الیکشن تک سرکاری ملازمین کی رخصت پر پابندی

طفیل احمد  منگل 7 مئ 2013
 دھمکیوں اوربم دھماکوں کے بعد اہلخانہ خوف زدہ ہیں، ملازمین، رہائشی علاقے سے دور اور حساس مقامات پرانتخابی ڈیوٹیاں لگنے سے سرکاری ملازمین پریشان ہوگئے. فوٹو: فائل

دھمکیوں اوربم دھماکوں کے بعد اہلخانہ خوف زدہ ہیں، ملازمین، رہائشی علاقے سے دور اور حساس مقامات پرانتخابی ڈیوٹیاں لگنے سے سرکاری ملازمین پریشان ہوگئے. فوٹو: فائل

کراچی:  الیکشن کمیشن نے سرکاری محکموں کے ملازمین اور افسران کی  رخصت پر الیکشن تک پابندی عائد کردی، کراچی کے ضلع شرقی کے ریٹرننگ افسران نے11مئی کو عام انتخابات کے موقع پرسرکاری ملازمین کی انتخابی ڈیوٹیاں شہرکے حساس مضافاتی علاقوں میں بھی لگادی ہیں۔

جس کے سبب اساتذہ سمیت دیگرسرکاری ملازمین میں سخت بے چینی اوراضطراب پایا جاتا ہے، تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے سرکاری محکموں کے ملازمین اور افسران کی رخصت پر الیکشن تک پابندی عائدکردی تمام سرکاری محکموں کے سربراہوںکوہدایت دی گئی ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے تک کسی کی رخصت منظور نہ کی جا ئے۔

تاہم اس حکم نامے کے بعد سرکاری افسران کی بڑی تعداد نے بیماری کی آڑ میں چھٹی لینے کیلیے سروسزاسپتال کا رخ کرلیا جب انھیں بتایا گیا کہ بیماری کی صورت میں سرکاری ملازمین وافسران محکمے کے سربراہ کا لیٹرایم ایس سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کے نام لائیں تو انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو ایک مکتوب میں ہدایت کی ہے کہ 5مئی سے انتخابات مکمل ہونے تک سرکاری ملازم یا افسرکو رخصت نہ دی جائے۔

اس مکتوب کی روشنی میں صوبائی محکمہ صحت نے سندھ سروسز اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر محمد توفیق کوہدایت کی ہے کہ وہ سروسز اسپتال میں بیماری کی صورت میں میڈیکل رخصت کیلیے آنے والے ملازمین کا میڈیکل چیک اپ اس وقت کریں جب ان کے محکمے کے سربراہ کی جانب سے میڈیکل چیک اپ کا لیٹردیاجائے بصورت دیگر رخصت کیلیے کسی کا میڈیکل چیک اپ نہ کیا جائے، سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر ایم توفیق نے بتایا کہ بیماری کی صورت میں سرکاری ملازم کومیڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرکے اس کا باقاعدہ چیک اپ کیا جائے گا ۔

جس کے بعد مذکورہ ملازم کے بیمار یا بیمارنہ ہونے کی تصدیق کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا ،کراچی کے ضلع شرقی کے ریٹرننگ افسران نے11مئی کو عام انتخابات کے موقع پر سرکاری ملازمین کی انتخابی ڈیوٹیاں شہرکے حساس مضافاتی علاقوں میں بھی لگادی ہیں جس کے سبب سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ سمیت دیگرسرکاری ملازمین میں سخت بے چینی اوراضطراب پایاجاتاہے، بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین نے ڈیوٹیوں پر آنے کیلیے ریٹرنگ افسران سے رابطہ نہیں کیا جس کے بعدریٹرنگ افسران نے رابطہ نہ کرنے والے سرکاری ملازمین کوشوکاز نوٹسز بھی جاری کردیے۔

ریٹرنگ افسران نے انتخابی عملے کوپولنگ اسٹیشن میں فرائض انجام دینے سے متعلق خطوط جاری کردیے، ان خطوط کے اجرا کے بعدسرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹی حساس اور رہائشی مقامات سے دورلگا ئے جانے کے باعث پریشان ہیں، ان ملازمین میں اکثریت خواتین کی ہے،حساس مقامات چینیسر گوٹھ،معصوم شاہ کالونی،جٹ لائن ،پٹیل پاڑہ، شانتی نگراور عیسیٰ نگری میں خواتین اپنی انتخابی ڈیوٹیوں سے متعلق خوف کا شکار ہیں ، خواتین کا کہنا ہے کہ انتخابی دفاتر اور امیدواروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے تناظر میں11مئی کو شرپسند عناصر کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز میں ہنگامہ آرائی، فائرنگ اور بم دھماکوں کا زیادہ خدشہ ہے،اگر کسی سرکاری ملازم کی رہائش اعظم بستی میں ہے تو ان کی ڈیوٹی جٹ لائن میں لگادی گئی ہے۔

سرکاری ملازمین نے بتایا کہ شہر میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے الیکشن ڈیوٹی میں شدید خوف محسوس کررہے ہیں ، فوج کی موجودگی میں تحفظ کا احساس ہوتا ہے،کراچی میں بم بلاسٹک اورطالبان کی جانب سے دی جانیوالی دھمکیوں کے بعد اہلخانہ نے ڈیوٹیاں نہ کرنے کیلیے سختی سے منع کیا ہے، سرکاری ملازمین کاکہناہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر انتخابی عملے کی ڈیوٹی رہائشی مقامات سے قریبی علاقوں میں لگانی چاہیے تھیں۔

گزشتہ روز سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ شرقی کے ریٹرننگ افسران امینہ نظیر لغاری برائے حلقہ این اے252،پی ایس116اور117،ندیم احمد خان برائے حلقہ این اے253 ،پی ایس118اور126،چوہدری وسیم اقبال برائے حلقہ این اے254 ,پی ایس124اور125،فہیم احمد خان برائے حلقہ این اے255 ، پی ایس122اور 123،منٹھار علی جتوئی برائے حلقہ این اے256،پی ایس119،120اور121 اورطارق احمد کھوسہ برائے حلقہ این اے251،پی ایس114اور115 نے عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز میں بطور پریزائیڈنگ آفیسرز، اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسرز اور پولنگ ایجنٹس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے سے متعلق سرکاری ملازمین کوخطوط جاری کردیے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔