دل کے امراض کی دوا Valsartan واپس لینے کی ہدایت

طفیل احمد  ہفتہ 14 جولائ 2018
دوا میں شامل کیمیکل NDMA سے بننے والا زہریلا مادہ زندگی کیلیے خطرناک تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

دوا میں شامل کیمیکل NDMA سے بننے والا زہریلا مادہ زندگی کیلیے خطرناک تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کراچی: ملک بھر سے ہارٹ فیلر، ہائی بلڈ پریشر اورفالج سے بچاؤ میں استعمال کی جانے والی Valsartan دوا کوفوری واپس لینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

یہ دوا دل کے مریضوں کوساری زندگی استعمال کرنا پڑتی ہے، یہ دوا پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے مریض استعمال کرتے ہیں تاہم اس دوا میں چائنا سے درآمد کیاجانے والا ایک کیمیکل NDMA کی تیاری میں تبدیلی کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے دوا میں مطلوبہ مقدار سے زائد زہریلے مادے بننا شروع ہوگئے تھے جس پر یورپی ڈرگ ایجنیسی نے دنیا بھر سے مذکورہ دوا کو ہنگامی بنیاد پر مارکیٹ سے ری کال (واپس) لینے کی ہدایت کردی جس کے بعد پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرکے دستخط سے جاری مکتوب جاری کیاگیا جس میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں مذکورہ دوا میں استعمال کیے جانے والے NDMA کیمیکل استعمال نہ کیاجائے اورپاکستان میں مذکورہ دوا تیارکی جانے والی کمپنیوں کودواکی تیاری فوری روکنے اور ڈرگ انسپکٹروں سے مارکیٹ میں دستیاب دوا کی واپسی کو فوری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کردیں۔

اس صورتحال پر ایکسپریس نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹرعبید علی سے استفسار کیا جس پر ڈاکٹر عبید علی نے بتایا کہ مذکورہ دوا میں شامل ایک NDMA کیمیکل شامل ہے جو چائنا سے منگوایا جاتا ہے اس کیمیکل کی تیاری میں طریقہ کار تبدیل کرنے سے دوا میں مطلوبہ مقدار سے زائد زہریلے مادے بننا شروع ہوگئے جس سے انسانی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوگیا تھا اس صورتحال کے پیش نظر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے گزشتہ روزمذکورہ دوا کی واپسی کو یقینی بنانے کیلیے ملک بھرکے ڈرگ انسپکٹروں کو ہدایت جبکہ پاکستان میں مذکورہ دوا بنانے والی کمپنیوں کو بھی دواکی تیاری سے روک دیاگیا ہے۔

ڈاکٹر عبید علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ 8 جولائی کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے مذکورہ کیمیکل سے تیار کی جانے والی دوا کی روک تھام کے لیے مکتوب لکھا تھا، انھوں نے بتایا کہ  NDMA زہریلا کیمیکل 1978میں دریافت کیاگیا تھا، یہ کیمیکل عام طورپر تجربہ گاہوں میں جانوروں میںکینسر پیدا کرنے کیلیے استعمال کیاجاتا ہے جس کے بعد جانوروںکو اینٹی کینسر دوا دی جاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جن پاکستانی دوا ساز کمپنیوں نے مذکورہ کیمیکل چائنا سے منگوایا تھا ان تمام کمپنیوں کودوا کی تیاری سے روک دیاگیا ہے۔

قومی ادارہ امراض قلب کے کارڈیک ماہر ڈاکٹر فوادکا کہنا تھا کہ مذکورہ دوا دل کے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن دوا میں چائنا سے منگوائے جانے والے کیمیکل میں تبدیلی کی وجہ سے دوا کا استعمال نہ کرنے ہدایت کی ہے، واضح رہے کہ پاکستان میں عالمی معیارکی کوئی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں جہاں بیرون ممالک سے درآمد کیے جانے والے کیمیکلز کی تصدیق کی جا سکے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کیمیکل میں زہریلے اثرات زیادہ ہونے کی نشاندہی یورپی ممالک کے ماہرین نے کی جس پر حکومت پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی ایکشن لے لیا ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔