عوامی جمہوریت

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 12 جولائ 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

یہ کوئی پچاس سال پہلے 1967کی بات ہے،  لاہور میں نیشنل عوامی پارٹی کا اجلاس تھا اجلاس میں کراچی سے جو دوست شرکت کے لیے گئے تھے ان میں ہم بھی شامل تھے کراچی کے مہمانوں کو سید مطلبی فرید آبادی کے مکان ماڈل ٹاؤن میں ٹھہرایا گیا تھا۔

مطلبی صاحب ہندوستان کی پارٹی کے اہم ممبران میں شامل تھے، مطلبی صاحب سے ہمارا رابطہ 1964 سے تھا اور ہم ان کی سرپرستی میں نکلنے والے رسائل کے لیے لکھتے تھے، لاہور کے دوستوں میں ان دنوں یہ بحث چل رہی تھی کہ آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں عوامی جمہوریت کے مرحلے سے گزرنا ہوگا، مطلبی صاحب سے ہماری طویل نشستیں ہوتی تھیں اور مرکزی موضوع عوامی جمہوریت ہی رہتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں جس وڈیرہ شاہی جمہوریت کا راج تھا وہ دراصل عوام کو دھوکا دینے کی ایک منظم سازش تھی اس وڈیرہ شاہی جمہوریت کو ایکسپوز کرنے کے لیے مطلبی صاحب کی زیر ادارت عوامی جمہوریت کے نام سے ایک ترجمان نکلتا تھا۔

عوامی جمہوریت ملک کے ہر حصے میں بھیجا جاتا تھا اور اس میں معیاری مضامین شایع ہوتے تھے اس رسالے کو نکالنے والے للو پنجو نہ تھے بلکہ صحافت سے قریبی تعلق رکھنے والے اعلیٰ پائے کے قلم کار تھے، ہمارا نوجوانی کا دور تھا اور انقلاب کا سودا سر میں سمایا ہوا تھا۔ سیاسیات میں ایم اے کرنے کے بعد ہم نے جرنلزم میں بھی ماسٹر کرلیا تھا اور انقلابی دوستوں کی طرح ہم بھی انقلابی رومانیت کے شکار تھے اپنے وقت کا زیادہ حصہ مزدوروں میں صرف کرتے تھے۔

ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ تبدیلیوں کے حوالے سے ہمارے سینئر حضرات کے ذہن صاف نہ تھے اور نظری سیاست میں تو بہت دلچسپی تھی عملی سیاست میں بہت کم دلچسپی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ دوستوں کو دانشورانہ گائیڈنس حاصل نہ تھی نہ کوئی منصوبہ ساز تھا نہ کوئی ایسا معیاری تھنک ٹینک تھا جو کارکنوں کو رہنمایانہ گائیڈنس فراہم کرے ، کوئی مرکزی قیادت نہ تھی جس کی وجہ سے کارکن اپنی توانائیوں کا صحیح استعمال نہیں کرسکتے تھے، نیشنل عوامی پارٹی ایک معتبر ماس فرنٹ تھا لیکن بدقسمتی سے یہ پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی تھی اور کارکن مایوسی کا شکار تھے۔ یہ صورتحال حوصلہ شکن تھی لیکن کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مزدوروں میں کام شروع کیا اور ٹریڈ یونین تحریک کو مثالی تحریک بنادیا۔

اب اس دور کو گزرے پچاس سال کا عرصہ ہو رہا ہے لیکن اس دوران بایاں بازو عضو معطل بنا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کامریڈ انسانوں کے سمندر میں مچھلی کی طرح رہنے کے بجائے سمندر کے ساحل پر کیکڑوں کی طرح پڑے رہتے ہیں، ان کا دلچسپ مشغلہ ساتھیوں کی برائیاں کرنا رہ گیا ہے جس کا نتیجہ اشتہار کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کامریڈ ابھی تک انڈر گراؤنڈ سیاست سے باہر نہیں نکل سکے۔

عوام سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوامی جمہوریت کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں 70 سال سے جو جمہوریت کے نام پر اشرافیائی آمریت مسلط ہے اسے عوامی جمہوریت کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور اب پاکستان کے عوام اشرافیائی آمریت سے باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہیں چونکہ عوامی جمہوریت کے لیے سنجیدہ افراد اور پارٹیاں ناپید ہیں اس لیے عوام ہر اس لیڈر کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو عوام کے مسائل حل کرنے کی بات کرتا ہے عوام کے مسائل حل کرنے کے دعوے پچھلے 70 سال سے کیے جا رہے ہیں لیکن لٹیری اشرافیہ کا زیادہ وقت لوٹ مار میں گزرتا رہا لوٹ مار اب اس مقام پر پہنچ گئی تھی جہاں احتساب ناگزیر ہوجاتا ہے۔

سو آج کل پرانے پاپی احتساب کے جس عتاب سے گزر رہے ہیں اس کی وجہ اشرافیہ بہت چوکنی ہوگئی ہے، اس ملک کے عوام زندگی کی دشواریوں سے اس قدر تنگ ہیں کہ اگر انھیں کوئی مخلص اور ایماندار قیادت ملے تو وہ آنکھ بند کرکے اس کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کا تعلق مڈل کلاس سے ہے اور اس پر کرپشن کے کوئی  الزامات بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ پرانے پاپیوں سے متنفر عوام اب عمران خان کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اگر بائیں بازو کے زعما و عوامی جمہوریت کے ایجنڈے کو لے کر عوام میں آتے تو بلاشبہ عوام میں انھیں زبردست پذیرائی حاصل ہوتی لیکن افسوس کہ بایاں بازو عملی طور پر عضو معطل بنا ہوا ہے جس کا فائدہ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو نظریاتی ناپختگی کا شکار ہیں۔

جمہوری پراسس سے گزرنے کو ہمارے انقلابی دوست وقت کا زیاں سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے مغربی بنگال کی جیوتی باسو ڈاکٹر این کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوری تجربے وقت کا زیاں ہیں۔ کسی رہنما نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ مغربی بنگال میں جیوتی باسو حکومت کی ناکامی کے کیا عوامل تھے۔ اگر باسو حکومت کی ناکامی کے عوامل سے آگہی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عوامل کی روشنی میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

دنیا میں آنے والی کوئی تبدیلی کوئی انقلاب عوام کو ساتھ لیے بغیر نہیں آیا نہ آسکتا ہے اور عوام کو ساتھ لینے انھیں متحرک کرنے کے لیے کسی نہ کسی ماس فرنٹ کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں ماشاء اللہ بائیں بازو کے ماس فرنٹ بنا لیے گئے ہیں لیکن یہ فرنٹ مردہ گھوڑے بنے ہوئے ہیں، بائیں بازو کے انقلابی دوستوں کی سیاسی مصروفیت میں یوم مئی منانا، یوم حسن ناصر منانا سرفہرست ہیں اور افسوس یہ ہے کہ اس بات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ شکاگو کے مزدوروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں کیوں دیں؟ عوام عوامی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں بالادستی عوام کی ہو۔ یہ کام شوقیہ فنکار انجام نہیں دے سکتے بلکہ وہ عوام سے کمیٹڈ لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کا جینا مرنا عوام کے لیے ہو، مزاحیہ اداکار یہ سنجیدہ اور ذمے دارانہ کام انجام نہیں دے سکتے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔