سوشل میڈیا دانشوری: خطرناک ذہنی بیماری

غفران عباسی  جمعرات 12 جولائ 2018
یہ لوگ سوشل میڈیا پر اہم و غیر اہم خبریں، تجزیئے اور ان پر اپنے تبصرے پیش کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ لوگ سوشل میڈیا پر اہم و غیر اہم خبریں، تجزیئے اور ان پر اپنے تبصرے پیش کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آپ میں سے جو لوگ سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ دانشوری جھاڑنے میں مصروف رہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ تحریر ہر گز نہ پڑھیں کیونکہ اسے پڑھنے کے بعد آپ کی رائے موصوف کے حوالے سے کچھ اچھی نہیں ہوگی۔ ویسے بھی یہ ضروری کب ہوا ہے کہ قاری کسی قلم کار سے سو فیصد اتفاق کریں، آپ کو اختلاف کا مکمل حق حاصل ہے، ضرور کیجیے گا۔

آج سے بارہ پندرہ سال پہلے تک کامیابی حاصل کرنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا تھا۔ محنت، منت، سماجت تقریباً سب کچھ کرنا پڑتا تھا۔ ادارے کم ہوا کرتے تھے؛ محنت، ہمت اور جذبہ کثیر مقدار میں پایا جاتا تھا۔ ہر کامیاب شخص محنت کے اصولوں پر عمل کرکے ہی بلندی اور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا تھا اور کامیاب شخص کہلاتا تھا۔

دورِ حاضر کے کیا کہنے، آپ کی ایک ٹویٹ، ایک فیس بک پیغام ایک عدد ویڈیو یا پھر ایک تصویر آپ کو عوام و خواص میں مقبول کردیتی ہے۔

اس کی ایک عام سی مثال ارشد خان عرف چائے والا ہے۔ بات سوشل میڈیا دانشوروں کی ہو رہی ہے تو ان کی کچھ سرگرمیاں بھی سناتا چلوں۔ چونکہ ہم تمام چیزوں کو منفی پیرائے میں استعمال کرنے کے عادی ہیں اس لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون بھی اسی ظلم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ موبائل فون عام ہونے کی وجہ سے ایسے حضرات موبائل فون کو اپنے ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہیں اور اپنی دانشوری کو موبائل فون کی مدد سے زندہ رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے گھر، گلی، محلے اور علاقے سے بے خبر لیکن دنیا سے باخبر ہوتے ہیں۔ ان حضرات میں نکتہ چینی اور ہر وقت بلاوجہ تنقید بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ تنقید برائے تنقید کرنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہی پائی جاتی ہے۔ ہر تعمیری کام میں نقص نکالنا اور اس میں بھی دانشوری جھاڑنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ ایسے حضرات لا ئکس، کمنٹس اور فیورٹس پر خاص نظر رکھتے ہیں اور اسے مستند دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے پاس علم و تحقیق ہو نہ ہو، انٹرنیٹ پیکیج ضرور ہوتا ہے اور انٹرنیٹ پیکیج کی عدم دستیابی سے ان کی زندگی کا دُوبھر ہوجانا، ان کی بیماری کے شدید ہونے کی خطرناک علامت ہے۔ یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ انہی لوگوں کی بدولت آج سوشل میڈیا اتنا کامیاب ہے۔ یہ حضرات چونکہ سوشل میڈیا پر زیادہ پائے جاتے ہیں اس لیے عموماً اہم و غیر اہم خبریں، تجزیئے اور ان پر اپنے تبصرے پیش کررہے ہوتے ہیں۔ تبصرہ کرنے کا کوئی بھی موقع یہ اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے؛ اور جانے بھی کیوں دیں کہ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی کام بھی تو نہیں ہوتا۔ تبصروں میں جگتوں کا بے دریغ استعمال لوگوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے لہذا اس کا آزادنہ استعمال سوشل میڈیا پر تبصروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

بات کو بڑھا چڑھا کر اس کا بھرتا بنانا ایک عجیب ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے، اس طرح کے ذہنی مسائل بھی ہمیں سوشل میڈیا پر خصوصاً دیکھنے میں ملتے ہیں۔

سوشل میڈیا ٹرینڈز بنانے میں بھی ہمیں چند ہی لمحے درکار ہوتے ہیں: یہ کیا ٹائپ، یہ لگایا ہیش ٹیگ اور یہ گیا ٹرینڈ۔ مزے کی بات تو یہ کہ کچھ لوگ اپنی بات کو وزن دینے کےلیےنامور لکھاریوں کے اقوال کوٹ کرتے ہیں اور گفتگو کے شروع میں ہی دو تین کتابوں اور دانشوروں کے نام لے کر اپنی بات کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ ذہنی خلفشار سے متاثر حضرات شدید سیاسی و انتظامی مخالفت کرتے ہوئے یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس سے معاشرے میں کیا بگاڑ ہوگا۔ ان کا اس قدر شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوکر ہر ضروری اور غیر ضروری بات پر بلاوجہ کا ردعمل دینا دانشوری نہیں بلکہ بروقت علاج کی طرف واضح اشارہ ہے۔

ایک اور بڑی اہم بات یہ کہ جعل سازی، ملاوٹ یا نقلی اشیاء کی طرح جعلی اکاؤنٹس کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ایک شخص متعدد اکاؤنٹس کا بانی ہوتا ہے۔ سرگرم رکن بیک وقت مختلف اکاؤنٹس سے ایکٹیو ہوتا ہے۔ بات تو ختم ہونے پر آ ہی نہیں رہی۔ کاپی پیسٹ کلچر ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ کمبخت ضرورت سے زیادہ ہی بڑھتا چلا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنان تحقیق سے بہت دور نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مصدقہ ذرائع کے حوالوں کے بجائے فیس بک پوسٹس اور انسٹاگرام اپ ڈیٹس کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ مختلف قسم کے اقوالِ زریں غلط ناموں سے پھیلائے جارہے ہوتے ہیں۔

شاعری کی تباہی اور بربادی میں بھی ایسے کرداروں کا بڑا ہاتھ ہے جو کسی اور کا کلام کسی اور کے نام سے منسوب کرنے میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں۔ مثلاً فراز کا شعر محسن اور میر کا شعر غالب کے نام۔ مختلف تحریروں میں سے اپنی پسند کی چیزیں نکال کر سوشل میڈیا پر عام کی جاتی ہیں، سیاق و سباق جائے بھاڑ میں۔

میری نظر میں ہمارے یہ رویّے بہت غیر پیشہ ورانہ ہیں۔ ایسے رویّے بدلنے کےلیے ملک گیر مہم کا آغاز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں بڑی شخصیات، جیسے کہ شوبز سے وابستہ افراد، سوشل ورکر، میڈیا، معروف دینی علمائے کرام اورسیاسی شخصیات نیز اساتذہٴ کرام اور والدین وغیرہ کو اہم ترین کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس طرح نشے سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے ادارے قائم کیے جاتے ہیں (گو کہ ان کا حاصل حصول کچھ خاص نہیں) بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے غیر ضروری اور مہلک استعمال کی روک تھام کےلیے بھی ایک ادارہ ایسا قائم کیا جانا چاہیے جو استعمال سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کا جائزہ لے۔

صحیح وقت پر اس بیماری کا علاج نہ کروانے پر اگلی نسلیں اور ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ پس اس بیماری کی آگہی بہت ضروری ہے تاکہ نقصان سے بچا جائے یا اس کا زیادہ سے زیادہ ازالہ ہی کیا جاسکے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

غفران عباسی

غفران عباسی

بلاگر ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر زورِ قلم سے طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔