انتخابات پر دہشت کی یلغار، عوام سے اُمید چھیننے کی کوشش ناکام ہوگی

رضاء الرحمان  ہفتہ 14 جولائ 2018
جوش اور خوشی سے دمکتے چہرے خون میں نہلادیے گئے، سانحۂ مستونگ پوری قوم کو سوگوار کرگیا۔ فوٹو: فائل

جوش اور خوشی سے دمکتے چہرے خون میں نہلادیے گئے، سانحۂ مستونگ پوری قوم کو سوگوار کرگیا۔ فوٹو: فائل

13جولائی 2018ء بلوچستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن تصور کیا جائے گا۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں شام4 بجے کے قریب نامعلوم شخص نے اُس وقت جسم پر بندھے دھماکا خیز مواد سے اپنے آپ کو اُڑادیا جب بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 35 مستونگ سے نام زد امیدوار اور ممتاز سیاسی و قبائلی شخصیت نوابزادہ سراج رئیسانی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرنے والے تھے۔

اس کارنر میٹنگ کا اہتمام سڑک کے کنارے کیا گیا تھا اور چاروں اطراف قناعتیں لگائی گئی تھیں۔ یہ جگہ لوگوں سے کچھاکھچ بھری ہوئی تھی خودکش حملہ آور نے جونہی اپنے آپ کو اُڑایا تو ہر طرف چیخ و پکار ہونے لگی اور افراتفری پھیل گئی۔ لمحہ بھر میں یہ کارنر میٹنگ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کرنے لگی، جوش اور خوشی سے دمکتے کتنے ہی چہرے خون میں نہاگئے، کتنی ہی آنکھوں میں جھلمل کرتی مسرت کی چمک ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں کھوگئی۔

جس جگہ گہماگہمی تھی اور کارکن اور جلسے میں شریک زندگی سے بھرے لوگ اپنے جذبات کا بھرپور انداز میں اظہار کر رہے تھے اب وہاں ہر طرف خون میں نہائی لاشیں تھیں اور زخمی کراہ رہے تھے۔ اس خودکش حملے میں نوابزادہ سراج خان رئیسانی اُن کے باڈی گارڈز سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے اور موقع پر موجود درجنوں افراد شہید ہوگئے۔ نوابزادہ سراج خان رئیسانی کو فوری طور پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس افسوس ناک سانحے میں نوابزادہ سراج خان رئیسانی سمیت آخری اطلاعات آنے تک 128 سے زائد افراد شہید اور120کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے، جب کہ کئی شدید زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

بعض عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اکثر لاشیں شناخت کے قابل بھی نہیں رہیں۔ کارنر میٹنگ کے کیمپ میں موجود اکثر افراد کے چیتھڑے اُڑ گئے دھماکے کی آواز دور تک سنائی دی۔ دھماکے کے بعد کیمپ میں ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں، خون ہی خون دکھائی دے رہا تھا اور بعض زخمی افراد مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیوریٹی فورسز کے اہل کار اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال پہنچایا گیا اور ضروری طبی امداد فراہم کرکے شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ سیکیوریٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

اس افسوس ناک سانحے پر تمام سیاسی و قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر بیرونی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ عوام ان عناصر کے ان مذموم مقاصد اور عزائم کو ناکام بنانے میں سیاسی قوتوں کا ساتھ دیں۔ ان جماعتوں نے نواب محمد اسلم رئیسانی، حاجی لشکری رئیسانی اور ان کے دیگر بھائیوں سے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت تمام شہداء کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 25جولائی کے عام انتخابات کے حوالے سے پہلے بلوچستان کی بعض سیاسی و قبائلی شخصیات کو دھمکیاں دی گئی تھیں، جن میں نوابزادہ سراج رئیسانی بھی شامل تھے۔ سیکیوریٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملے میں16سے 20کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ اس الم ناک سانحے کے بعد الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 35مستونگ میں انتخابات ملتوی کردیے ہیں۔

اس سانحے نے پوری کو غم زدہ کردیا ہے اور ملک بھر کی انتخابی فضا سوگوار ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں نے اس سفاکانہ کارروائی کے ذریعے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سیاسی کارکنوں اور الیکشن سے اپنے مسائل کے حل کی آس لگائے عوام سے امید چھیننے کی مکروہ کوشش کی ہے، جو ناکام ہوگی۔

امن کا داعی اور دہشت گردی سے نفرت کرنے والا

نوابزادہ سراج خان رئیسانی شہید کی زندگی پر ایک نظر

نوابزادہ سراج خان رئیسانی 4 اپریل 1963کو مہرگڑھ ضلع کچھی میں نواب غوث بخش رئیسانی کے گھر پیدا ہوئے۔ نواب غوث بخش رئیسانی شہید بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بڑے بھائی نواب محمد اسلم رئیسانی بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے علاوہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے، جب کہ ان کے دوسرے بڑے بھائی حاجی لشکری رئیسانی بھی سیاست میں انتہائی سرگرم ہیں۔ وہ بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ وہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔31جولائی 2011ء کو نوابزادہ سراج رئیسانی شہید مستونگ میں ہی ایک فٹبال میچ کے مہمان خصوصی تھے تب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں ان کے بڑے بیٹے میر حقمل خان رئیسانی شہید ہوگئے تھے۔

نوابزادہ سراج رئیسانی نے اپنے شہید والد کی تشکیل کردہ تنظیم متحدہ محاذ بلوچستان کو فعال کیا اور متحدہ محاذ بلوچستان کے پلیٹ فارم سے سیاست کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔2018ء میں نئی تشکیل پانے والی بلوچستان عوامی پارٹی میں متحدہ محاذ بلوچستان کو ضم کردیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 35 مستونگ سے نوابزادہ سراج رئیسانی کو ٹکٹ جاری کیا تھا اور وہ انتخابی مہم چلارہے تھے۔

نوابزادہ سراج رئیسانی شہید اردو، براہوی، بلوچی، پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتو، فارسی، انگلش اور تھائی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہیں اسلام سے بہت لگاؤ تھا وہ ہر روز صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ وہ امن کے داعی تھے اور دہشت گردی سے نفرت کرتے تھے۔ قبائلی فیصلے اور غریبوں کی مدد اُن کا مشن تھا۔ ان کے بیٹے میر حقمل خان رئیسانی کی شہادت بھی جولائی میں ہوئی اور اُن کی شہادت بھی جولائی کے مہینے میں ہوئی۔ نوابزادہ سراج رئیسانی بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 35مستونگ میں اپنے بڑے بھائی نواب اسلم رئیسانی کے مقابل انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔