سندھ میں سولر لائٹس کے 3 منصوبے کرپشن، اقربا پروری کی نذر

عبدالرزاق ابڑو  جمعـء 13 جولائ 2018
7ارب کے ٹھیکے سابق نگراںوزیرجعفرخواجہ کی کمپنی کوالاٹ، ڈیڑھ ارب پیشگی ادائیگی۔ فوٹو: فائل

7ارب کے ٹھیکے سابق نگراںوزیرجعفرخواجہ کی کمپنی کوالاٹ، ڈیڑھ ارب پیشگی ادائیگی۔ فوٹو: فائل

کراچی: پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں صوبہ سندھ میں ساڑھے 8 ارب روپے سے زائد مالیت کے سولر لائٹ منصوبوں سے عوام تو مستفید نہ ہوسکی لیکن منصوبے شروع کرنے والے افسران و سیاستدان اور ٹھیکے حاصل کرنے والوں کو ضرور فائدہ پہنچا کیونکہ حکومت سندھ کے کئی دیگر منصوبوں کی طرح یہ منصوبے بھی کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کی زد میں آگئے۔

محکمہ دیہی ترقی سندھ کے ذرائع کے مطابق ساڑھے 8 ارب روپے مالیت کے مذکورہ منصوبوں میں 2لاکھ روپے فی سولربلب کے حساب سے 7ارب روپے سے زائدکے ٹھیکے ایک ہی کمپنی کو الاٹ کردیے گئے جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سابق نگراں صوبائی وزیر بلدیات سندھ محمد جعفر خواجہ شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ کمپنی پر مزید نوازش یہ بھی کی گئی کہ اسے ایک ارب 60کروڑروپے سے زائد رقم کی پیشگی ادائیگی کی گئی، جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے جج امیرہانی مسلم کی سربراہی میں قائم واٹرکمیشن کے سامنے آیا تو تحقیقات شروع کرادی گئی ہے، حال ہی میں اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ نے مذکورہ ٹھیکوں اور رقوم کی ادائیگیوں سے متعلق تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے، سولر لائٹس منصوبوں کا آغاز سابق وزیربلدیات و دیہی ترقی سندھ شرجیل انعام میمن کے دور وزارت میں کیا گیا۔

ان میں ایک منصوبے کا نام روشن سندھ رکھا گیا تھاجس کی مالیت 4 ارب روپے تھی جس کے تحت صوبے کی میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں میں تقریباً 20 ہزار سولر لائٹس نصب کرنی تھیں، حکومت سندھ نے مذکورہ منصوبے کی منظوری 22 ستمبر 2014 کو دی تھی جبکہ یہ منصوبہ جون 2016 میں مکمل ہونا تھا ، منصوبے کے تحت بعض شہروں کی صرف چندمخصوص سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں ۔

محکمہ دیہی ترقی سندھ نے ایک سولر بلب لگانے کا ٹھیکہ تقریباً2 لاکھ روپے میں الاٹ کیا، اس منصوبے کے تحت کراچی کے ضلع ملیر اور ضلع غربی کے علاقوں میں ایک ہزارسولر لائٹس، حیدرآباد ڈویژن میں4ہزارسولرلائٹس، میرپورخاص میں3ہزار500 لائٹس، شہید بے نظیر آباد میں3ہزار500 لائٹس، سکھر ڈویژن میں4 ہزار لائٹس اور لاڑکانہ ڈویژن میں 4 ہزار سولر لائٹس لگنی تھیں۔

دوسرے منصوبے کی مالیت3ارب روپے تھی جس کے تحت دیہی علاقوں میں سولر لائٹیں نصب کرنا تھیں، اس منصوبے کی منظوری26 اکتوبر 2016 کو دی گئی جبکہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل جون 2018 کو ہونی تھی، محکمہ خزانہ اور محکمہ ترقی و منصوبہ بندی سندھ کے اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2017-18 کے لیے اس منصوبے کے لیے 92 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جبکہ5دسمبر2017 تک یہ رقم خرچ کردی گئی۔

سولرلائٹس کا تیسرا منصوبہ ایک ارب50 کروڑ روپے مالیت سے شروع کیا گیا جسے دیہی علاقوں میں سولر لائٹ نصب کرنے کا فیز 2 منصوبہ قرار دیا گیا، اس منصوبے کے تحت 2018 کے آغاز تک 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل 2020 تک ہونی تھی تاہم اینٹی کرپشن کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے کے بعد اس منصوبے پر بھی کام روک دیا گیا ہے۔

محکمہ دیہی ترقی کے ذرائع کے مطابق تینوں منصوبوں کے ٹھیکوں میں سنگین بے ضابطگیاں اور اقربا پروری کا عنصر پایا گیا، محکمے کے سابق حکام نے 7 ارب روپے سے زائد کے ٹھیکے صرف ایک ہی کمپنی ودود انجنیئرنگ لمیٹڈ کو دے دیے۔

اینٹی کرپشن ویسٹ زون ٹو کراچی کی ایک ٹیم نے اس وقت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشرف حسین سومرو کی سربراہی میں 17اپریل 2018 کو حیدرآباد میں واقع محکمہ دیہی ترقی کے ڈی جی آفس پر چھاپہ مارا ، اس کارروائی کے دوران مذکورہ منصوبوں کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا جس میں مذکورہ ٹھیکوں کے سلسلے میں دسمبر 2016 سے دسمبر 2017 اور اپریل 2018 تک واؤچر فائل بھی شامل ہیں، جن میں ضلع ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص، شہدادکوٹ، شہید بے نظیرآباد، عمرکوٹ، جام شورو اور لاڑکانہ کی واؤچر فائلیں بھی شامل ہیں۔

ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ویسٹ زون خالد مصطفیٰ کورائی نے بتایا کہ مذکورہ کیس کی تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اس لیے فی الحال کچھ نہیں بتایا جاسکتا۔ ایکسپریس کی جانب سے سیکریٹری محکمہ دیہی ترقی سندھ ڈاکٹر ریاض میمن سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس معاملے کی تفصیلات بتانے سے معذرت کرلی۔

ایکسپریس کی جانب سے ودود انجنیئرنگ سروسز کا موقف حاصل کرنے کے لیے ان کے کلفٹن میں واقع دفتر کے فون نمبرز پر رابطہ کیا گیا تو فون اٹینڈ کرنے والے شخص نے بتایا کہ کمپنی کے اہم ذمے داران ملک سے باہر ہیں، انھوں نے احسن نامی ایک شخص سے بات کرائی جس نے ایکسپریس کے نمائندے سے رابطے کے نمبرز لیے اور کہا کہ کمپنی کے ذمے داران خود رابطہ کریںگے لیکن2 دن انتظارکے باوجودکوئی رابطہ نہیںکیا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔