ن لیگ نشانے پر ہے لیکن وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا، شہباز شریف

ویب ڈیسک  جمعرات 12 جولائ 2018
انتظامیہ اور پولیس زیادتیوں اور مظالم کا سلسلہ بند کریں، صدر مسلم لیگ (ن) فوٹو:فائل

انتظامیہ اور پولیس زیادتیوں اور مظالم کا سلسلہ بند کریں، صدر مسلم لیگ (ن) فوٹو:فائل

 لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کارکنوں کی گرفتاریوں پر پنجاب کی نگراں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، دروازے توڑے گئے، لاہور میں پولیس نے غنڈہ گردی کی، حامیوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا اور خواتین کی توہین کی، ہمارے ساتھ کھلا ظلم، زیادتی اور دھاندلی ہورہی ہے، الیکشن کو داغدار کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کا مسلم لیگ ن کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار

شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ 30 تاریخ تک کسی سیاسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے، اس کے باوجود نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی براہ راست نگرانی میں سیکڑوں کارکن گرفتار کیے گئے، ن لیگ کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، کچھ تو دال میں کالا ہے، یہ کیا تماشا ہے کہ دفعہ 144 کے باوجود عمران خان لاہور میں جلسہ کررہے ہیں لیکن ہمیں اجازت نہیں دی جارہی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام مظالم کے باوجود ہر حال میں نواز شریف کے استقبال کے لیے کل ائرپورٹ جائیں گے، انتظامیہ اور پولیس اپنی چیرہ دستیاں اور مظالم بند کریں، ان اقدامات کے ذمہ دار اچھی طرح کان کھول کر سن لیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، ہماری حکومت آئی تو آپ کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے، الیکشن پر سوال اٹھ گئے تو کون جواب دے گا، صرف دشمنوں میں جگ ہنسائی ہوگی ،اس کھیل کو روکیں ورنہ تباہی ہوجائے گی، الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن گیا ہے اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ الیکشن میں یہ کس قسم کی انجینئرنگ ہورہی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی تقرری پر صرف ایک بار تحفظات کا اظہار کیا تھا، ان سے گزارش ہے کہ 26 جولائی کو آپ نے دوبارہ سے کالم لکھنے ہیں اور جو اقدامات کررہے ہیں ان کا جواب دینا پڑے گا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آئی جی پنجاب اور نگراں وزیر داخلہ بھی پی ٹی آئی کی غلیظ سیاست کا شکار ہوجائیں گے، مقابلے کا مساوی موقع نہ ملا تو بعد میں کوئی شکوہ نہ کرے کہ شہباز شریف یہ کیا ہوا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔