طاقتور کرپٹ عناصر، الیکشن اور کمزور جمہوریت

محمد اعظم عظیم اعظم  ہفتہ 14 جولائ 2018
ووٹرز اپنا ووٹ اُسے دیں جو نیک نامی، اخلاص، بھائی چارے، حب الوطنی اور ملی یکجہتی میں اپنی مثال آپ ہو، تاکہ ملک کو ایک باوقار اور ایماندار قیادت ملے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ووٹرز اپنا ووٹ اُسے دیں جو نیک نامی، اخلاص، بھائی چارے، حب الوطنی اور ملی یکجہتی میں اپنی مثال آپ ہو، تاکہ ملک کو ایک باوقار اور ایماندار قیادت ملے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جس طرح بونے کچھ بھی کرلیں، یہ ہمیشہ بونے ہی رہیں گے۔ اِسی طرح جھوٹا کچھ بھی کرلے، جھوٹا ہی رہتا ہے۔ جھوٹا اپنے ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کےلیے سیکڑوں جھوٹ بولتا ہے اور سچ سے کوسوں دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ مگر اس پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب اِسے اپنے جھوٹ پر ندامت کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے؛ اور اَب یقینی طور پر سابق وزیراعظم اور ن لیگ والوں پر وہ وقت آن پہنچا ہے جب اِن سب کے پیروں میں بھی ندامت کی زنجیریں پڑی ہوں گی، اور یہ اپنے سر نیچے کیے اپنی ندامت کی زنجیروں کو دیکھ کر کفِ افسوس ملیں گے؛ اور باقی زندگی گمنامی میں گزاردیں گے۔

بہرحال، اِس سے انکار نہیں کہ سابق وزیراعظم اور اِن کے چیلے چانٹے اپنی کرپشن کی وجہ سے شکاری کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگر یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جب قومی احتساب اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنی تمام تر تحقیقات کے بعد مطلوبہ کرپٹ عناصر کو قانونی گرفت میں لارہے ہیں اور اُنہیں سزا دینے کے قریب ہیں تو سابق نااہل وزیراعظم اور اِن کے چہیتے اپنی کرپشن اور بددیانتی ماننے کے بجائے اُلٹا قومی احتساب اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف ہی آستینیں چڑھا کر محاذ آرائی پر اُتر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں بھی ماضی، حال اور مستقبل کے حکمرانوں کی نیک نامی سے متعلق پاکستان کا وقار مجروح ہورہا ہے۔ آج وطنِ عزیز پاکستان کی اندرونی اور بیرونی طور پر جتنی بھی بدنامی ہورہی ہے، اِس کے ذمہ دار صرف کرپٹ حکمران، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے خاطر مُلکی وقار، خود مختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگایا اور اِن سب کرپٹ عناصر نے مل کر قومی خزانے کو اربوں اور کھربوں کا نقصان پہنچایا ہے۔

تاہم اِن دِنوں کرپٹ عناصر کی موجودگی میں میرے دیس میں اگلے اقتدار کی منتقلی کےلیے الیکشن کا بازار سجا ہوا ہے۔ چار دانگ عالم میں سیاسی بونوں اور جھوٹوں کی یلغار زورں پر ہے۔ سیاسی بازی گروں اور سیاسی جوکروں نے اپنی کمیں گاہوں سے نکل کر غریب، مفلوک الحال اور مسائل میں گھرے ووٹروں کے محلوں، گلیوں اور بازاروں کی جانب چلنا شروع کردیا ہے۔ اپنی جیت اور فتح کےلیے سیاستدانوں کی زبان سے محبت اور اُلفت کی چاشنی سے بھری پھلجھڑیاں چھوٹ رہی ہیں۔ ستر برسوں سے کمزور جمہوری نظام کے نام لیواؤں کی بانہیں غریبوں کو بغل گیر ہوکر گلے لگانے کو تڑپ رہی ہیں۔ نوابوں، سرداروں، چوہدریوں، وڈیروں اور خانوں کی پگڑیاں ووٹروں کے قدموں میں پڑی ہوئی ہیں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں نے بھی اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیئے ہیں اور اقتدار کے پچاریوں نے غریب ووٹروں کی دہلیزوں پر ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔

آج جس مقام پر غریب کا پسینہ گر رہاہے، ہوسِ اقتدار کے چیلے چانٹے اُس جگہ کی خاک بھی اپنے سر پر ڈالنا کارِ ثواب اور اپنی جیت کےلیے نیک شگون سمجھ رہے ہیں۔ سیاسی بہروپیوں نے غریبوں، بے کسوں اور مجبوروں سے الفت و محبت کا ایسا ڈراما رچا رکھا ہے کہ اِن سیاسی اداکاروں کی اداکاری دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ دو دونی چار کرنے والے چکر باز شاطرلوگ بہت بڑے ڈرامے باز بھی ہیں۔ اَب اِن سیاسی نوٹنکی بازوں کو سمجھنا اور اِنہیں اِن کی اوقات میں رکھنا تو ووٹرز کا کام ہے کہ یہ اِن اقتدار کے لالچی جوکروں کو اِن کی اوقات یاد دلا ئیں؛ اور اِنہیں اِن کے سیاہ کرتوت گنوائیں اور اِنہیں کان سے پکڑ کر اپنے محلوں، گلیوں اور بازاروں سے باہر نکالیں تاکہ اِنہیں اپنی اصل اوقات کا پتا چل جائے۔ ووٹرز اپنا ووٹ اُسے دیں جو نیک نامی، اخلاص، بھائی چارگی، حب الوطنی اور ملی یکجہتی میں اپنی مثال آپ ہو، تاکہ مُلک کو ایک باوقار اور ایماندار قیادت ملے۔

بہرکیف، آج جہاں ارضِ مقدس مملکت خداداد پاکستان میں 25 جولائی 2018 کو ہونے والے قومی اور صوبائی انتخابات کا دن قریب سے قریب تر آتا جارہا ہے تو وہیں، ایک مرتبہ پھر، مُلک کے طاقتور ترین کرپٹ عناصر بھی کمزور جمہوریت کا حصار باندھے اور جمہوری مالا جپتے یکدل اور یک زبان ہورہے ہیں۔ غرضیکہ اگلے اقتدار کےلیے کرپٹ عناصر ایک دوسرے کی مدد کےلیے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے عہد و پیمان بھی کررہے ہیں۔ اَب جب کہ عام انتخابات سر پر آن پہنچے ہیں، مُلک بھر میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی الیکشن کی تیاریاں اور گہما گہمی عروج پر ہے تو ایسے میں مسلم لیگ (ن) نے ایون فیلڈ ریفرنس مقدمے میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی متوقع یا یقینی سزا کے خلاف مُلک گیر احتجاجی تحاریک بھی شروع کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں تو وہیں، اِن کی اِدھر اُدھر کی ظاہر و باطن ہم پیالہ اور ہم نوالہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی احتجاج کا حصہ بننے کا اعلان کردیا ہے۔ اَب اِس صورتِ حال میں متوقع انتخابات کا پُرامن انعقاد کیسے یقینی ہوسکتا ہے؟ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جان کر ریت میں منہ چھپانا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ اِس مرتبہ الیکشن میں کئی ایسی حقیقتیں اور بھی ہیں جن کا ادراک وقت آنے پر ہوجائے گا۔ فی الحال، مُلک کی موجودہ سیاسی اور غیر یقینی صورتِ حال میں تو لاکھ حکومتی مشینری کے باوجود بھی آزادانہ اور پُرامن ماحول میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد اپنی ذات میں بے شمار سوالیہ نشانات کی کیلوں سے بھرا پڑا ہے۔

تاہم یہاں یہ امر آنے والے متوقع الیکشن میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کےلیے بڑی حد تک غورطلب ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری (مائنس بھٹو) نے اپنی سیاسی فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے اِنتہائی مدبرانہ انداز سے پاکستان مسلم لیگ (ن) والوں کو اپنا یہ پیغام بھی ضرور پہنچادیا ہے کہ اگلے انتخابات میں ’’اِن کی وفاق میں جیسی بھی پوزیشن ہو۔ اِن کا عمران سے اتحاد تو مشکل ہے مگر حالات جیسے بھی ہوں، ن لیگ الیکشن کا بائیکاٹ ہر گز نہ کرے۔‘‘ یعنی کہ آج بلاول کے جو دل میں تھا، وہ زبان پر بھی آگیاہے کہ آنے والے وقتوں میں کچھ بھی ہوجائے، پی ایم ایل (ن) اور پی پی پی اندر سے ایک ہیں۔ اِس کے ساتھ ہی اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان المعروف مسٹر سونامی یقینی طور پر جو یہ کہتے ہیں کہ نواز اور زرداری ’’دو ایسی دیمک کے نام ہیں جو باری باری مُلک کو چاٹ رہے ہیں اور قوم کی خون پسینے کی کمائی کو اپنے اللے تللے پر اُڑا کر مُلک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر مُلکی معیشت اور عوام کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔“ تو اَب یہ سو فیصد درست لگنے لگا ہے، یعنی کہ آج تک جیسا عوام سوچتے اور سمجھتے رہے تھے، وہ سب حقیقت کے بالکل برعکس تھا اور حقیقت یہی ہے جو عمران خان کا زرداری اور نواز سے متعلق کہنا ہے جو اَب حقیقی رنگ میں سامنے آگیا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔