ٹرائل، فیصلہ اور اثرات

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 11 جولائ 2018
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

کیس کا ٹرائل بھی وکھری ٹائپ کا تھا ، جوپہلے دیکھا نہ سنا۔ سابق وزیر اعظم کو کسی بھی قسم کی رعایت یا استثنیٰ دینے سے انکا ر کردیا گیا۔حاضری سے استثنیٰ تو وہ رعایت ہے جوایک ڈپٹی سیکریٹری لیول کا افسر بھی آسانی سے لے لیتا ہے، تین بار وزیراعظم رہنے والے اور ملک کو ایٹمی قوتّ بنانے والے راہنما کو اس سے بھی محروم رکھا گیا۔جس کے نتیجے میں وہ اور اس کی بیٹی ایک لوئر کورٹ میں اَسّی بار پیش ہوئے جب کہ مقدمہ سپریم کورٹ کے جج کی ہمہ وقت نگرانی میں چلا۔

اُدھر الزام الیہ کی اہلیہ سات سمندر پار کینسر کے موذی مرض سے لڑرہی ہے اور زندگی اور موت کی کشمکش میںمبتلا ہے، ڈاکٹروں کا کہناتھا کہ ان حالات میں شوہر اور بیٹی کا مریضہ کے پاس رہنا ضروری ہے کہ اس سے اُسے حوصلہ ہو گا عدالت سے استدعا کی گئی پوری قوم کو یہ توقع تھی کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مقتدر اداروں کے چند افراد کا غصّہ اپنی جگہ مگر انسانیت سب سے بلند اور حاوی ہے انسانی ہمدردی مشرقی اور اسلامی معاشرے کا امتیازی وصف ہے۔

انسانی ہمدردی کے تحت سنگین بیماری میں مبتلا شریکِ حیات سے ملنے کی اجازت مل جائے گی مگر انسانی ہمدردی غصّے اور بغض کو کم نہ کر سکی اور اجازت دینے سے انکا ر کردیا گیا۔لندن کے ذرایع بتاتے ہیں کہ جب بیٹی اور شوہر سے ملاقات کے لیے تڑپتی ہوئی مریضہ کو ملنے کی امید ختم ہو تی ہوئی محسوس ہوئی توشدید صدمے سے دل پر اثر ہوا اور وہ بے ہوش ہوگئی۔

مسافر جب ملنے کی آس لیے لندن روانہ ہوئے         توانھیں کچھ خبر نہ تھی، جب وہ لندن ائرپورٹ پر اترے تو انھیں بتایا گیا کہ ’’آپ نے دیر کردی ہے آپ جسے ملنے آئے تھے وہ اب ملنے کی حالت میں نہیں رہی‘‘ ۔ بیٹی بے بسی کی حالت میں ملنے والوں کو بتاتی ہے کہ’’ میں ہرروز صبح اسپتال اس امید سے آتی ہوں کہ امی کوہوش آئے گا تو ان کے گلے لگ جائونگی ۔ مگر شام کو مایوس ہو کر واپس چلی جاتی ہوں‘‘۔ شوہر بھی اس آس سے ہر روز اسپتال آتا ہے کہ شاید رحیم وکریم کی رحمت سے مریضہ آنکھ کھول دے اور وہ اپنی نصف صدی کی شریک حیات سے سلام دعا کرسکے مگروہ بھی رات کو مایوس لوٹ جاتاہے۔اور دوسرے روز پھر وہی آس لیے اسپتال آجاتاہے۔

سب جانتے ہیں عدالت نے کسقدر دبائو میں ٹرائل مکمل کیا، ٹرائل کو رٹ کو پل پل کی خبر نگران جج کو دینی  ہو تو کتنی آزادی سے فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔یہ اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں۔ مگر ان تمام حقائق اور ہر قسم کے دبائو کے باوجود عدالت کو یہ فیصلہ دینا پڑاکہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا،فیصلہ اندازوں) Conjectures (اور قیاس آرائیوں سے بھرا پڑا ہے۔تو پھر اس کا کیا مطلب ہو ا! یہی کہ نواز شریف سرخرو ہوا اور اس کا یہ بیانیہ درست ثابت ہوا کہ’’مجھے کرپشن میں نہیںکسی اور بات کی سزا دی جارہی ہے۔ ‘‘

دیہاتوں کے باسی بھی اب بے خبر نہیں رہے، ان کے پاس بڑی ڈگریا ں تو نہیں ہیں مگر بڑے دل اور بڑے ذہن ضرور ہیں اور شعور کی سطح بہت بلند ہے،اتوار کا دن گائوں میں گذرا، تو دیہات کے بیسیوں باشندوں سے ملاقات ہوئی ۔ ایک بزرگ نے پوچھا ’’سنا ہے میاں نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا‘‘ میں نے کہا میں نے بھی اخبار ات میں یہی پڑھا ہے۔دوسرے نے کہا ’’کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو پھر نواز شریف کو سزا دیکر سراسر زیادتی کی گئی ہے‘‘۔ تیسرے نے کہا ’’ نواز شریف کے خلاف پراپیگنڈے کا ڈھول پیٹنے والوں کو خاک چاٹنا پڑی ہے کرپشن میں تو اسے بریّت مل گئی ہے‘‘۔

ایک اور نے کہا ’’ نوازشریف کرپشن میں بَری ہوگیاہے تو پھراسے سزا کس جرم میں دی ہے‘‘؟۔میں تھوڑی دیر خاموش رہا تو کئی دوسرے بزرگ بول پڑے ایک نے کہا ’’ملک نوں ایٹمی طاقت بنان تے ‘‘ دوسرے نے کہا ’’سی پیک کے منصوبے لانے پر‘‘۔ زیادہ تر نے کہا ’’ایہہ وہارتے ناں ہویا‘‘(یہ کوئی انصاف نہیںہے)۔ لوگ نواز شریف کو  victim سمجھتے ہیں اور کھل کر اس کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ مریم کی سزا پر لوگوں میں غم و غصہ ہے۔

کرپشن کے جس غبارے میں پچھلے کئی سالوں سے ہوا بھر ی جارہی تھی ،احتساب عدالت نے الزام الیہ کو کرپشن سے بری کر کے ساری ہوا نکا ل دی ہے ۔ملزمان کا موقف درست نکلاہے کہ’’ہمیں کسی اور بات کی سزا دی جارہی ہے ‘‘کہا گیا کہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی مگر اس کا معیار زندگی اس کے ذرایع آمدنی سے بلند تھا ۔کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ ” “He is living beyond his  meansآسان ترین الزام ہے ۔یہ تو اس ملک کے ہر شخص کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔شاید کو ئی جج کوئی جرنیل کوئی سیاستدان اورکوئی سرکاری افسر اس الزام کا دفاع نہ کرسکے۔

راقم ذاتی طور پر کئی ججوں، جرنیلوں اور سرکاری افسروں کوجانتا ہے جو اپنے ذرایع آمدنی سے بلند معیار کی زندگی گزارہے ہیں۔ مگر ملک کے تمام اہم ترین اداروں نے ا یک نازک وقت میں اُس شخص کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیوں کیاکہ جوسیاسی استحکام (جس سے معاشی استحکام جڑا ہوتا ہے) کی سب سے بڑی علامت تھا جوملک میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لارہا تھا جو ملک میں شاہراہوںکے جال بچھا رہا تھا جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھتا اور دکھاتا تھا عالمی بساط کے رازدانوں کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ ایک فرد نہیں تھااُسکے خواب تھے ہدف ایک خاندان کو بے توقیر کرنا نہیں، ملک کو غیر مستحکم کرنا تھا ورنہ ملکی ادارے اور افراد ایسے نازک وقت میں ایسا ہرگز نہ کرتے جب وطنِ عزیز کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ چند افراد کی اناء کی تسکین کے لیے ہو رہا ہے؟ کیا یہ غیرسیاسی اداروں کی حاکمیت اور بالادستی تسلیم نہ کرنے کی سزاہے؟یا اس سے بھی زیادہ کچھ اور ہے؟راقم کے خیال میں یہ پاکستان کو غیر مستحکم رکھنے کے خواہشمند عالمی چوہدریوں کے ایجنڈے کا حصّہ ہے اور بد قسمتی سے وطنِ عزیز کے مقتدر اداروں کے کچھ افراد اور چند سیاستدان استعمال ہو رہے ہیں۔

کئی بار لکھ چکا ہو ں کہ نواز شریف حکومت کی گورننس ناقص تھی، مشیروں کا معیار پست تھا، قریبی رفقاء میں (عمران خان کے رفقاء کی طرح) اعلیٰ کردار کے افراد نہ ہونے کے برابر تھے مگر اس کے خلاف سارے ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹرز اور ہدایت کاروں کا مطمیع نظر کرپشن کا خاتمہ یا کرپٹ افراد کا محاسبہ  ہرگز نہیں ہے۔

پوری قوم حیران اور ششدر ہو کر دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کے لیے ایٹم بم بنانے میں مرکزی کردار اداکرنے والے سائینسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں بے عزتّ کیا گیااور اب ملک کو ایٹمی قوتّ بنانے والے اور پاکستان کے لیے ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھنے والے سیاسی لیڈر اور اس کے گھرانے کی تذلیل کرنے میں ہر ہتھکنڈا استعمال کیا جارہا ہے۔کیا ایسا کرنے والے کرپشن سے نفرت کرتے ہیں اور صحیح معنوں میں اس کینسر کا تدارک چاہتے ہیں؟تمام تر شہادتوں کی روشنی میں اس کا جواب ہے       ہرگز نہیں ! اگر وہ ایسا چاہتے تو قبلہ زرداری صاحب بمعہ ہمشیرگان جیل میں جلوہ افروز ہوتے، ڈاکٹرعاصم، شیخ رشید اور علیم خان ،گوندلوں ،اعوانوں کی معیّت میں پسِ دیوارِ زنداں ہوتے چندجرنیل اور کچھ جج بھی جیل میں ہوتے، نیک نیتّی ہو تو صفائی کا آغاز اپنے گھر سے کیا جاتا ہے۔

نواز شریف کے سوا کس کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے؟زرداری اور عمران خان صادق اور امین ہیں ڈاکٹر عاصم اور علیم خان ولی اللہ ٹھہرے، شیخ ،گوندل اوراعوان پوتّر قرار پائے ،کسی کا بھی احتساب نہیں ہوا، سب موجیں کررہے ہیں اور موجیں کر تے رہیں گے ۔ ا ی سی ایل پر ڈالنا محض دکھاوا ہے، زرداری اینڈ کمپنی کو الیکشن سے پہلے گرفتار کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جس “محکمہ زراعت ” نے رائو انوار کو ہتھکڑی نہیں لگنے دی ، اس کی ضمانت ہوئی، وہ زرداری (جو ان کے پائوں پڑا ہواہے)کو کیسے گرفتار ہونے دیںگے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ نہ کرپشن کے خلاف کوئی جہاد کر رہا تھا نہ کوئی کرنا چاہتا ہے۔

برطانیہ میں کئی باخبر حضرات سے ملاقات ہوئی۔تو ان میں سے زیادہ تر نے اسی بات کی تائید کی کہ عالمی طاقتوں اور پاکستان کے ازلی دشمنوں کو ایٹمی ملک پاکستان میں سی پیک کی صورت میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہضم نہیں ہورہی تھی، وہ پاکستان کو ترقی سے ہمکنار ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے اس لیے انھوں نے اسے غیر مستحکم کرنے کے لیے سب سے مضبوط ستون کو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ عدلیہ کے ریٹائر جج صاحبان نے اسے انصاف کے منافی اور سنیئر وکلاء نے اسے کمزور بنیاد کا فیصلہ قرار دیاہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ کچھ غیر سیاسی عناصر کی سیاست میں کھلم کھلا مداخلت جاری ہے ۔وہ جنہوں نے اپنے قلم اور ضمیر کی قیمت وصول کر رکھی ہے ان سے تو کوئی گلہ نہیں مگر باضمیر اور محب وطن لکھاری اور اینکر ان تشویشناک حقائق کو اپنے کالموں اور بحث کا موضوع کیوں نہیں بناتے ؟۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی سزا کا ردِعمل کیاہوگا؟راقم کے خیال میں ایک دوشہروں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے ورکر کوئی سخت احتجاج نہ کر سکیں گے۔میاں نواز شریف کی آمد پر بھی بہت بڑا شونہیں ہو سکے گا۔کیونکہ پارٹی کو نچلی سطح تک منظّم نہیں کیا گیااور دوسرایہ کہ اس پارٹی کا ورکرنہ فائٹر ہے اور نہ Violent۔مگر عوام میں نواز شریف کے لیے ہمدردی میں بہت اضافہ ہوا ہے اور ووٹروں میں پہلے سے کہیں زیادہ جوش وخروش پایاجاتاہے، شہروں سے زیادہ دیہاتوں میں اور مَردوں سے زیادہ عورتوں میں __ اخبار کے مطابق انتہائی خدمت گزار بیٹے نواز شریف کی والدہ نے کہا ہے کہ” میں خود بیٹے کے استقبال کے لیے ائیر پورٹ پر جاؤنگی”۔ یہ سُنکر دیہاتوں کی سیکڑوں اور ہزاروں عورتیں ماں کے ساتھ جانے کی تیار ی کر رہی ہیں __

لندن میں نواز شریف کے بیٹے کی رہائش گاہ(جہاں میاں نواز شریف بھی موجودتھے)پر حملہ انتہائی شرمناک اورغیر انسانی حرکت ہے،تحریکِ انصاف کے چیئرمین کو اس بیہودگی کی کھل کر مذمّت کر نی چائیے اور اپنے ورکروں کو دیار ِ غیر میں ایسی گھٹیا حرکتوں سے منع کرنا چایئے۔افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ سیاست میں اس طرز کی بدتمیزی اور بدتہذیبی جوپہلے نہ تھی اب عروج پر ہے، پی ٹی آئی کے سنجیدہ اور مہذبّ عناصر خود آگے بڑھ کر اس روش کو لگام دیں۔ گھروں پر حملوں کی روایت چل نکلی تو کوئی گھرمحفوظ نہ رہیگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔