یہ کھیل آخر کب تلک؟

مقتدا منصور  جمعرات 12 جولائ 2018
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

احمد فراز نے کہا تھا کہ

میں آج زد پہ اگر ہوں، تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

میاں نواز شریف اور ان کا خاندان آج احتساب کی زد پہ ہے۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک سے خطیر رقم بیرون ملک منتقل کی اور اپنے کاروبارکو فروغ دیا اور جائیداد بنائی۔ یوں ان کی وجہ سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا، بلکہ وہ خود بھی امین و صادق نہیں رہے۔لیکن کہانی یہاں ختم ہونے والی نہیں، یعنی جو آج خوش گماں ہیں،انھیں سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی باری بھی آیا ہی چاہتی ہے۔آصف زرداری اور ان کی بہن کانامECLمیں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔لہٰذا اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قبل ملک کی سیاسی وانتظامی نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

کرپشن صرف مالیاتی نہیں ہوتی، بلکہ اخلاقی، آئینی اور قانونی بھی ہوتی ہے۔آئین میں تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز ،اقتدار واختیار کا غلط استعمال، اقربا پروری اور میرٹ اورشفافیت کو نظر انداز کرنا بھی عالمی سطح پر متعین  کردہ تعریف کے مطابق کرپشن ہے۔ کرپشن صرف پاکستان ہی کا نہیں ترقی یافتہ ممالک سمیت پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ کرپشن دراصل گورننس کی کمزوریوں کا شاخسانہ ہوتی ہے۔

مضبوط اور درست گورننس کی صورت میں کرپشن پرکنٹرول تقریباً آسان ہوتا ہے۔اس کے برعکس اگر گورننس کمزور ہوگی،تو دیگر انتظامی برائیوں میں اضافے کے ساتھ کرپشن بھی کنٹرول سے باہرہوجاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میںگورننس کا نظام اچھا ہونے کی وجہ سے کرپشن کنٹرول میں رہتی ہے۔اس کے برعکس ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں کمزور گورننس کی وجہ سے کرپشن کا جن بے قابو ہوتا چلا جاتا ہے۔جو ایک وقت آتا ہے کہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔

بانی پاکستان نے دستورساز اسمبلی میں اپنی پالیسی تقریر کے دوران جہاں ایک طرف ریاست کے سیاسی وانتظامی خدوخال واضح کیے تھے، وہیں انھوں نے کرپشن کے بارے میں کھل کر اظہار کیا تھا اور ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن کو قرار دیا تھا۔انھوں نے سیاستدانوں اور ریاستی ذمے داروں کو اس سے بچنے کی تلقین کی تھی۔مگر وطن عزیز میں روز اول ہی سے متوازی حکمرانی کے تصور نے گورننس کو صحیح خطوط پر استوار نہیں ہونے دیا۔ جس کی وجہ سے ایک طرف انتظامی ڈھانچہ کمزور ہوتا چلا گیا دوسری طرف ملک مختلف نوعیت کی کرپشن میں لتھڑتا چلا گیا۔

اب جہاں تک مختلف نوعیت کی بدعنوانیوں کا تعلق ہے، تو یہ وطن عزیز کے سیاسی اورانتظامی ڈھانچہ کی رگ وپے میں پہلے دن سے سرائیت کیے ہوئے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سنجیدگی کے ساتھ ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کو بہتر بنانے اور گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جاتی، تاکہ ملک میں اچھی حکمرانی (Good Governance)قائم ہوتی تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا۔ مگر بعض بااثر قوتوں نے اقتدار واختیار پر اپنے کنٹرول کو قائم کرنے کی خاطرجمہوری عمل کو derailکرنے اور سیاستدانوں کو عوام میں رسوا کرنے کا سلسلہ پہلے دن ہی سے شروع کردیا تھا۔ یہ کھیل اب میاں نوازشریف اوران کے پورے خاندان کوسیاست سے بیدخل کرنے کے لیے کھیلا جارہاہے۔

ہم نہیں کہتے کہ میاں نواز شریف کوئی پارسا یا دیانت دار شخصیت ہیں۔ ہمیں اس پر بھی شک نہیں کہ انھوں نے یا ان کی جماعت سے متعلق افراد نے دوران اقتدار بدعنوانی نہیں کی ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ آیا وطن عزیز میں سیاستدانوں کے علاوہ دیگر ادارے اور مقتدر حلقے ہر قسم کی کرپشن سے مبرا ہیں؟کیاعدالتوں میں کرپشن نہیں ہے؟ کیا ہماری بیوروکریسی اور دیگرریاستی ادارے آئین میں تفویض کردہ ذمے داریاں پوری کررہے ہیں اورکیاان کے دامن پر بدعنوانیوں کے داغ نہیں ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ادارہ مقدس گائے بن کربیٹھ گیا ہے،کسی نے توہین عدالت کا سہارا لے کر خود کو ہر قسم کی تنقید سے بلند کرلیا ہے۔ایسے میں صرف سیاستدان رہ گئے، جن پر ہر قسم کا الزام لگا دینا اور جن کا میڈیا ٹرائیل ہرکس وناکس کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے۔

کون سی ایسی سیاسی شخصیت ہے، جس پر کرپشن اور ملک دشمنی کے الزام نہ لگے ہوں۔ کیا ایوب خان نے مادر ملت کو بھارتی ایجنٹ نہیں کہا؟کیا شیخ مجیب الرحمان پر بنگالیوں کے حقوق مانگنے کی پاداش میں ملک دشمنی کا الزام نہیں لگا؟ کیا ہردور میں سائیںجی ایم سید، باچا خان، باباغوث بخش بزنجواوراجمل خٹک کو ملک دشمن قرار نہیں دیا گیا۔ کیا مسلم اقلیتی صوبوں سے پاکستان آنے والوں کی اولادوں اور ان کی مقبول قیادت اور بانی ایم کیوایم کو ’’را‘‘  کا ایجنٹ قرار دے کر ان کا حلقہ حیات تنگ نہیں کیا جارہا؟ کیا کراچی کے وسائل پر کنٹرول کے لیے اس کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی؟

ساتھ ہی یہ سوالات بھی غور طلب ہیں ۔ کیا اس ملک کو دولخت کرنے والے محب وطن تھے؟ اگر نہیں تو ان کی تدفین قومی اعزاز کے ساتھ کیوں کی گئی؟کیا جسٹس منیرمرحوم نے نظریۂ ضرورت ایجاد کرکے ملک کی کوئی خدمت سرانجام دی تھی؟ کیا جسٹس انوار الحق مرحوم نے بھٹو کو پھانسی دے کراس ملک میں انصاف کا بول بالا کیا تھا؟ کیا آمر کو تین برس حکومت کرنے اور آئین میں تبدیلی کا اختیار دے کر ملک کوجمہوریت کی راہ پر لگانے کی کوشش کی گئی تھی؟ کیا سندھی اور بلوچ نوجوانوں کو غائب کرکے  ملک کی خدمت کررہے ہیں؟

عرض ہے کہ اس صورتحال کی ذمے داری خود سیاستدانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر صرف گذشتہ دس برسوں کا احاطہ کیا جائے، تو بعض انتہائی افسوسناک حقائق سامنے آتے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کی تیاری کے وقت مسلم لیگ(ن) کا آئین کی شق 62اور63کی تنسیخ کے خلاف مزاحمت کرنا، امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی پر لگائے جانے والے الزامات پر میاں نواز شریف کا کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ جانا۔ 2013میں اقتدار میں آنے کے بعد جب کراچی آپریشن کا آغاز ہوا، تو صرف ایک جماعت کو نشانہ بنائے جانے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا۔ حالانکہ سپریم کورٹ میں پانچ جماعتوں کے مسلح ونگز کی موجودگی کے بارے میں رپورٹس جمع کرائی گئی تھی۔ مگر بقیہ چار جماعتیںچونکہ اداروں کی منظور نظر ہیں، اس لیے ان سے دانستہ صرف نظر کرنا۔

اسی طرح اسوقت پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کا کردار سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر 25جولائی کومتوقع الیکشن میں پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کوخلائی مخلوق کی سرپرستی کی وجہ سے جعلی اکثریت مل بھی گئی، تو کیا وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ چل سکیں گے؟ کیا جب محمد خان جونیجو جیسی نرم طبیعت شخصیت اسٹبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہوسکی، توخود سر اور انا پرست عمران خان کتنے عرصہ تک قابل قبول رہ سکیں گے؟ اسی طرح آصف زرداری ، جنھیں ان کے پانچ سالہ دور صدارت میں سکون کی نیند سونے نہیں دیا گیا،کیا اب انھیں کھل کر کام کرنے دیا جائے گا؟ جب کہ ان کا نام الیکشن سے پہلے ہی ECLمیں ڈالاجا چکا ہے ، ایف آئی اے نے انھیں طلب کیا ہے۔

عرض ہے کہ پاکستان کا وجود صرف اور صرف وفاقی پارلیمانی جمہوریت سے مشروط ہے۔ اس لیے ملک کی بقاکی خاطر سیاست دان ہوں کہ ریاستی ادارے سبھی کو آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔