یوں آتی ہے تبدیلی

سردار قریشی  ہفتہ 14 جولائ 2018

آنجہانی کامریڈ سوبھوگیان چندانی کو تاریخی واقعات پورے سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرنے پر ایسی مہارت حاصل تھی کہ سننے والے انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہو تے محسوس کرتے۔ مجھے اس کا تجربہ کئی سال پہلے اس وقت ہوا جب میں کسی کام سے لاڑکانہ گیا اور پاکستان چوک میں اپنے دوست خادم حسین ابڑو ایڈووکیٹ کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔

کامریڈ کو میرے آنے کا پتہ چلا تو وہ بھی وہیں تشریف لے آئے اور ہم رات دیر گئے تک ’’کچہری‘‘ کرتے اور ان کی وسیع العلمی سے مستفید ہوتے رہے۔ اپنے مخصوص انداز میں انقلاب روس کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے انھوں نے ٹراٹسکی کی ایک کتاب کے حوالے سے بتایا کہ جب انقلابیوں کا ایک دستہ پیش قدمی کرتے ہوئے ایک جگہ رکا اور ان کے کمانڈر نے کمر سے بندھی ہوئی اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر تقریر کرنی شروع کی تو ذرا سی دیر میں وہاں اچھا خاصا مجمع لگ گیا۔

ایک بچے کو بھیڑ کی وجہ سے آگے جانے کا راستہ نہیں مل رہا تھا، اسے ایک کامریڈ کے گھوڑے کے نیچے سے راستہ بنا کر نکلتے دیکھ کر کمانڈر کے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’یوں آتا ہے انقلاب‘‘۔ کامریڈ سوبھو نے کوئی 10 سال بعد، جب اپنی 72 ویں سالگرہ کے موقع پر اس کچہری کی روداد سندھی اخبار ’’عوامی آواز‘‘ کے 24 جون 1992ء کے شمارے میں شایع ہونے والے میرے کالم میں پڑھی تو بقول خادم حسین ابڑو انھوں نے میری یادداشت کی بیحد تعریف کی اور فرمایا حیرت ہے، اتنے عرصے بعد اسے یہ سب باتیں کیسے یاد رہ گئیں۔

آج اتنے عرصے بعد پھر مجھے یہ باتیں انگریزی اخبار ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ میں الیکشن  2018 ء کے حوالے سے حفیظ تنیو کی رپورٹ پڑھ کر یاد آئیں، جو لاڑکانہ کے ایک استاد کی طرف سے بار بار آزمائے ہوئے روایتی سیاستدانوں کو چیلنج کرنے سے متعلق ہے۔ استاد لیاقت میرانی، جو اپنی زندگی پڑھانے اور سماجی کاموں کے لیے وقف کر چکے ہیں، اب لاڑکانہ کے جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کرنے نکلے ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا آبائی ضلع ہے۔ استاد لیاقت میرانی نے، جو پیشے کے اعتبار سے ایک ٹیچر ہیں، پی ایس 13 ڈوکری کے لیے بطور آزاد امیدوار کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔

علاقے کے سیاسی وڈیروں کے برعکس، جو انتخابی مہم میں وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ لگژری گاڑیوں میں سفرکرتے ہیں، لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے میرانی کنوینسنگ کے لیے روایتی گدھا گاڑی اور گھوڑا گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’میں ایک ملاح کا بیٹا ہوں، میرے پاس وہ سب کچھ نہیں ہے جو روایتی سیاستدانوں کی پہچان ہے اور جنھیں میں نے بنیادی سہولتوں تک سے محروم غریب عوام کی حمایت سے چیلنج کیا ہے‘‘۔ ان کے بقول سول سوسائٹی کے ارکان، طلبا، نوجوان، کسان، لکھاری اور شاعر نہ صرف ان کی حمایت کرتے ہیں، بلکہ گھر گھر جاکر ان کی انتخابی مہم بھی چلا رہے ہیں۔

میرانی تعلیم کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ آج کل رانی پور ضلع خیرپور میں بحریہ فاؤنڈیشن کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ آرمی پبلک اسکول، دادو کے پرنسپل اور آرمی پبلک اسکول پنو عاقل ضلع گھوٹکی کے وائس پرنسپل رہ چکے ہیں۔ وہ ایجوکیشن ٹرینر بھی رہے ہیں اور بطور لیکچرر سندھ کے متعدد باوقار تعلیمی اداروں میں کام کرچکے ہیں۔ پڑھانے کے علاوہ وہ انسانی حقوق کے لیے بھی کام کرتے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں تاکہ سندھ کے عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ میرانی پینے کے پانی کی فراہمی، صحت، تعلیم، کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے عوامی آگاہی کی خاطر نکالی جانے والی ریلیوں میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔

علاقے کے دو بااثر خاندانوں کے امیدواروں کو ہرانا میرانی کے لیے آسان نہیں ہوگا جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے میدان میں اتارا ہے۔ پچھلے عام انتخابات میں اس حلقے سے پیپلز پارٹی جیتی تھی۔ اس بار بھی اس نے حزب اﷲ بگھیو کو ٹکٹ دیا ہے جب کہ شفقت انڑ پی ٹی آئی کے نامزد کردہ امیدوار ہیں۔ تاہم میرانی کو امید ہے کہ وہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو توڑنے اور سیاسی وڈیروں کی اجارہ داری ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جو نہیں چاہتے کہ متوسط طبقے کے لوگ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچیں۔ وہ میگا فون ہاتھ میں لیے حلقے کے ایک ایک گاؤں اور قصبے میں پہنچتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ انھیں ووٹ دیں۔

اپنے آبائی شہر ڈوکری میں ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے استاد میرانی نے کہا ’’ماضی میں یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے تمہیں لوٹنے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ یہ وڈیرے تمہارے مسائل حل نہیں کریں گے۔ انتخابات کے بعد تم ان کی شکل دیکھنے کو بھی ترسو گے۔ ان کے برعکس میں تمہارے بچوں کا استاد ہوں، انھیں پڑھاتا ہوں۔ میری زندگی کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے ہے، لہٰذا مجھے ووٹ دو‘‘۔ میرانی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے اپنے خاندان کے پہلے فرد ہیں۔

گاؤں میں ابتدائی اور کالج کی سطح تک تعلیم ڈوکری میں حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1994ء میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ڈگری لی۔ انھوں نے کہا ’’میں سوشل میڈیا کی فعالیت سے بہت متاثر ہوا ہوں، نوجوان اب بری طرز حکمرانی، بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ میرا حلقہ تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، میں مستقبل اور قوم کی بقا کے لیے لڑ رہا ہوں۔ میرے حلقے کے لگ بھگ 65 فیصد رائے دہندگان 18 سے 35 سال عمر کے نوجوان ہیں اور میں اپنی پوری توجہ انھی پر مرکوز کر رہا ہوں جو معاملات کی سمجھ رکھنے کے علاوہ تبدیلی لانے کے خواہشمند بھی ہیں‘‘۔

سیاسی وڈیروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے، جو پہلے اس حلقے سے انتخابات جیتتے رہے ہیں، میرانی نے کہا ’’جاگیردار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کی نظروں میں ووٹ کی کوئی عزت نہیں، اور وہ ووٹروں کو اپنے سے کمتر درجے کا انسان سمجھتے ہیں۔ میری لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ تعلیم کے لیے ووٹ دیں، صحت کے لیے ووٹ دیں، بہتر معیار زندگی کے لیے ووٹ دیں اور ووٹروں کی عزت کے لیے ووٹ دیں‘‘۔ میرانی ان بہت سے آزاد امیدواروں میں سے ایک ہیں جو سیاسی وڈیروں کی اجارہ داری اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو چیلنج کرتے ہوئے سندھ کے مختلف حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ ان میں سے اپنے ہم خیال امیدواروں سے ملنے اور ان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بھی خواہشمند ہیں۔

استاد لیاقت میرانی کے خیال میں سندھ کے عوام پی پی پی اور وڈیروں کا متبادل چاہتے ہیں۔ ’’میں میدان میں اتر چکا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ میری بھرپور حمایت کریں گے‘‘۔ انھوں نے ہم خیال سیاستدانوں، آزاد گروپوں اور امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ اختلافات بھلا کر ان عناصر کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں، جنھوں نے ہمیشہ سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔

صحافی حفیظ تنیو نے اپنی رپورٹ میں استاد میرانی کی وہ تصویر بھی شامل کی ہے جس میں انھیں میگا فون ہاتھ میں لیے اپنے دو نوجوان حامیوں کے ساتھ گدھا گاڑی پر سوار ہوکر انتخابی مہم چلاتے دکھایا گیا ہے۔ مجھے یہ تصویر دیکھ کر کامریڈ سوبھوگیان چندانی کی زبانی سنا ہوا انقلاب روس کا وہ واقعہ یاد آگیا جب ایک بچے کو راستہ بنانے کے لیے گھوڑے کے نیچے سے نکلتا دیکھ کر انقلابیوں کے کمانڈر نے کہا تھا کہ یوں آتا ہے انقلاب۔ میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا ’’یوں آتی ہے تبدیلی‘‘۔

میری تمام تر ہمدردیاں استاد لیاقت میرانی کے ساتھ ہیں، میں تبدیلی اور دیرپا جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد کی دل سے قدر اور بھرپور حمایت کرتا ہوں۔ پی ایس13 ڈوکری کے ووٹروں سے میری التماس ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے پہلے استاد میرانی کی وہ تصویر ایک نظر ضرور دیکھ لیں تاکہ جان سکیں کہ تبدیلی کیسے آتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔