قانونِ مکافاتِ عمل

نوید عالم  جمعـء 13 جولائ 2018
کل طاقت کے نشے میں مست آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے جارہے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کل طاقت کے نشے میں مست آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے جارہے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مظاہر فطرت سے متعلق قوانین قدرت کی خوبی یہ ہےکہ وہ اٹل، ناقابل تغیر اور یکساں ہوتے ہیں؛ لاتعداد مرتبہ رونما ہونے پر بھی یکساں نتائج دیتے ہیں۔ زمانہ یا حالات کیسے بھی ہوں قوانین قدرت اس سے بے نیاز اپنے نتائج پیدا کرتے رہتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کی بنیاد پر ہم بہ آسانی پیش گوئی کرسکتے ہیں، مثلاً وزن دار چیز اونچائی سے چھوڑ دیں توسب بہ آسانی بتا سکتے ہیں کہ وہ کس جانب جائے گی!

اسی طرح انسانی رویوں، اعمال اور کردار سے متعلق بھی فطرت کے قوانین ہیں جیسے مکافات عمل کا قانون یعنی ادلے کا بدلہ، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اس میں ایک بات مسلّم ہے کہ عمل کا ردعمل ضرور ہوگا لیکن اس کی شکل کیا ہوگی؟ ردعمل کا وقت کیا ہوگا؟ ماہیت کیا ہوگی؟ اس کا انتخاب قدرت اپنی منشاء کے مطابق کرتی ہے۔

ردعمل میں تاخیر ہو تو مظلوم مایوس اور ظالم گھمنڈ میں مبتلا ہو کر مزید ظلم کرتا ہے؛ اور یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ کا بنایا ہوا قانون مکافات عمل ضرور حرکت میں آئے گا اور اس کی فرعونیت کو دریائے نیل میں غرق کردے گا۔

بچا کوئی مکافات عمل سے؟
وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا!

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے، نواز حکومت نے اپنے خلاف ممکنہ عوامی احتجاج کو کچلنے کےلیے ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ 114 لوگوں کو سینے اور سر پر گولیاں لگیں جن میں سے 14 شہید ہوگئے اور 100 شدید زخمی ہوئے۔ 4 سال گزر گئے، کسی کو سزا نہ ہوئی۔ ریاستی اداروں پر شریف فیملی کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ بظاہر ناممکن نظر آتا تھا کہ کوئی ان کی گرفت کرسکے گا کہ یکایک پاناما لیکس سامنے آئیں اور ان کے نتیجے میں دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد نواز شریف بطور وزیر اعظم نا اہل ہوئے، پھر پارٹی صدارت سے نااہل ہوئے، پھر تاحیات نا اہلی کا فیصلہ آیا، پھرایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں نیب کورٹ سے بیٹی و داماد سمیت 10 سال کی قید بامشقت کے مجرم ٹھہرے؛ جبکہ دو مزید ریفرنسز کا فیصلہ آنے والا ہے۔

2014 میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی وطن واپسی پر عوامی تحریک کے 25 ہزار کارکنان ملک بھر سے گرفتار کیے، کنٹینرز لگا کر پنجاب کی تمام اہم شاہراہوں کر بند کردیا گیا، طاہرالقادری کے طیارے کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے نہ دیا گیا اور اس کا رُخ جبراً لاہور ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔

آج 2018 ہے، نواز شریف بھی لندن سے وطن واپس آرہے ہیں لیکن قومی مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہونے کےلیے۔ پرواز بھی اتحاد ایئرویز کی ہے اور اسی طرح اسےلاہور کے بجائے اسلام آباد یا ملتان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔ 150 کے قریب ن لیگ کے سرکردہ کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے اور ایئرپورٹ کی طرف جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کردیئے گئے ہیں۔ کل اپنے مخالفین کےلیے ہر طرح کے غیر قانونی اور اوچھے ہتھکنڈے اپنانے والے ن لیگی قائدین آج اپنے خلاف قانونی کارروائی کی بھی مذمت کررہے ہیں۔ کل طاقت کے نشے میں مست آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے جارہے ہیں۔

ہر طرف ’’گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں، لندن میں ایون فیلڈ فلیٹس کے باہر پاکستانی جمع ہوکر چور چور کی صدائیں بلند کر رہے ہیں، شریف خاندان کی کرپشن سے بنی جائیدادوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے عالمی جریدہ انہیں ’’پینٹ ہاؤس کے قذاق‘‘ کا خطاب دے رہا ہے اور یہ سب تو ابھی آغاز ہے؛ ابھی احتساب کا عمل اور آگے جانا ہے۔ ابھی ماڈل ٹاؤن کیس کو بھی منطقی انجام تک پہنچنا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں ایک ماں کے چہرے پر ماری گئی گولیوں کا حساب ہونا ہے، ایک بہن کے سر پر ماری گئی گولیاں بھی پیچھا کریں گی، ایک بیٹی کی آہیں بھی پیچھا کررہی ہیں؛ 12 جوانوں کے چھلنی سینے اور ان کی ماؤں کی بد دعائیں بھی تعاقب میں ہیں۔

کل فرعونیت کے نشے میں چُور، اکڑی گردنوں والے آج جہان بھر میں رسوا بھی ہو رہے ہیں اور جیل بھی جارہے ہیں کیونکہ بقول صدر پاکستان جناب ممنون حسین صاحب ’’جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو پاناما جیسی چھپی چیزیں بھی سامنے آکر عذاب کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔‘‘

کاش ہمارے حکمرانوں کو مکافات عمل کے قانون کا علم ہو، وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے وقت یہ یقین رکھیں کہ

ہم نے اس مزرع ہستی میں کیے ہیں جو عمل
ایک دن کھینچیں گے سر ان کی مکافات کے بیج

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

نوید عالم

نوید عالم

بلاگر شعبہ تدریس سے وابستہ رہے ہیں جبکہ سماجی کارکن، موٹی ویشنل ٹرینراور کیریئر کاؤنسلر کے طور پر سرگرم ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔