نوازشریف اورمریم نوازکے استقبال کیلیے آنے والے افراد قانون کی زد میں ہوں گے

ویب ڈیسک  جمعرات 12 جولائ 2018
سرکاری افسران کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت جرم ہے فوٹو: فائل

سرکاری افسران کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت جرم ہے فوٹو: فائل

 لاہور: تعزیرات پاکستان کے تحت سزایافتہ اورنا اہل شخص کے حق میں ریلی نکالنے اوراحتجاج کرنے والے جرم کے مرتکب ٹھہریں گے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نوازشریف اوران کی بیٹی مریم نواز جمعے کی شام لاہور پہنچ رہے ہیں لیکن ان کی آمد کے موقع پرہنگامہ آرائی کرنے والےاور ممانعت کے باوجود مجمع کا حصہ بننے والے شہری  تعزیرات پاکستان کی دفعہ 146 اور 149 کے تحت قانون کی زد میں ہوں گے جنہیں 6 ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

احتساب عدالت کے فیصلے کی تعمیل حکومتی فرائض میں شامل ہے جس کی خلاف ورزی دفعہ 188 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ دفعہ 188 کے تحت سرکاری حکم نامے کو جان بوجھ کر تسلیم نہ کرنے والے شخص کو ایک ماہ قید یا 6 ہزارروپے جرمانہ یا دنوں سزائیں دی جاسکتی ہیں جب کہ دفعہ 147 کے تحت ہنگامہ آرائی کی سزا 2سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

نوازشریف اورمریم نواز کی آمد کے موقع پرنیب کی ٹیموں، پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فرائض سے روکنے والے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341 کے تحت قانون کی زد میں ہوں گے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341 کی خلاف ورزی پر ایک ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

سرکاری افسران کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت جرم ہے۔ دفعہ 353 کے تحت سرکاری افسرکوفرائض کی انجام دہی سے روکنے والوں کو 2 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔