کہانی، کتابیں اور کروشیا

اقبال خورشید  جمعـء 13 جولائ 2018

اِس شور سے،الزامات کی سیاست سے، جھوٹے دعووں، وعدوں سے کچھ دیر کے لیے دور چلے چلتے ہیں۔ پانچ سو قبل مسیح کے ہندوستان میں، رام چندر جی کے دور میں۔

کہتے ہیں، رام چندر جی اپنے پیروکاروں کو اکثر ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ ساحل پر چہل قدمی کرنے والوں کی کہانی، جو ایک سہ پہر اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ سمندر کتنا گہرا ہے۔ چہل قدمی کرنے والوں میں نامی گرامی ہستیاں شامل تھیں۔ حاکم، جنگجو، وزیر، سفیر، فنکار، کھلاڑی۔ وہ سب، جنھیں سماج میں رتبہ حاصل تھا، جن کا نام تھا، رسوخ تھا، جن کے سینوں پر تمغے تھے۔ اور وہ ساحل پر کھڑے بحث میں الجھے تھے کہ سمندر کتنا گہرا ہے؟

بحث طول پکڑتی گئی۔ اور یہ متوقع تھا، کیوں کہ بحث ہی ان کے لیے اکلوتا امکان تھا۔ سمندر میں اتر کر اسے ماپنے کا ان میں سے کسی میں حوصلہ نہیں تھا۔ ایسے میں ایک عام سا شخص سامنے آیا۔ بے نام شخص۔ ایک نمک کا آدمی۔ جس نے اعلان کیا کہ وہ اس سوال کا جواب کھوج لایے گا کہ سمندر کتنا گہرا ہے، کیوںکہ وہ سمندر میں اترنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

ان نامی گرامی ہستیوں کی آنکھوں میں اس عام سے انسان کے لیے حقارت تھی، مگر وہ چپ رہے کہ وہ خود سمندر میں اترنے سے خوف زدہ تھے، جب کہ نمک کا آدمی یہ ارادہ باندھ چکا تھا۔

تو وہ سمندر میں اتر ا، اور اترتا چلا گیا۔ آگے بڑھتا گیا، یہاں تک کہ عمیق ترین حصے میں پہنچ گیا۔ آخر وہ جان گیا کہ سمندر کتنا گہرا ہے۔ جان گیا کہ اس کی تہہ کہا ں ہے۔ اس نے جواب پا لیا۔ مگر تب اس پر ایک انکشاف ہوا۔

انکشاف کہ اب وہ واپس نہیں جا سکتا۔ یہ ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ وہ تحلیل ہوگیا ہے۔ گھل گیا ہے۔ سمندر کا حصہ بن گیا ہے۔ وہ جواب جانتا تھا، مگراب لوٹ نہیں سکتا تھا ۔۔۔اور وہ جو ساحل پر کھڑے تھے، اپنی انا کے پنجرے میں قید، اپنے تمغوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے، ہنوز بحث میں الجھے تھے۔

رام چندر جی پیروکاروں کو یہ کہانی سناتے سمے ضرور اِس کے روحانی پہلو کی جانب متوجہ کرتے ہوں گے۔ اس پیغام کی سمت کہ حقیقت تک رسائی کے لیے فرد کو اپنی انا قربان کرنی پڑتی ہے، خود کو تج دینا ہوتا ہے۔

البتہ جب جب میں پاکستان کی خستہ حال سڑکوں پر سانس لیتے بدحال انسانوں کو دیکھتا ہوں، جب وہ مجھے اپنے گھٹے ہوئے مکانات میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، اسپتالوں میں ذلیل ہوتے، ملاوٹ شدہ غذا کھاتے، جعلی ادویہ پھانکتے، پل پل مرتے دکھائی دیتے ہیں، تو یوں لگتا ہے کہ یہ بھی نمک کے آدمی ہیں، جو غم کے، درد کے گہرے سمندر میں تحلیل ہو چکے ہیں، مٹ گئے ہیں۔ اب وہ اور غم ایک ہیں۔

اور جو ساحل پر کھڑے شور مچا رہے ہیں۔ ہمارے حکمراں، سیاستداں، ہماری قسمت کے فیصلہ ساز، وہ اس درد کی گہرائی سے، اس کی شدت سے لاعلم ہیں۔ اور لاعلم ہی رہیں گے کہ وہ کبھی سمندر میں نہیں اتریں گے۔ درد کا سمندر فقط عوام کا نصیب رہے گا۔ آج بھی اور 25 جولائی کے بعد بھی۔

’’کروشیا کا کرشما‘‘:جب کالم لکھنے بیٹھا، اس سے چند ہی گھنٹے قبل ایک کرشما ہوا ہے۔ ریال میڈرڈ کے شہرہ آفاق مڈ فیلڈر لوقا موڈرچ کی کروشیا پہلی بار فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گئی۔ ایک اعصاب شکن مقابلے میںانگلینڈ کو شکست دینے کے بعد وہ ٹرافی سے فقط ایک فتح دور ہے۔ 15جولائی کو فرانس سے ٹکرائے گی۔

کروشیا باصلاحیت اور محنتی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔ گواس کا موازنہ کبھی جرمنی، برازیل، ارجنٹیا اور فرانس سے نہیں کیا گیا۔ مگر اس ورلڈ کپ میں ایک کے بعد ایک بڑے برج الٹتے چلے گئے۔ بھاری بھرکم معاوضہ لینے والے کھلاڑی اونچی دکان، پھیکے پکوان ثابت ہوئے۔ میسی، رونالڈو، نیمار ، سواریز، محمد صلاح نے گھر کی راہ لی۔ اچھا، کروشیا کا فائنل میں پہنچنا محیر العقول واقعہ نہیں۔ یاد کیجیے، فرانس میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں اس ٹیم نے، جسے ہمیشہ انڈر ڈاگ تصور کیا گیا، سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کی تھی۔ گو انگلینڈ کے نوجوان کھلاڑیوں نے بھی محنت کی، مگر استقامت، لگن اور توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کروشیا کے کام آئی۔

اب مقابلہ فرانس سے ہے۔ دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے، تو فرانس کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کا سبب تجربہ اور صلاحیت نہیں، بلکہ ٹورنامینٹ میں پیش کردہ کارکردگی ہے۔ کروشیا نے ڈنمارک اور روس کے خلاف پینالٹیز پر بہ مشکل فتح اپنے نام کی۔ سیمی فائنل میں مقابلہ ایکسٹرا ٹائم تک گیا۔ اس کے برعکس فرانس نے کبھی یہ نوبت نہیں آنے دی، اور ہر ٹیم کو نوئے منٹ میں ٹھکانے لگا دیا۔ آخر ی میچ میں بھی فرانسیسی یہی کارکردگی دہرانا چاہیں گے۔ فرانسیسی ٹیم کے حق میںیہ بات بھی جاتی ہے کہ انگلینڈ، روس اور ڈنمارک کے مقابلے میں، جنھیں کروشیا نے لڑ جھگڑ کر چت کیا، وہ میسی کی ارجنٹینا، سواریز کی یوروگوائے اور حیران کن صلاحیت کی حامل بیلیجم کو شکست دے کر اِدھر پہنچی ہے۔ بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ 15 جولائی کی رات پیرس میں جشن ہو گا۔

’’تذکرہ کچھ کتابوں کا‘‘:باقر نقوی شاعری سے ترجمے کی سمت آئے، تو اپنا عشروں پر محیط مطالعہ، انگریزی اور اردو پر یکساں گرفت اور میسر وقت، سب اس کے نام کر دیا۔ سو برس کے عرصے میں ادب، امن، حیاتیات، طبیعیات کے شعبوں میں نوبیل پانے والی نابغہ روزگار شخصیات کے خطابات کو اردو روپ دے کر اس زبان کی گراں قدر خدمت کی۔ اردو کے پہلے ماہر نوبیلیات کہلائے۔ پھر جرمنی سے تعلق رکھنے والے نوبیل انعام یافتگان گنتر گراس اور ہرٹا مولر کے فکشن کا ترجمہ کیا۔ وکٹر ہیوگو کے شاہ کار Les Misérables کو اردو روپ دیا۔ اب انھوں نے نوبیل حاصل کرنے والے دو جاپانی ادیبوں کینزا بورا اؤے اوریاسو ناری کاوا باتا کی تخلیقات کا ترجمہ کیا، تو ’’جاپان کا نوبیل ادب‘‘ کی زیر عنوان اشاعت کا اہتمام کیا۔ اردو ادب ان کا ممنون ہے۔

اچھا، کراچی سے تعلق رکھنے والی مترجم اور مدرس تنویر رؤف کی آپ بیتی ’’زندگی خوب صورت ہے‘‘ کا ذکر بھی ضروری۔ مصنفہ کے سادگی سے بیان کردہ قصوں میں وہ دانش سانس لیتی ہے، جو فرد پر قناعت، قبولیت اور یقین کی طاقت آشکار کرتی ہے۔ یہی اس کتاب کا پیغام۔ کتاب پڑھ کو آپ کو زندگی حسین لگنے لگتی ہے۔ کتاب کیوں کہ ’’رواں‘‘ کے پرچم تلے شایع ہوئی، اس لیے راقم اس کے تمام مراحل کا نہ صرف گواہ، بلکہ حصہ بنا۔ بے شک یہ ایک خوشگوار تجربہ تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔