ایک ٹرافی کے 2 دعویدار میدان میں باقی

اسپورٹس ڈیسک / خبر ایجنسی  جمعـء 13 جولائ 2018
نئے کروشیئن ہیروز بھی آخری دیوار گرانے کو تیار، 20 برس پرانی انتقام کی آگ بجھانے کی کوشش کریں گے۔ فوٹو : فائل

نئے کروشیئن ہیروز بھی آخری دیوار گرانے کو تیار، 20 برس پرانی انتقام کی آگ بجھانے کی کوشش کریں گے۔ فوٹو : فائل

ماسکو: ایک ٹرافی کے 2 دعویدار میدان میں باقی رہ گئے، فرانس اور کروشیا میں اب اتوار کو دو بدو لڑائی ہوگی۔

روس میں جاری فیفا ورلڈ کپ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، دوسرے سیمی فائنل میں کروشیا نے دلچسپ مقابلے میں انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دے کر پہلی بار فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے جہاں پر اتوار کو اس کا مقابلہ فرانس سے ہوگا جوکہ پہلے بھی ایک مرتبہ چیمپئن بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بدھ کی شب کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے پانچویں  ہی منٹ میں کیرین ٹرائیپیئر کی فری کک پر برتری حاصل کرلی تھی تاہم 78 ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں کروشیا نے ایوان پیرسک کے گول سے میچ میں واپسی کی اور پھر اضافی وقت میں ماریو مینڈزوکک نے گیند کو جال میں ڈال کر اپنی ٹیم کو فیصلہ کن معرکے میں پہنچادیا جبکہ انگلینڈ کا دوسرا ورلڈ کپ فائنل کھیلنے کا 52 برس پرانا انتظار مزید طول پکڑگیا۔

40 لاکھ آبادی کے حامل کروشیا نے پورے ایونٹ کے دوران اپنے کھیل سے دنیا کو حیران کیے رکھا۔ اب اس کے پاس فرانس کے ساتھ 20 برس پرانا حساب چکتا کرنے کا بھی نادر موقع ہے۔

1998 میں پیرس میں کھیلے گئے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں میزبان فرنچ سائیڈ نے کروشیا کی امیدوں کا خون کیا تھا اور پھر فائنل جیت کر ٹرافی بھی اپنے نام کی تھی دوسری جانب کروشیا کی جانب اپنے ڈیبیو ایونٹ پر سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ملک کے ہیروز کا درجہ حاصل ہوا تاہم موجودہ ٹیم ان ہیروز سے ایک قدم آگے بڑھ چکی اور آخری دیوار بھی گرانے کیلیے پراعتماد ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منگل کو پہلا سیمی فائنل کھیلنے والی فرنچ ٹیم کو فائنل کیلیے تازہ دم ہونے کی خاطر 24 گھنٹے زیادہ ملے ہیں تاہم کروشین کوچ زلاٹکو ڈیلس اس کو بہانہ نہیں بنانا چاہتے، وہ اپنی ٹیم کی پرفارمنس سے بہت زیادہ خوش ہیں، ان کا کہنا تھاکہ یہ ایک حیران کن کامیابی ہے۔

ہمارے دو اہم پلیئرز فٹنس مسائل سے دوچار اور ایک ٹانگ کے ساتھ کھیلتے رہے مگر حریف ٹیم پر ظاہر نہیں ہونے دیا بلکہ اضافی وقت میں بھی کسی نے متبادل کیلیے نہیں کہا، مجھے فخر ہے کہ ہمارے کسی بھی کھلاڑی نے ہمت نہیں ہاری، ہمیں اب ٹرافی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے صرف ایک میچ اور جیتنا ہے اور ہم اس فائنل کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں، مجھے معلوم ہے کہ ہم لگاتار تین میچز اضافی وقت میں جاکر جیتے، یہ ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے لیکن ہم کامیابی کیلیے پراعتماد ہیں۔

ہفتے کے روز سیمی فائنل ہارنے والی ٹیموں انگلینڈ اور بیلجیئم کے درمیان تیسری پوزیشن کیلیے مقابلہ ہوگا، اگرچہ دونوں ہی ٹیموں کے دل بری طرح ٹوٹے ہوئے ہیں مگر تیسری پوزیشن کے حصول کیلیے وہ خود کو پھر سے سمیٹنے اور میدان میں اترنے کیلیے پوری طرح تیار ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔