ہمیں اپنے دل بدلنے ہوں گے

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 14 جولائ 2018

سب سے پہلے تو پاکستان میں بسنے والے بیس کروڑ انسانوں کو اپنے دل بدلنے ہوں گے، اس لیے کہ ان کے دل اب دل نہیں رہے بلکہ قبر بن چکے ہیں۔ ایسی قبر جس میں اتنی خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں، امیدیں دفن ہوچکی ہیں کہ اب اس میں اور دفن ہونے کی کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ اور نہ ہی سوچنے اور سمجھنے کی کوئی جگہ اب دل میں باقی ہے کہ جس سے وہ سوچ اور سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کھیل کیا کھیلا جا رہا ہے۔ اس لیے تو کہہ رہے ہیں کہ اب سب سے پہلے دل کی تبدیلی ضروری ہے۔

یہ اس لیے ضروری ہے کہ انھیں سمجھ میں آ سکے کہ ان کے ساتھ کھیل کیا کھیلا جا رہا ہے۔ اس کھیل کو پہلے پہل برازیل کے تعلیم دان پاؤلو فریرے نے سمجھا تھا۔ پاؤلو فریرے نے براہ راست غربت کا تجربہ کیا، ان حالات کا اس کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا، کیونکہ اس نے بھوک کی شدت سے اٹھنے والی درد کی ٹیسوں کا براہ راست ادارک کیا۔ ان ہی مصائب کی وجہ سے وہ پڑھائی میں بہت پیچھے رہ گیا۔

اس بحران نے اسے گیارہ سال کی عمر میں ہی یہ عہد کرنے کی طرف رہنمائی کی کہ وہ بھوک کے خلاف جدوجہد میں اپنی زندگی بسر کرے گا تاکہ دوسرے بچوں کو اس جسمانی و روحانی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کا وہ خود تجربہ کر رہا تھا۔ غریبوں کے ساتھ ابتدائی عمر گزارنے سے اس کو محروم لوگوں کے ’’خاموشی کے کلچر‘‘ کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔ وہ کہتا ہے کہ غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے لوگوں کا موازنہ انتہائی ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں سے اگر کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے سماج میں غالب اور قابض اشرافیہ عام لوگوں کی آواز نہیں سنتی اور وہ اسکولوں اور دوسرے اداروں کے ذریعے اپنے الفاظ مقرر کرتے ہیں، جن کو عام لوگوں اور مظلوموں نے بولنا ہوتا ہے، جو موثر طور پر لوگوں کو خاموش کرانے کا ایک طریقہ ہے۔

یہ ٹھونسی ہوئی خاموشی جوابی ردعمل کی غیر موجودگی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ ایسے جوابی عمل کا باعث بنتی ہے جو تنقیدی معیار سے محروم ہو۔ مظلوم لوگ اپنی ہی منفی شبیہہ ذہنوں میں بٹھا لیتے ہیں، یہ ایسی شبیہہ ہوتی ہے جو ان کے بارے میں اشرافیہ مقرر کرتی ہے، ایسے حالات میں اپنی زندگی کا مختار کل بننا ناممکن ہو جاتا ہے۔

پاؤلو فریرے کہتا ہے کہ جب ایک انسان اپنی ذات سے نئی آگہی کا سامنا کرتا ہے، عظمت کا احساس پاتا ہے اور نئی امید سے جنبش پاتا ہے تو وہ بول اٹھتا ہے، اب میں محسوس کرتا ہوں کہ میں انسان ہوں، ایک پڑھا لکھا انسان۔ پہلے ہم اندھے تھے اب ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں، اس سے پہلے ہمارے لیے الفاظ کچھ بھی نہیں تھے، اب وہ ہم سے بولتے ہیں اور ہم ان کو بلواتے ہیں، اب ہم سماج پر مردہ بوجھ نہیں ہوں گے۔

وہ طاقت، اقتدار، اختیار اور روپوں پیسوں کے خواہش مندوں، بھوکوں اور لالچیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کا مقصد اپنے گرد ہر چیز کو تبدیل کر کے انھیں شے میں تبدیل کر دینا ہوتا ہے۔ زمین، جائیداد، پیداوار، لوگوں کی تخلیق، بذات خود لوگ، وقت، ہر شے قوت خرید کے ذریعے شے بنانے کا نکتہ نظر اپنایا جاتا ہے، ان کا سب سے بڑا منشا اور مقصد زیادہ سے زیادہ چیزیں اکھٹی کرنا ہوتا ہے، وہ انسان کو غیر انسانی بناتے چلے جاتے ہیں۔

جب ہم اپنے آپ پر نظریں دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم سب اب انسان نہیں بلکہ شے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ آج پاکستان میں بیس کروڑ انسان، اب انسان نہیں بلکہ شے ہیں اور ان بیس کروڑ شے کو اپنے پاس جمع کرنے کا چند بھوکوں، لالچیوں کا آپس میں مقابلہ لگا ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ چند ازل سے بھوکے اور لالچی ملک کی باقی دیگر شے کو بھی ہتھیا لینے کے لیے آپس میں دست و گریبان ہیں۔

ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ بیس کروڑ انسانوں کو غیر انسانی بناتے بناتے، بنانے والے خود بھی غیر انسانی بن چکے ہیں۔ اب ان کے نزدیک کسی شے کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں رہی ہے، وہ اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ وہ پیٹ سے سوچنے والی غیر انسانی مخلوق بن چکے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا سانس اپنی جمع کردہ چیزوں کے بوجھ تلے دبے جا رہا ہے۔ اب آپ کو پورے ملک میں طاری خاموشی کی وجہ بھی سمجھ میں آ چکی ہو گی۔ ظاہر ہے انسان بولتے ہیں، سوچتے ہیں، شور مچاتے ہیں، جب کہ شے نہ بولتی ہیں، نہ سوچتی ہیں اور نہ ہی شور مچاتی ہیں، بس چپ چاپ ایک جگہ پڑی رہتی ہیں۔

اگر طاقت، اختیار، اقتدار اور روپوں پیسوں کے خواہش مندوں، بھوکوں اور لالچیوں کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ سب کے سب ذہنی مریض ہیں تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ ایک صحت مند، ہوش مند اور سمجھ دار انسان کبھی بھی انسانوں کو شے میں تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ایسی گھناؤنی سوچ صرف ذہنی مریض ہی سوچ سکتا ہے۔ اب اور وقت ضایع کیے بغیر آئیں ہم اپنے دل تبدیل کر دیں۔ اپنے دل تبدیل کر کے پھر ہمیں پاکستان کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اسے غیر انسانی سے انسانی بنانا ہو گا۔

ایک ایسا ملک جہاں شے کو دیوتا کا درجہ حاصل نہ ہو بلکہ انسان کو دیوتا کا درجہ حاصل ہو، جہاں انسانیت ہو، جہاں انسان کی عزت و احترام ہو۔ ایک اور چیز جو ہمیں کرنی ہے، ہمیں طاقت، اختیار، اقتدار اور روپوں پیسوں کے بھوکوں، لالچیوں، خواہش مندوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنا ہو گی، تاکہ انھیں آیندہ کسی اور انسان کو شے میں تبدیل کرنے کی ہمت اور جرأت نہ ہو۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔