ن لیگ کا طویل دورانیے کی احتجاجی حکمت عملی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ

عامر خان  جمعـء 13 جولائ 2018
نواز اور مریم کی واپسی پر امن وامان خراب کرنے کی کوشش پر قانونی کارروائی کا حکومتی فیصلہ۔ فوٹو : فائل

نواز اور مریم کی واپسی پر امن وامان خراب کرنے کی کوشش پر قانونی کارروائی کا حکومتی فیصلہ۔ فوٹو : فائل

کراچی: مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی اور ممکنہ گرفتاری کے بعد ’’طویل دورانیے کی احتجاجی حکمت عملی  اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ وقتی احتجاج کے بعد (ن) لیگ کی قیادت ’’انتخابی مہم ‘‘کو تیز کرے گی۔

(ن) لیگی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے موقع پر استقبالیہ ریلی اور ممکنہ عوامی اجتماع کے حوالے تفصیلی مشاورت کی ہے ۔اس مشاورت میں جائزہ لیا گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے بعد اگر ان کوائیر پورٹ سے باہر نہیںآنے دیا جاتا ہے اور ممکنہ طور پرگرفتار کرلیا جاتا ہے تو ردعمل کے طور پر امن احتجاج کیا جائے گا ۔

(ن) لیگ کی جانب سے اس احتجاج میں مظاہرے ،جیل کی طرف مارچ اورجیل کے ہاہر علامتی یا ممکنہ طور پرکچھ وقت یا دن کیلیے دھرنا دینے کے آپشنز میںشامل ہیں تاہم طویل المدت دھرنا دینے کے آپشن پر فوری عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔

(ن) لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ نواز شریف اور مریم نواز کی کوشش ہوگی کہ ایئرپورٹ سے باہر آخر وہ مختصرا خطاب کرکے گرفتاری دے دیں۔گرفتار ہونے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کا عوام کے نام اہم بیان پر ریکارڈ پرمبنی ویڈیو پیغام سامنے آسکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کیلیے نیب ٹیم کو ہر ممکن سیکیورٹی اور ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ نواز شریف اور مریم نواز کی ممکنہ وطن واپسی کے موقع پر (ن) لیگ کی جانب سے امن وامان خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کی جانب سے قانونی آپشنز کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان نے ایکسپریس کو بتایاکہ نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی پر تاریخی استقبال ہوگا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف عوامی احتجاج کیا جائے گا ۔اس احتجاج کی مدت طویل نہیں ہوگی ہم احتجاج کے ساتھ ساتھ الیکشن میں کامیابی کیلیے عوامی رابطہ مہم بھی جاری رکھیں گے ۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔