کاٹن جنرز کا پھٹی کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کیلیے گٹھ جوڑ

بزنس رپورٹر  جمعـء 13 جولائ 2018
ڈالر کی قدر بڑھنے اورڈیوٹی سے روئی کی قیمتیں7سال کی بلندسطح پرپہنچ گئیں،احسان الحق۔  فوٹو: اے پی پی/فائل

ڈالر کی قدر بڑھنے اورڈیوٹی سے روئی کی قیمتیں7سال کی بلندسطح پرپہنچ گئیں،احسان الحق۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

 کراچی:  کپاس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا توڑ کرنے کے لیے کاٹن جنرز نے سندھ میں کارٹل بنا کر نرخ 4200روپے فی 40 کلوگرام مقرر کردیے اور اس سے زائد پر خریداری کرنے والوں کو جرمانے کا انتباہ دیا ہے جس پر کاشت کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں کاٹن جنرز نے ہنگامی اجلاس میں پھٹی زیادہ سے زیادہ 4ہزار سے 4ہزار200 روپے فی 40 کلوگرام تک خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے اورزائد نرخوں پر پھٹی خریدنے والے کاٹن جنر کو جرمانہ عائد کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے، اس پرکاشت کاروں میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے جبکہ جنرز کا موقف ہے کہ اوپن مارکیٹ نرخوں کے مطابق پھٹی خریدنے سے کاٹن جنرز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں400روپے من اضافے کے ساتھ 7 سال کی نئی بلند ترین سطح8ہزار700روپے من تک پہنچ گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے پھٹی کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف شہروں میں پھٹی کی قیمتیں 4 ہزار 100 سے 4ہزار 400روپے فی 40کلوگرام تک پہنچ گئیں، نرخ مزید بڑھنے کی توقع ہے جس کے باعث بڑے کاشت کاروں نے پھٹی کی فروخت معطل کر دی تاکہ بعد میں اسے مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض کاشت کاروں کے فروخت کی بندش سے پھٹی کی سپلائی کم ہو گئی اور اس کے نرخ بڑھے لیکن روئی کے نرخ اس تناسب سے نہیں بڑھے جس سے کاٹن جنرز میں تشویش پیدا ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہروں سانگھڑ، ٹنڈوآدم، شہدادپور اور حیدر آباد میں گزشتہ 2، 3روز کے اندر کاٹن جنرز کی ہنگامی میٹنگز طلب کی گئیں جس میں پھٹی زیادہ سے زیادہ 4ہزار200 روپے فی 40 کلو گرام تک خریدنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے کاشت کاروں میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے اور روئی کی درآمد پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہونے سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا اور گزشتہ روز قیمتیں 7 سال کی نئی بلند ترین سطح 8 ہزار700 روپے فی من تک پہنچ گئیں جس سے توقع ہے کہ کاٹن جنرز اپنے اس فیصلے پر قائم نہیں رہ پائیں گے اور اندرون خانہ اوپن مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق بعض کاٹن جنرز پھٹی کی خریداری جاری رکھیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔