ایکسپریس میڈیا گروپ کے انگریزی چینل کا آج آغاز

 بدھ 11 جولائ 2018
پاکستان میں آزاد انگریزی نیوز چینل کی اتنی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی جتنی آج ہے۔

پاکستان میں آزاد انگریزی نیوز چینل کی اتنی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی جتنی آج ہے۔

کراچی: ایکسپریس میڈیاگروپ نے اپنی نشریات میں انگریزی چینل کا گرانقدر اضافہ کر لیا تاہم ٹریبیون ٹوینٹی فور بائی سیون کا آج سے باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

ٹریبیون ٹوینٹی فور بائی سیون چینل ایکسپریس میڈیا گروپ کا تازہ ترین اضافہ ہے۔ اس سے پہلے گروپ کے زیر انتظام روزنامہ ایکسپریس بیک وقت ملک کے 11شہروں سے شائع ہو رہا ہے جبکہ سندھی زبان میں سندھ ایکسپریس2 شہروں اور انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے شائع ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ گروپ کے زیر انتظام ملک کا سب سے بڑا اور معتبر اردو چینل ایکسپریس نیوز پہلے ہی اپنی نشریات پیش کر رہا ہے جبکہ ایکسپریس انٹرٹینمنٹ بھی اپنے ناظرین کو تفریح مہیا کر رہا ہے۔ اس طرح ٹریبیون ٹوینٹی فور بائی سیون کو اپنے پرنٹ اور ٹیلی ویژن پلیٹ فارموں کے ذریعے خبروں کے وسیع ذرائع تک رسائی حاصل ہے اور یہ اپنے ناظرین تک بروقت مصدقہ خبریں پہنچائے گا۔

ٹریبیون ٹوینٹی فور بائی سیون کو پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل نیوز روم کی معاونت حاصل ہے جہاں انتہائی محنتی پروفیشنلز کی ٹیم ہمارے پرنٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کیلئے مواد فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں ایک آزاد انگریزی نیوز چینل کی کبھی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ سیاسی، سماجی، فنی شعبوں سمیت ہر سطح پر رونما ہونے والی عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کوعالمی برادری میں اپنا ایک باوقار مقام بنانا اور دنیا سے اسی کی زبان میں بات کرنا ہے۔

ٹریبیون ٹوینٹی فور بائی سیون پاکستان کو دنیا تک لے جائے گا اور دنیا کو پاکستان تک لے کر آئے گا۔ یہ پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرے گا اور دنیا کو بتائے گا کہ ہمارے لوگ کیا کہتے ہیں۔ غیر جانبدار صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی تعصب کے بغیر تصویر کے دونوں رخ دنیا کے سامنے پیش کیے جائیں اور ایکسپریس گروپ کے تمام اداروں کی یہی پالیسی رہی ہے اور ٹرائیبیون ٹوینٹی فور بائی سیون کی بھی یہی پالیسی ہو گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ہمارے ہم وطن بہت اہم ہیں، اس لیے معاشرے میں جو غلط ہو گا ہم اسے اجاگر کریں گے اور طاقتور لوگوں کو احتساب کے دائرے میں لائیں گے اور ہمیشہ اپنے وطن کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔