گدھے کی ریس میں پہلا نمبر

انیس منصوری  جمعرات 12 جولائ 2018
muhammad.anis@expressnews.tv

[email protected]news.tv

بھاگ ۔بھاگ ۔بھاگ میرے شیر۔ میرے کان میں یہ آواز دھماکے کر رہی تھی۔ انتخابات کے دن چل رہے ہیں اس لیے میں سمجھا کہ شاید شہباز شریف’’شیر‘‘ کو بھاگنے کا حوصلہ دے رہے ہیں۔ویسے بڑے بڑے چوہدری آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ شہباز شریف’’شیر‘‘ کو ریس میں بھگا رہے ہیں یا ریس سے ہی بھگا رہے ہیں۔

آواز تھوڑی اور تیز ہوئی تو مجھے لگا کہ کہیں شیر میرے قریب نہ آجائے۔ آواز میں جوش تھا کہ بھاگ بھاگ میرے شیر۔ گاڑی میں میرے پاؤں کپکپا رہے تھے۔ ایسا ہی ڈر تھا کہ جیسے نیب نے میری نواز شر یف کے ساتھ ’’فوٹو‘‘ بنا لی ہو۔ جیسے FIA نے مجھے بلاول ہاؤس کے باہر کوئی ’’کھاتا‘‘ کھولتے دیکھ لیا ہو۔ ایسا ہی خوف جیسے رینجرز نے مجھے مُکا چوک پر پٹرول بھرواتے ہوئے ’’تاڑ‘‘ لیا ہو۔ میں نے دل میں زور زور سے کہنا شروع کر دیا۔ جو بھاگ گیا وہ سکندر جو ہاتھ لگ گیا اُس کا مقدر۔

میں نے بڑی ہمت کر کے آنکھیں کھو ل لیں۔ گاڑی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا۔سیٹ بیلٹ کو اچھی طرح چیک کیا۔ اور یہ سوچنے لگا کہ کسی نے مجھے ایک ویڈیو بھیجی تھی جس میں گاڑی کے پاس شیر آتا ہے۔ گاڑی کے دونوں طرف الطاف حسین والی ’’پپی‘‘ لے کر چلا جاتا ہے۔ گاڑی میں سب بھائی کی دعا سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ گاڑی میں ایک ’’بلا‘‘ بھی پڑا ہے۔ سُنا ہے آج کل کے شیر ’’بلا‘‘ کھا کر زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ویسے میں نے ٹی وی میں جتنی فلمیں دیکھی ان سب میں شیر جیپ پر بیٹھ جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں شیر کا شکار کرنے کے لیے تیر کا استعمال بھی ہوتا تھا۔ لیکن دور ِجدید میں تیر اور تیر انداز ملتے ہی نہیں۔

کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر رات کے 12 بج رہے تھے۔ میری گاڑی جیل کے بالکل سامنے سے گزر رہی تھی۔ بائیں جانب سے آوازیں آرہی تھی کہ بھاگ۔بھاگ میرے شیر۔ میرے پاس تحریک انصاف یا پاک سر زمین پارٹی والا کوئی آپشن نہیں تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ شیر میرے قریب آ رہا ہے۔ موٹر سائیکل سوار میری گاڑی کے آگے آکر کہنے لگے ’ہٹو بچو‘‘۔ میری کپکپی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اتنے خوف میں ایک دم باچا خان یاد آگئے۔ باچا خان نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ان کے گاؤں کے لوگوں کو انگریز فوجیوں نے ایک میدان میں جمع کیا۔اور میدان کے چاروں طرف توپیں لگا دیں۔ سب لوگ خوف میں سہمے ہوئے کھڑے تھے۔

انگریز افسر نے توپ چلانے والوں کو حکم دیا کے گولے تیار رکھو۔ سب لوگ زور زور سے کلمہ پڑھنے لگے کہ اب بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ توپ چلانے سے پہلے ایک خاص قسم کی آواز نکالی جاتی تھی۔ جیسے ہی وہ آواز نکلی سب لوگ لیٹ گئے اور آنکھیں بند کر لیں۔ اکثر لوگ یہ سمجھے کہ توپ چل چکی اور وہ مر چکے ہیں۔ لیکن انگریز آفیسر نے سب کو جانے کے لیے کہہ دیا۔ مگر اپنا خوف و دبدبہ سب کے دل میں بٹھا دیا۔ باچا خان اُس وقت جیل میں تھے۔ میری حالت بھی ایسی ہی تھی۔ میرے ایک طرف جیل تھی۔ اور دوسری طر ف شیر۔

کچھ موٹر سائیکل والے اپنے موبائل سے ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔مجھے لگ رہا تھا کہ شیر اور میری گاڑی اب بلکل ساتھ ہوگئے ہیں۔ میں یہ سوچنے لگا کہ شیر میری گاڑی کو ٹکر مارے گا یا اوپر چڑھ کر پہلے شیشہ توڑے گا۔ شیر کون سے دروازے سے آئیگا۔ وقت کم رہ گیا تھا اور میں شیر سے بچنے کی بجائے صرف سوچ رہا تھا کہ شیر کس کس طرح حملہ کر سکتا ہے۔ میرا تو شیر سے پہلا ٹکراؤ تھا لیکن شیر تو پتہ نہیں مجھ جیسے کتنے لوگوں کو کھا چکا تھا۔

شیر کو حملہ کرنے کا زیادہ تجربہ ہے۔ میں نے اتنی ہمت ہی نہیں کی کہ یہ دیکھ ہی سکوں کہ شیر کی شکل کیسی ہے ۔اس کی دہاڑ کا عالم کیا ہے، بس یہ لگ رہا تھا کہ اب شیر اور میری گاڑی ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ آواز تیز ترین تھی کہ بھاگ میرے شیر بھاگ۔ ایک لمحہ کے لیے خیال آیا کہ شیر کو نہیں تو کم سے کم شہباز کو ہی دیکھ لوں۔ لیکن جان کا خوف اتنا تھا کہ میں نے نہ اپنے دائیں جانب جیل کو دیکھا اور نہ ہی بائیں طرف شیر پر نگاہ کی۔ بس یہ دعا کی یا اللہ۔ مجھے شیر اور جیل کے درمیان سے نکال دے۔ مجھے لگا کہ خدا نے میری دعا قبول کر لی ہے۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں کہ کہیں شیر مجھے کھا نہ جائے۔ پھر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اب شیر میری گاڑی سے آگے نکلنے والا ہے۔

جب مجھے یقین ہو گیا کہ شیر مجھ سے آگے نکل گیا ہے تو میری ہمت بندھی اور میں نے آنکھیں کھولیں۔ تو دیکھا کہ شیر کے پیچھے گاڑی بندھی ہوئی ہے۔ آواز کم ہو گئی تھی کہ بھاگ میرے شیر بھاگ۔ شیر کے پیچھے گاڑی میں ایک شخص بیٹھا تھا جس کے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا۔ اس ڈبے کو وہ بار بار گاڑی پر مارتا تھا۔جس سے ایک شور پیدا ہوتا تھا ۔ جیسے ایک ڈبے میں بہت سے پتھر بھرے ہوں اور اُسے بجایا جارہا ہو۔ جیسے ہی وہ ڈبہ بجاتا۔اور زور سے کہتا بھاگ میرے شیر بھاگ تو گاڑی کی رفتار بڑھ جاتی۔ مجھے پیچھے سے دیکھنے پر اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی شہباز نہیں ہے۔ میری سانس میں سانس آئی۔ میں نے کہا اب اس کی خیر نہیں ہے۔وقت گزر گیا تھا۔ میں جیل کو پیچھے چھوڑ چکا تھا۔ اس بات کا بھی یقین تھا کہ وہ شہباز نہیں اب کنفرم کرنا رہ گیا تھا کہ شیر کا رنگ کیسا ہے۔

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، بس میں نے گاڑی دوڑائی، مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ کوئی شیر نہیں بھاگ رہا تھا۔ بلکہ اتنا رش اس لیے تھا کہ گدھوں کی ریس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی گاڑی کی رفتار آگے بڑھائی اور گدھا گاڑی کے بالکل قریب آگیا۔ میں نے چلا کر کہا کہ جب گدھے کو ہی بھگا رہے تھے تو شیر شیر کی آواز کیوں لگا رہے تھے۔ اس نے میر ی طرف شیر کی سی نگاہ کی، پھر میری گاڑی کو حقارت سے دیکھا اور بدتمیزی سے کہنے لگا کہ گدھے پر دیکھ لو آج ہی مہندی سے اس کا نام لکھا ہے۔

نام میں نے پڑھ تو لیا لیکن یہاں لکھ نہیں سکتا۔ پہلے ایک طرف جیل اور دوسری طرف شیر تھا۔ کبھی موقعہ ملا تو سجاد بھائی سے پوچھو گا کہ ان کے ایک مشہور گانے ’’بس بھئی بس ۔ چیف صاحب‘‘ کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔پریز مشرف کو گدھوں کی ریس بہت پسند تھی ۔انھوں نے ایک بار اپنے انٹرویو میں کہہ دیا کہ مجھے کراچی میں ہونے والی گدھوں کی ریس بہت پسند ہے۔ امریکی سفیر اور قونصل جنرل بھی ریس کے شوقین تھے، مجھے لگ رہا ہے کہ پرویز مشرف آج کل بہت خوش ہونگے۔ الیکشن کے دنوں میں ہر جگہ یہ ہی بحث ہو رہی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس ریس میں کون جیتتا ہے۔ مشرف نے جب یہ بیان دیا تھا اس وقت مصطفیٰ کمال کی بڑی واہ واہ ہوئی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے خصوصی طور پر گدھوں کی ریس کا انتظام کیا تھا۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو اُس تقریب میں کئی اہم لوگوں نے شرکت کی تھی۔ مجھے جس اذیت سے گزرنا پڑا اُس کی وجہ گدھے نہیں بلکہ گدھے کا نام تھا۔ گدھوں کو ریس میں جن ناموں سے دوڑایا جاتا ہے مجھے اُن پر رحم آتا ہے۔ جب ریس میں سارے گدھے ہی دوڑیں گے تو جیتے گا بھی کوئی گدھا۔ اب نام آپ کوئی بھی رکھ لیں۔

گدھوں کی اس ریس میں اصل کمال اُس ڈبے اور ڈبہ بجانے والے کا ہوتا ہے۔ ڈبہ جتنی زور زور سے بجایا جاتا ہے۔ گدھا خود کو شیر سمجھ کر تیزی کے ساتھ دوڑتاہے۔ کچھ لوگوں کو اس ڈبے سے گدھے کی پٹائی بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ چلا چلا کر کہہ رہے ہوتے بھاگ ۔بھاگ میرے شیر۔ میرا اپنا خیال ہے گدھے کا نام اُسے خود سمجھ نہیں آتا۔ بس وہ تو ڈبے کی آواز سے بھاگتا ہے۔

حبیب جالبؔ نے یہ کیوں کہا تھا کہ ’’دس کروڑ یہ گدھے‘‘ ۔ اسی نظم میں حبیب جالبؔ کہتے ہیں کہ عوام کی عقل سو گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وقت بدل چکا ہے اور اب گدھوں کی رجسٹریشن ہو جانی چاہیے جس سے یہ اندازہ ہو جائے کہ گدھوں کی کُل تعداد کتنی ہے۔ اور کتنے گدھے ریس میں دوڑنے کے قابل ہیں۔ کیونکہ ہمارے یہاں ہر گدھے کو ریس میں ڈال دیا جاتا ہے۔ امریکا میں انسان ریس میں دوڑتے ہیں اور انھیں نشان گدھے کا دیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں گدھے ریس میں دوڑتے ہیں اور انھیں نام انسان کا دیا جاتا ہے۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔