تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے بچوں پر فلم بنانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک  جمعرات 12 جولائ 2018
فلم تھائی حکومت اور تھائی بحریہ کی تعاون سے بنائی جائے گی۔ فوٹو: فائل

فلم تھائی حکومت اور تھائی بحریہ کی تعاون سے بنائی جائے گی۔ فوٹو: فائل

تھائی لینڈ کے زیر آب غار میں پھنسے اسکول فٹبال ٹیم کے 12 کم عمر کھلاڑیوں کو باحفاظت نکالنے کے بعد فلم کی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تھائی لینڈ کے مقامی فٹبال کلب کے 12 کم عمر کھلاڑی 23 جون کو اپنے کوچ کے ہمراہ شمالی صوبے یانگ رائی کے معروف غار تھیم لوانگ میں پکنک منانے گئے تھے لیکن علاقے میں بارشوں کے بعد سیلاب آنے کی وجہ سے غار میں  پانی بھرگیا جس کے باعث تمام بچے کوچ سمیت غار کے اختتامی حصے میں پھنس گئے تھے۔

بعدازاں تھائی لینڈ کی بحریہ سمیت برطانوی، امریکی اور دیگر ممالک کے غوطہ خوروں کی مدد سے بچوں اور کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا تاہم اس تمام صورتحال کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ہالی ووڈ کے پروڈیوسر نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تمام نہ صرف بچوں کو نکالنے میں مدد فراہم کرنے والے اداروں کی محنت دکھائی جائے گی بلکہ بچوں اور ان کے والدین کے جذبات  بھی شامل کیے جائیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تھالینڈ کے غار میں پھنس جانے والے بچوں کے واقعے پر دو پروڈکشن کمپنیز فلم بنانے کی دوڑ میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں جن میں سے ایک پیور فلکس نامی امریکن اسٹوڈیو نے دوران آپریشن ہی فلم بنانے کا اعلان کردیا تھا اور اسی حوالے سے وہاں موجود ریسکیو کارکنان سے تفصیلی معلومات حاصل کرنا شروع کردی تھیں۔

اسٹوڈیو کے شریک بانی مائیکل اسکوٹ کا کہنا ہے کہ غار کے آپریشن کے دوران جان کا نذرانہ دینے والے تھائی بحریہ کے ریٹائرڈ آفیسر سمان گنان کے ساتھ میری اہلیہ تھیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ تمام مناظر دیکھے کہ کس طرح سے وہاں آپریشن کیا گیا اور بچوں کو باحفاظت باہر نکالا گیا یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن میرے لئے ذاتی دلچسپی کا باعث ہے۔

دوسری جانب لاس اینجلس کی مشہور ایون ہوئی پکچر کے بینر تلے یہ فلم تھائی حکومت اور تھائی بحریہ کی تعاون سے بنائی جائے گی جسے رومانوی مزاح سے بھرپور فلم سیریز’کریزی رچ ایشین ‘ کے ہدایتکار جان ایم چو سر انجان دینگے۔

ہدایتکار کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ’میں تھائی لینڈ کے غار کی کہانی ہالی ووڈ کو نہیں لینے دوں گا۔ ہرگز نہیں ۔ ایسا کبھی نہ ہوگا بلکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم اس میں رکاوٹ بنیں گے، یہ انسانیت کی ایک خوبصورت کہانی ہے جس میں انسانوں نے دوسرے انسانوں کی مدد کی ہے اور اگر کوئی اس کہانی پر غور کررہا ہے تو درست طریقے اور احترام کے ساتھ کرے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔