افغانستان میں محکمہ تعلیم کی عمارت پر حملہ، 10 افراد جاں بحق

مانیٹرنگ ڈیسک / خبر ایجنسیاں  جمعرات 12 جولائ 2018
عسکریت پسندوں کی حکومت کیخلاف جنگ غیر قانونی ہے، واحد حل مذاکرات ہیں، علما کانفرنس کا اعلامیہ جاری۔ فوٹو : فائل

عسکریت پسندوں کی حکومت کیخلاف جنگ غیر قانونی ہے، واحد حل مذاکرات ہیں، علما کانفرنس کا اعلامیہ جاری۔ فوٹو : فائل

جلال آباد / لوگر / جدہ /  لندن /  واشنگٹن: افغانستان کے شہر جلال آباد میں محکمہ تعلیم کی عمارت پر دہشت گردوں کے حملے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آوروں نے جلال آباد کے علاقے پولیس ڈسٹرکٹ 3 میں موجود محکمہ تعلیم کی عمارت پر دھاوا بولا جبکہ عمارت کے نزدیک 2 دھماکے بھی سنے گئے۔

صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان آیت اللہ خوگیانی کے مطابق حملہ آوروں نے عمارت کے اندر متعدد ملازمین کو یرغمال بنا لیا، انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی، جن میں سے 2 نے اپنی خودکش جیکٹس پھاڑ لیں جبکہ تیسرے کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا، ابھی تک کسی دہشت گرد گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

واضح رہے کہ جلال آباد میں 2 ہفتوں کے دوران یہ تیسرا بڑا حملہ ہے، افغان سیکیورٹی فورسز کی صوبہ لوگر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بعد عسکریت پسندوں نے 15اسکول جبری بند کر دیے، طالبان کے خطرے کے بعد پل الامم میں 15اسکول بند ہیں، طالبان نے اسکول جانے والے طلبا کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ طالبان کے خدشات کے بعد لوگر کے محمد آغا ضلع میں کم سے کم 39 اسکول بند ہیں۔

دوسری طرف افغانستان میں امن اور استحکام پر سعودی عرب میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس  کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہم سب افغان حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، افغان حکومت کو ہر قسم کی سپورٹ فراہم کی جائے گی، امن و استحکام کیلیے جنگجوؤں کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے اور گفت و شنید کے ذریعے آپسی مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان تنازع کا واحد حل مذاکرات ہیں، عسکریت پسندوں کی حکومت کے خلاف جنگ غیر قانونی ہے، عسکریت پسند ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

علاوہ ازیں برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان میں 400 مزید فوجی بھیجے گا اور افغانستان کی فوج کی مدد کیلیے ان فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 1100 تک ہو جائے گی۔ ان کی تعیناتی کابل میں ہی ہوگی اور جنگی مہمات میں انھیں شامل نہیں کیا جائے گا۔

ادھر افغانستان کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے امریکی انتظامیہ کے موجودہ اور سابق حکام اور مشیر کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان کے بارے میں مستقبل میں اپنی اسٹرٹیجک اور وہاں امریکی فوج کی تعیناتی جیسے ایشوز پر اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے کیلیے غورکر رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے لیکن اگلے چند دنوں میں حکومت کی سطح پر صورت حال کا جائزہ لینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔