھا خاصا پیسا کمایا۔لہذا ضروری نہیں کہ سب امیدواروں کے اثاثے کرپشن کی پیداوار ہوں۔اگرچہ کئی دانشور دعوی کرتے ہیں، اکثر پاکستانی امیر گھرانوں کے اجداد ماضی میں انگریزوں کے ٹاؤٹ تھے۔ان کے ہاتھ حریت پسندوں کے خون سے رنگے ہیں۔اسی لیے وہ ملک وقوم سے مخلص نہیں اور نہ کبھی ہو سکتے ہیں۔

اس بار امیدواروں کے اثاثہ جات کی تفصیل ایک تنازع کی وجہ سے نمایاں ہوئی۔ ہوا یہ کہ اکتوبر 2017ء میں پارلیمنٹ نے ایک متنازع الیکشن بل منظور کیا تھا۔ اس بل کا بنیادی مقصد نااہل قرار دیئے جانے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بدستور مسلم لیگ (ن) کا سربراہ رہنے کے سلسلے میں قانونی راہ ہموار کرنا تھا۔ لگے ہاتھوں ارکان اسمبلی نے کاغذات نامزدگی میں بھی ترامیم کر ڈالیں۔ان ترامیم کے ذریعے کاغذات نامزدگی میں پوچھے گئے بعض سوالات ختم کردیئے گئے۔ مثلاً یہ کہ امیدوار کی تعلیم کتنی ہے، اس نے کتنا ٹیکس ادا کیا، اندرون و بیرون ملک جائیداد کتنی ہے وغیرہ۔ گویا نئے کاغذات نامزدگی سے الیکشن کمیشن اور عوام بھی نہیں جان سکتے تھے کہ ایک امیدوار کے ذرائع آمدن کیا ہیں، وہ کتنا صاحب حیثیت ہے اور اس کی تعلیم کتنی ہے۔

اکتوبر 2017ء میں حزب اقتدار نے جائز و ناجائز طریقے اختیار کرکے پارلیمنٹ سے الیکشن بل منظور کرالیا۔ تب بہت کم لوگ جان سکے کہ نئے نامزدگی فارم میں کس قسم کی تبدیلیاں ہوچکیں۔ جب جون 2018ء میں الیکشن کا موقع آیا، تو بعض نوجوان صحافیوں اور وکلا کو احساس ہوا کہ ارکان اسمبلی نے تو چوری چھپے کاغذات نامزدگی میں من پسند تبدیلیاں کردی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے کاغذات میں ترامیم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کردی۔جون 18ء کے تیسرے ہفتے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے نئے کاغذات نامزدگی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو پرانے کاغذات نامزدگی بحال کرنے کا حکم دیا اور رولنگ دی کہ انہیں چند دن میں تیار کیا جاسکتا ہے۔اس فیصلے کے خلاف مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور امیدواروں نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں تمام ارکان نے متفقہ طور پر نئے کاغذات نامزدگی تیار کیے تھے۔ لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ کاغذات نامزدگی میں ترامیم کی ان کے ارکان نے مخالفت کی تھی۔

بہرحال لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل کرڈالا کیونکہ اس سے الیکشن کرانے میں تاخیر ہوسکتی تھی۔ تاہم اعلیٰ عدلیہ نے حکم دیا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدوار ایک ’’حلف نامہ‘‘ بھی جمع کرائے۔ اس حلف نامے میں انہوں نے وہ تمام ذاتی تفصیل درج کرنا تھی جو نئے کاغذات نامزدگی سے حذف کردی گئی تھی اور پرانے کاغذات میں موجود تھی۔ گویا ایک طرح سے سپریم کورٹ نے پرانے کاغذات نامزدگی بحال کردیئے۔

درج بالا قانونی جنگ کے دوران کاغذات نامزدگی کا معاملہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں بہت موضوع گفتگو رہا۔ پاکستانی عوام کو محسوس ہوا کہ کاغذات نامزدگی میں ترامیم بدنیتی سے کی گئیں۔ ان کے پیچھے یہ غرض شامل تھی کہ امیدوار کے اہم ذاتی معاملات الیکشن کمیشن ہی نہیں عوام سے بھی چھپالیے جائیں۔ اسی بدنیتی کے احساس نے عوام کو مشتعل کردیا۔ وہ سیاست دانوں کی جائیداد اور دولت کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرنے لگے۔ عوام نے دعویٰ کیا کہ یہ دولت و جائیداد یقینا ناجائز ذرائع، منی لانڈرنگ اور اور کرپشن سے بنائی گئی، تبھی اسے پوشیدہ رکھنے کا اہتمام کیا گیا۔

یہ بہرحال حقیقت ہے کہ پاکستان میں بہت سے سیاست داں کھاتے پیتے زمیں دار، تاجر، کاروباری، مذہبی اور افسر شاہی کے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

دین اسلام ارتکاز دولت کا شدید مخالف ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے ، اس سے اسلامی معاشرے میں قوت و اختیار چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتا ہے۔ تاہم اسلام محنت سے کمائی گئی دولت کو ناجائز نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے، صحابہ کرام میں امیر صحابہ بھی شامل تھے۔ مثلاً حضرت عثمان غنیؓ، حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف، حضرت سعدؓبن ابی وقاص وغیرہ۔ لیکن یہ تمام صحابہ راہ خدا میں دل کھول کر مال خرچ کرتے تھے۔اسلام میں ایسی مخیر ہستیوں کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ دولت جائز طریقوں سے کمائی جائے۔ مشہور بزرگ حضرت یحییٰ بن معاذؒ کا قول ہے:’’روپے پیسے بچھو ہیں۔ جب تک انہیں قابو کرنے کا منتر یاد نہ ہو، ان پر ہاتھ نہیں ڈالو۔ منتر یہ ہے کہ انہیں حلال طریقے سے پاؤ اور خرچ کرو حق سے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ ارکان اسمبلی نے نئے کاغذات نامزدگی تیار کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کے امیدواروں کی ذات و کردار سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے والے سوال کیوں ختم کردیئے؟ وہ اس اقدام سے کیا چھپانا چاہتے تھے؟ کیونکہ جس امیدوار نے حلال و جائز طریقوں سے دولت کمائی اور جائیداد بنائی، وہ تو رضا و رغبت اور خوشی سے یہ تفصیل پیش کرے گا۔ یہ تفصیل تو اس کے لیے سرمایہ افتخار ہے کہ اس کی محنت، لیاقت، ذہانت اور صلاحیتوں کی کھلی دلیل ہوگی۔

 لیڈروں کے اثاثہ جات

امیدواروں نے الیکشن کمیشن کو جو حلف نامے جمع کرائے ہیں، ان کی رو سے سبھی جانے پہچانے اور سکہ بند سیاست داں ارب پتی یا کروڑ پتی نکلے۔ ان سیاسی لیڈروں میں پی پی پی کے بلاول بھٹو زرداری امیر ترین ہیں۔ ان کے اثاثہ جات کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ ہے۔

غریب غربا کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے عوامی لیڈر کے نواسے کے بعد ایک اور غریبوں کے ہمدرد سیاست داں کی دختر، مریم نواز شریف دوسری امیر ترین (نمایاں) سیاسی رہنما ثابت ہوئیں۔ ۔مریم نواز 84 کروڑ 54 لاکھ روپے کے اثاثہ جات رکھتی ہیں۔گو احتساب عدالت کے حالیہ فیصلے سے وہ نااہل قرار پا چکیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین، آصف علی زرداری نامی گرامی سیاست دانوں میں تیسرے امیر ترین سیاسی رہنما ثابت ہوئے۔ آپ 75 کروڑ 86 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ ان اثاثوں کی تفصیل یہ ہے: زرعی و رہائشی زمین، 6 بلٹ پروف گاڑیاں، دبئی میں جائیداد، ایک کروڑ 66 لاکھ مالیت کا اسلحہ، 1 کروڑ کے گھوڑے و مویشی اور مختلف کاروباری اور صنعتی اداروں میں حصص۔آپ متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ، میاں محمد شہباز شریف اپنے حلف نامے کی رو سے 15 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثہ جات رکھتے ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے: 670 کنال کا زرعی رقبہ، مری اور لاہور میں جائیدادیں، برطانیہ میں دو فلیٹ، ایک کروڑ چودہ لاکھ کا بینک بیلنس، مختلف کمپنیوں میں حصص اور تحفے میں ملی لینڈ کروزر، دلچسپ بات یہ کہ میاں صاحب کی بیگم نصرت شہباز اپنے خاوند سے زیادہ مالیت کے اثاثے رکھتی ہیں۔ ان کی مالیت 27 کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جبکہ دوسری بیگم تہمینہ درانی 92 لاکھ تیس ہزار روپے کے اثاثہ جات رکھتی ہیں۔

وطن عزیز کے ایک اور بڑے سیاست داں و سربراہ تحریک انصاف، عمران خان 3 کروڑ 86 لاکھ روپے کے اثاثہ جات رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذرائع آمدن زرعی آمدنی ،بطور ایم این اے تنخواہ، پی سی بی سے پنشن اور بینک منافع ظاہر کیے۔ آپ 168 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔ پاکستان میں 14 جائیدادیں رکھتے ہیں۔ چار غیر ملکی اکاؤنٹس ہیں۔ حلف نامے کی رو سے بنی گالہ کی رہائش گاہ انہیں بطور تحفہ ملی جس کی مالیت ایک کروڑ چودہ لاکھ اکتہر ہزار روپے ظاہر کی گئی۔

حلف ناموں کی رو سے ہمارے دیگر مشہور و معروف سیاسی لیڈروں کے اثاثہ جات کچھ یوں ہیں: ٭علیم خان (تحریک انصاف) 91 کروڑ روپے تاہم انہوں نے خود کو ایک ارب روپے کا مقروض ظاہر کیا٭حمزہ شہباز شریف (مسلم لیگ ن) 41 کروڑ 15 لاکھ٭ فریال تالپور (پی پی پی) 32 کروڑ روپے٭ شاہ محمود قریشی (تحریک انصاف) 28 کروڑ 36 لاکھ٭مراد علی شاہ (پی پی پی) 21 کروڑ روپے ٭ شرجیل میمن (پی پی پی) 17 کروڑ 37 لاکھ٭خواجہ سعد رفیق (مسلم لیگ ن) 17 کروڑ 36 لاکھ ٭ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف (سابق سربراہ آل پاکستان مسلم لیگ ) تقریباً 17 کروڑ روپے٭ یوسف رضا گیلانی (پی پی پی) 9 کروڑ روپے٭ رانا ثناء اللہ (مسلم لیگ ن) 7 کروڑ 84 لاکھ٭چودھری نثار علی خان (سابق مسلم لیگ ن رہنما) 6 کروڑ 25 لاکھ٭ ایاز صادق (مسلم لیگ ن) 4 کروڑ روپے ٭ خورشید شاہ (پی پی پی) 3 کروڑ ٭2016ء تک ملتان کے ممتاز سیاسی رہنما،جاوید ہاشمی کوئی اثاثہ جات نہیں رکھتے تھے۔ مگر اب الیکشن لڑتے ہوئے حلف نامے میں اثاثے سامنے آگئے۔ یہ سینکڑوں کنال زرعی رقبے، دو کنال گھر، سو تولے سونے، تین گاڑیوں، بینک نقدی اور سرمایہ کاری پر مشتمل ہیں۔ ٭ مولانا فضل الرحمن (جمعیت علمائے اسلام) 76 لاکھ روپے ٭سراج الحق (جماعت اسلامی)29 لاکھ روپے۔٭ فاروق ستار (ایم کیو ایم) کوئی اثاثے نہیں رکھتے تاہم ان کی اہلیہ 80 لاکھ روپے مالیت کے فلیٹ کی مالکہ ہیں۔ ان کا ذریعہ آمدن بطور ایم این اے تنخواہ پانا ہے۔

اس بار تاریخ پاکستان میں پہلی بار نگران حکومت کے وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزرا نے بھی اپنے اثاثہ جات عیاں کیے۔ ان کے مطابق نگران حکومت چلانے والے سبھی سیاست داں یا ٹیکنوکریٹ بھی کروڑ پتی نکلے۔ سب اندرون و بیرون ملک جائیدادیں، بینک بیلنس اور گاڑیاں رکھتے ہیں۔بعض ماہرین سیاسیات کا دعوی ہے کہ الیکشن کے وقت اپنے اثاثوں کو پوشیدہ رکھنا سیاست دانوں کی روایت ہے۔اس طرح وہ خود کو کم سے کم امیر اور غیرنمایاں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، ان کی اصل دولت اور کاغذات نامزدگی میں لکھے اثاثہ جات میں نمایاں فرق ہے۔ امیدواروں کا طرز زندگی دیکھیے، آمدن اور اثاثے دیکھیے، تو خود ہی فرق واضح ہوجاتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر قوانین کی ضرورت ہے۔ لیکن جن لوگوں نے یہ قوانین بنانے ہیں، وہی اپنے درست اثاثہ جات ظاہر نہیں کرتے۔ واضح رہے، آئین پاکستان کی رو سے رکن پارلیمنٹ کا ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ کسی بھی قسم کی کذب بیانی کا مرتکب ہوتا ہے، تو رکن پارلیمنٹ کو اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

جیسا کہ بتایا گیا جائز طریقوں سے دولت اور جائیداد بنانے میں ازروئے مذہب اور قانون کوئی قباحت نہیں، تاہم اس کا ارتکاز منع ہے۔ مثال کے طور پر بانی پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح نے وکالت کے ذریعے لاکھوں روپے کمائے۔ ان کا شمار ہندوستان کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ مگر بچہ بھی جانتا ہے کہ انہوں نے ایک ایک پائی اپنی محنت و ذہانت سے کمائی۔جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو انہوں نے اپنے اثاثوں کا کچھ حصہ بیٹی اور رشتے داروں کے نام کیا، بقیہ ملک و قوم کے لیے وقف کردیئے۔ آج ان کی تمام جائیدادیں قومی ملکیت میں ہیں۔

قائداعظم ایک بڑی سیاسی جماعت، آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ تھے۔ اس جماعت کو پورے ہندوستان سے چندے موصول ہوتے تھے مگر اس بھاری رقم میں سے قائداعظم نے ایک آنہ بھی اپنی ذات اور نجی کاموں پر خرچ نہیں کیا۔ مخالفین بھی اس سلسلے میں ان کی دیانت داری اور کھرے کردار کے گواہ ہیں۔ یہی وجہ ہے آج سوشل میڈیا میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر اس حوالے سے تنقید ہوتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ رہنما ہمیں سادگی و قناعت کا درس دیتے ہیں مگر ان کا اپنا طرز زندگی خاصا رئیسانہ ہے۔ وہ قیمتی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے اور پارٹی کا پیسا اپنی ذات پر بھی خرچ کرتے ہیں۔

پاکستان ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دولت مند سیاسی رہنما پائے جاتے ہیں۔ وہ کرپشن میں بھی ملوث ہیں۔ حال ہی میں ملائشیا کے سابق وزیراعظم، نجیب عبدالرزاق کو کرپشن کرنے پر گرفتار کیا گیا ۔ لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ امیر رہنماؤں کے وطن کی معاشی صورتحال کیسی ہے۔ اگر ملک امیر اور خوشحال ہے تو امیدواروں کے دولت مند ہونے پر زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہیے۔وطن عزیز میں حالات مختلف ہیں۔ حکمران طبقے نے اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے پاکستان کو کھربوں روپے کا مقروض بنا دیا ۔ آج ہر پاکستانی بچہ مقروض ہی پیدا ہوتا ہے۔ حکمران طبقہ اپنے اللے تللوں کے لیے عوام پر نت نئے طریقوں سے ٹیکس لگاتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک کی قیمتیں خصوصاً غریبوں کی پہنچ سے باہر ہوچکیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات بھی میّسر نہیں۔

ملک کی ایسی ناگفتہ بہ حالت ہو، تو ایسے میں بہ موقع الیکشن ارب پتی اور کروڑ پتی امیدوار اور سیاست داں دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہاں سے آگئے؟ یہ کون سا ایسا کاوبار کرتے ہیں کہ دولت کی اتنی ریل پیل ہے؟ کئی سیاسی رہنما کل وقتی سیاست داں ہیں، مگر شدید عوامی مصروفیات کے باوجود وہ امیر تر ہوتے چلے گئے، کیسے؟ قوم کے بعض لیڈر کار تک نہیں رکھتے لیکن ان کا رہن سہن شاہانہ ہے۔ یہ کیسی بوالعجبی ہے؟ اکثر امیدواروں نے اپنے اثاثہ جات میں اہل خانہ یا دوستوں سے ملے ’’تحائف‘‘ کی قیمت کروڑوں روپے بتائی۔ اس معاملے میں بھی دال میں کچھ کالا دکھائی دیتا ہے۔

سیاست کے معروف معنی عوام کی خدمت کرناہے۔ لیکن اب الیکشن کے وقت دولت کی چکا چوند دیکھ کر لگتا ہے کہ سیاست منافع بخش کاروبار بن چکی۔

سب کے اثاثے آن لائن

کم لوگ جانتے ہیں کہ ناروے میں ہر شہری کے اثاثہ جات کی تفصیل آن لائن موجود ہے۔ چناں چہ ناروے کا بادشاہ یا وزیراعظم ہو اور معمولی کلرک یا چپڑاسی، فوج کا جنرل ہو یا سپریم کورٹ کا جج، اعلیٰ سرکاری افسر ہو یا پادری اور عام شہری… سبھی شہریوں کی یہ تفصیل آن لائن موجود ہے کہ اس کا پیشہ کیا ہے، ذرائع آمدن کیا، وہ کتنا کماتا اور آمدن کیونکر خرچ کرتا ہے، بینک بیلنس کتنا ہے اور جائیدادیں کتنی، وہ کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ گویا الیکشن کے موقع پر ناروے میں کسی امیدوار کو حلف نامہ داخل کرانے کی ضرورت ہی نہیں، اس کے اثاثہ جات کی ساری تفصیل پہلے سے موجود ہے۔ناروے کی حکومت ماضی میں بادشاہ سے لے کر کلرک تک سبھی شہریوں کے اثاثہ جات کی تفصیل ایک ڈائری میں شائع کرتی تھی۔

اب یہ آن لائن دستیاب ہے۔ ڈیرھ صدی قبل حکومت نے یہ تفصیل کھلے عام شائع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ معاشرے میں بے ایمانی اور کرپشن جنم نہ لے ۔ اگر کوئی شہری کرپشن کرے بھی تو فوراً پکڑا جائے۔ ناروے میں پڑوسی بھی ایک دوسرے کی بابت جانتے ہیں کہ کون کتنا کماتا ہے۔ لہٰذا جب کسی کا طرز زندگی شاہانہ ہو جائے تو ہ فوراً نظروں میں آجاتا ہے۔ویسے بھی ناروے میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہے۔ یہی خوبی ایک انسانی معاشرے کو طاقتور، ترقی یافتہ اور خوشحال بناتی ہے۔ دوسرے قانون سب کے لیے برابر ہے۔ یہ نہیں کہ طاقتور تو اثرورسوخ یا پیسے کے بل پر رہا ہوجائے، غریب کو سخت سزا ملے۔ تیسرے وہاں انصاف جلد میسر آتا ہے۔ مقدمہ برسوں نہیں چلتا اور مجرم کو جرم ثابت ہونے پر سزا ملتی ہے۔ سزا کا خوف ہی شہریوں کو جرم کرنے سے باز رکھتا ہے۔

پاکستان میں بھی قانون کی حکمرانی مضبوط ہوجائے اور گناہ گار کو سزا ملے تو معاشرے سے کرپشن، ناانصافی اور جرائم کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ یہ اچھی روایت ہے کہ بہ موقع الیکشن امیدوار اپنے اثاثہ جات کی تفصیل عوام کے سامنے پیش کرنے لگے ہیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ ووٹ دے کر جسے اپنا نمائندہ منتخب کرنے لگے ہیں، وہ کیسے کردار کا مالک ہے، اس کے ذرائع آمدن کیا ہیں، وہ کتنا ٹیکس دیتا ہے وغیرہ۔ یوں ایماندار اور ذمے دار رہنما کا انتخاب کرنا آسان ہوجاتا ہے۔اگرچہ سیاسی جماعتوں سے منسلک دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاست دانوں ہی نہیں پاکستان میں ناروے کی طرح تمام شہریوں کے اثاثہ جات کی تفصیل سامنے آنی چاہیے۔ ان شہریوں میں جرنیل، جج، سرکاری افسر، مذہبی رہنما، تاجر، زمین دار وغیرہ سبھی شامل ہیں۔ یوں سرکاری و نجی معاملات میں شفافیت آئے گی اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی جنم لے گی۔حکومت اور معاشرے کو صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کی خاطر دراصل حکمرانوں اور عوام، دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک دفعہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ منبر پر کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا ’’صاحبو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں، تو تم لوگ کیا کرو گے؟‘‘

ایک بدو کھڑا ہوا، نیام سے تلوار نکالی اور بولا ’’ہم آپ کا سر اڑا دیں گے۔‘‘

حضرت عمرؓ نے ڈانٹتے ہوئے اسے کہا ’’تو میری شان میں یہ لفظ کہتا ہے؟‘‘

وہ عام مسلمان بولا ’’ہاں، آپ کی شان میں!‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’الحمد للہ، میری قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مجھے کج ہوتا دیکھیں، تو مجھ کو سیدھا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔‘‘

یہ واقعہ عیاں کرتا ہے کہ عام پاکستانیوں میں اتنی اخلاقی جرأت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے کسی حکمران یا لیڈر کو کرپٹ ہوتا دیکھیں تو سرعام اس پر تنقید کرسکیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ حکمران کو اپنی انتظامیہ پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ بعض اوقات حکمران تو کرپٹ نہیں ہوتا مگر وہ اپنی انتظامیہ پر گرفت نہ رکھنے کے باعث خود بھی بدنام ہوتا ہے۔ اسی لیے افسر شاہی کو کرپشن کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دور حکومت ہی میں حضرت عمروؓ بن العاص گورنر مصر تھے۔ ایک بار خلیفہ دوم نے اپنے گورنر کو خط میں لکھا ’’مجھے خبر ملی ہے کہ تم گھوڑوں، گائے اور غلاموں کے مالک بن چکے۔ میں جانتا ہوں کہ گورنری سے قبل تمہارے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں۔ سچ سچ لکھو کہ یہ چیزیں تمہارے پاس کیسے اور کہاں سے آئیں؟‘‘یہ ہے کڑا انداز حکمرانی جو پوری انتظامیہ کو سیدھا رکھتا ہے۔ حکمران ذرا سا بھی تساہل پسند ہو، تو طاقت کے نشے میں مست انتظامیہ چیک اینڈ بیلنس سے بے پروا ہوکر من مانی کرنے لگتی ہے۔

حلف ناموں میں غلط بیانی

ارکان اسمبلی نے نئے کاغذات نامزدگی تیار کرتے ہوئے ان میں سے جائیداد کی موجودہ مالیت سے متعلق شق بھی نکال دی تھی ۔ یہی وجہ ہے، امیدواروں نے اپنی تمام جائیدادوں کی قیمتیں بہت کم ظاہر کیں۔ بعض تو مضحکہ خیز ثابت ہوئیں۔ مثلاً کراچی کے بلاول ہاؤس کی قیمت صرف 40 لاکھ بتائی گئی۔ اسی طرح عمران خان نے بنی گالا کے اپنے بنگلے کی قیمت کم بتائی۔مریم نواز نے تو کئی بار دعوی کیا تھا کہ وہ پاکستان اور بیرون ملک کوئی جائیداد ہی نہیں رکھتیں۔ دیگر سیاست دانوں نے بھی اسی روایت پر عمل کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل قانون کی رو سے غلط بیانی ہے یا نہیں؟

پاکستان الیکشن کمیشن کے ترجمان، ندیم قاسم نے ایک سوال پر صحافیوں کو بتایا ’’امیدوار اپنے اثاثوں کی موجودہ مالیت ظاہر کرنے کے پابند تھے۔ اگر کسی سیاست داں نے اپنے اثاثوں اور املاک کی موجودہ ’’مارکیٹ ویلیو‘‘ ظاہر نہیں کی تو ازروئے قانون یہ غلط بیانی ہے۔ تب قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ مزید براں عام لوگ بھی حلف ناموں میں غلط بیانی کرنے والے امیدواروں کے خلاف عدالتوں میں جاسکتے ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں مشہور قانون داں، عابد حسن منٹو کہتے ہیں ’’منطقی بات یہی ہے کہ ہر امیدوار اپنے اثاثوں کی اصل مالیت ظاہر کرے۔ اگر آپ کے دادا نے کوئی زمین یا مکان چند سو روپے میں خریدا تھا اور اب اس کی قیمت چالیس کروڑ روپے ہوچکی، تو آپ مالیت چند سو روپے تو نہیں دکھائیں گے۔ لیکن (کاغذات نامزدگی کے) قانون میں ابہام ہے اس لیے امیدواروں نے فائدہ اٹھالیا۔‘‘

الیکشن کمیشن پاکستان کے سابق سیکرٹری، کنور دلشاد کا اس ضمن میں کہنا ہے ’’جن امیدواروں نے اپنے اثاثہ جات کی درست مالیت نہیں بتائی، وہ الیکشن کے بعد نااہل ہوسکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جو حلف نامہ تیار ہوا، اس میں یہ سوال موجود ہے: ’’اثاثے کی موجودہ قیمت کیا ہے؟‘‘ اگر کسی نے اپنے اثاثوں کی موجودہ مالیت نہیں لکھی تو یہ غلط بیانی ہے۔ لہٰذا وہ امیدوار الیکشن جیت کر بھی (جھوٹ بولنے کی وجہ سے) نااہل ہوسکتا ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے، جن ریٹرننگ افسروں نے اثاثوں کی موجودہ مالیت درست نہ بتانے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘

جسٹس(ر) وجیہ الدین احمد کا موقف ہے کہ جائیدادکی اصل مالیت فروعی مسئلہ ہے۔ دولت ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ہم ہر چیز کی قدر دیکھتے ہیں ۔ اسی اصول کا یہاں بھی اطلاق ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے، اگر بلاول ہاؤس بیس برس پہلے خریدا گیا تھا، تو خریدار کے وسائل کیا تھے اور رقم کا بندوبست کیسے ہوا۔ میں سمجھتا ہوں، مارکیٹ ویلیو نہ ظاہر کرنے پر کوئی نااہل نہیں ہو سکتا۔

کراچی کی فلاحی وسیاسی تنظیم،پاسبان کے سربراہ الطاف شکور کا کہنا ہے:’’اثاثہ جات عیاں کرتے ہوئے غلط بیانی کرنا ٹیکس فراڈ اور سنگین جرم ہے۔ایسے لیڈا اتنی اخلاقی جرات نہیں رکھتے کہ اپنے اثاثوں کی اصل مالیت بیان کر سکیں،وہ پھر قوم کی رہنمائی کیسے کریں گے؟وہ امور مملکت چلانے کے ہرگز اہل نہیں۔‘‘

کتنا ٹیکس ادا کیا؟

ہزارہا امیدواروں کے حلف ناموں کی رو سے تحریک انصاف کے رہنماء، نجیب ہارون کو وطن عزیز میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے سیاست داں کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ انجینئر اور کراچی میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ہیں۔ نجیب صاحب نے 2016ء میں 8 کروڑ ساٹھ لاکھ جبکہ 2017ء میں 13 کروڑ 40 لاکھ روپے بطور ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرائے۔آپ این اے 256 سے الیکشن میں کھڑے ہیں۔ دیگر سیاست دانوں نے بھی مختلف مدوں میں ٹیکس جمع کرایا جس کی تفصیل یہ ہے:۔

٭آصف علی زرداری (پی پی پی) 2 کروڑ 27 لاکھ٭ میاں شہباز شریف (مسلم لیگ ن) ایک کروڑ 7 لاکھ 20 ہزار٭ حمزہ شہباز (مسلم لیگ ن) 82 لاکھ٭ خواجہ سعد رفیق (مسلم لیگ ن) 52 لاکھ٭ بلاول بھٹو زرداری (پی پی پی) 41 لاکھ 90 ہزار٭ خواجہ آصف (مسلم لیگ ن) 39 لاکھ۔ ٭شاہد خاقان عباسی (مسلم لیگ ن) 31 لاکھ 10 ہزار٭ چوہدری نثار علی خان (مسلم لیگ ن) 15 لاکھ 89 ہزار٭ شاہ محمود قریشی (تحریک انصاف) 7 لاکھ 81 ہزار ٭ عمران خان (تحریک انصاف) 4 لاکھ 20ہزار٭ ایاز صادق (مسلم لیگ ن) 2 لاکھ 89 ہزار٭ راجا پرویز اشرف (پی پی پی) 2 لاکھ 7 ہزار٭ مریم نواز شریف (مسلم لیگ ن) 41 ہزار٭ جاوید ہاشمی (مسلم لیگ ن) 6 ہزار روپے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں تقریباً ساڑھے اکیس ہزار امیدواروں نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ حلف نامے داخل کرائے۔ ان کی رو سے ’’30 فیصد امیدوار‘‘ ٹیکس نمبر نہیں رکھتے… یعنی وہ ٹیکس ہی ادا نہیں کرتے جبکہ مزید ’’30 فیصد امیدوار‘‘ ٹیکس نمبر رکھنے کے باوجود ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے۔ گویا قانونی طور پر ’’60 فیصد امیدوار‘‘ ٹیکس نادہندہ نکلے جو لمحہ فکریہ ہے۔یاد رہے، 2014ء میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی، اسد عمر نے کوشش کی تھی کہ ارکان اسمبلی کا ٹیکس آڈٹ کرایا جائے۔ مگر ارکان اسمبلی نے آپس میں ہزار اختلاف کے باوجود بے مثال اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے ٹیکس آڈٹ کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ اسی اتحاد کا مظاہرہ اکتوبر 2017ء میں دیکھنے کو ملا جب کاغذات نامزدگی سے ٹیکس کی تفصیل سے متعلق شقیں نکال دی گئیں۔

الیکشن 2013ء کے موقع پر بھی امیدواروں نے ٹیکس ادا کرنے کے سلسلے میں مایوس کن کارکردگی دکھائی تھی۔ تب ’’5 فیصد امیدوار‘‘ ٹیکس نمبر ہی نہیں رکھتے تھے۔ جبکہ بقیہ 50 فیصد امیدواروں میں سے صرف ’’11 فیصد‘‘ ٹیکس ادا کررہے تھے۔ یاد رہے، قدرت رکھتے ہوئے ٹیکس نہ دینا چوری کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا یہ ٹیکس چوری ثابت ہوجائے تو رکن اسمبلی قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے۔

امیر ترین اور غریب ترین امیدوار

الیکشن میں حصہ لینے والے ہزارہا امیدواروں میں مظفر گڑھ کے ایک زمین دار، محمد حسین شیخ المعروف بہ منا شیخ امیر ترین ثابت ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ضلع مظفر گڑھ میں ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ اس زمین کی مالیت انہوں نے اپنے حلف نامے میں 403 ارب روپے لکھی ۔دلچسپ بات یہ کہ ارب پتی ہونے کے باوجود منا شیخ نے پچھلے برسوں میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ وجہ یہ کہ دولت چھپرپھاڑ کر حال ہی میں ان کے گھر وارد ہوئی ہے۔ دراصل درج بالا ہزاروں ایکڑ زمین مقدمے میں ماخوذ تھی۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے منا شیخ کے حق میں فیصلہ دیا، یوں وہ وسیع و عریض زمینوں کے مالک بن گئے۔ زمینوں کا کیس پچھلے 88 برس سے چل رہا تھا۔یہ بہرحال منا شیخ کی دیانت داری ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد کی اصل قیمت حلف نامے میں لکھی اور غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔ وہ چاہتے تو زمین کی سو برس پہلے والی معمولی مالیت لکھ سکتے تھے تاہم ان کے ضمیر اور غیرت نے جھوٹ بولنا اور فراڈ کرنا گوارا نہیں کیا۔

اس بار الیکشن میں غریب افراد بھی حصہ لے رہے ہیں۔ مثلاً راجن پور وڈیروں اور جاگیرداروں کا علاقہ ہے۔ مگر وہاں صوبائی حلقہ 297 سے ایک کسان، غوث بخش مزاری کھڑے ہیں۔ صرف 20 چارپائیاں ان کا کل اثاثہ ہیں۔ اسی حلقے کے ایک اور امیدوار، رحیم بخش دس چارپائیاں اور 500 روپے نقد کا اثاثہ رکھتے ہیں۔پیپلزپارٹی نے گوجرانوالہ کے حلقہ 57 میں ایک مزدور، باؤ محمد سلیم انصاری کو ٹکٹ دے کر عمدہ مثال قائم کی ہے۔ باؤ سلیم مقامی کھڈی میں محنت مزدوری کرکے گزر اوقات کرتے ہیں۔ کام سے فراغت بعد وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔یہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی آگاہی و شعور بڑھانے کی مہم کا نتیجہ ہے کہ پارٹیاں اپنے دیرینہ کارکنوں اور عام لوگوں کو بھی ٹکٹ دینے پر مجبور ہو گئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔