کے پی کے اور بلوچستان میں انتخابات پر منڈلاتے خونیں سائے

ببرک کارمل جمالی  ہفتہ 14 جولائ 2018
ایک طرف کے پی کے میں طالبان نے دھمکی دے رکھی ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ایک طرف کے پی کے میں طالبان نے دھمکی دے رکھی ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

بلوچستان کی سیاست میں کب کیا ہوجائے گا؟ یہ کوئی کچھ نہیں جانتا۔ بلوچستان مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ بظاہر تو سیاست اور اقتدار سب معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے مگر اچانک چند گھنٹوں میں سیاسی بحران پیدا ہوجاتا ہے، چند گھنٹوں میں کسی کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے، تو کوئی ہیرو سے زیرو اور کوئی زیرو سے ہیرو بن جاتا ہے۔

صوبہ بلوچستان میں گزشتہ تین دنوں میں انتخابی جلسوں پر تیسرا حملہ ہے۔ کل رات خضدار میں بی اے پی کے دفتر کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کراچی سے متصل حب کے علاقے میں تحریکِ انصاف کی کارنر میٹنگ پر گرینیڈ حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی تھی۔ ان تنظیموں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔

عام انتخابات سے قبل ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی اتحادی سیاست کا آغاز ہوگیا ہے۔ بلوچوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور انہیں ان کے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا گیا جس کے ذمہ دار خود بلوچستان کے سیاستدان ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن وفاقی جماعتوں نے وفاق کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا اور جن پر تمام صوبوں کہ ذمہ داریاں تھیں، وہ خود مقامی پارٹیاں بن گئیں۔

بلوچستان کے ضلعے مستونگ میں ایک انتخابی ریلی پر ہونے والے بم حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت اب تک کم از کم 130 افراد جاں بحق اور 120 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس حملے میں حال ہی میں بننے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کو نشانہ بنایا گیا۔

سراج رئیسانی سابق سینیٹر لشکری رئیسانی کے بھائی ہیں۔ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا جہاں بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔ اسی حلقے میں اسلم رئیسانی اپنے بھائی کے مخالف آزاد حیثیت میں لڑ رہے ہیں۔ سراج رئیسانی کو سابق وزیراعلی اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا جاں بحق ہوگیا تھا۔

اس وقت یہ حملے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہوئے تھے۔ تاہم سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

ہارون بلور پشاور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 78 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تین سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ان کی قربانیوں کی ذرا بھی قدر نہیں کی۔ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی میٹنگ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی اور اے این پی نے اس واقعے پر تین دن تک سوگ منانے اور سیاسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی اور ایک بیان میں عوام کو اے این پی کے دفاتر اور ان کے جلسوں اور کارنر میٹنگ سے دور نہ رہنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

پاکستان کے نگران وزیراعظم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہارون بلور کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ہارون بلور کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا: ’’عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ پر دہشت گرد حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘‘

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیا: ’’شہید بشیر بلور کے بیٹے کی شہادت پر سب وطن پرست غمگین ہیں۔ جمہوریت پسندوں پر دہشت گرد حملے بہت بڑی سازش ہے اور دہشت گرد کس کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں، یہ ظاہر ہورہا ہے۔‘‘

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہارون بلور اور دیگر شہادتوں پر بلور خاندان اور اے این پی سے اظہار افسوس کیا ہے۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، نواب سراج رئیسانی شہید نے مشکل وقت میں پاکستان کا پرچم سرزمین بلوچستان میں لہرایا اس کی شہادت بلوچستان کا نقصان، پاکستان کا نقصان ہے۔

الیکشن 2018 کےلیے الٹی گنتی تو یکم جولائی سے شروع ہوچکی ہے مگر امیدواروں کے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر تابڑتوڑ سیاسی حملے برسوں سے جاری ہیں۔ بلوچستان میں ہمیشہ مخلوط حکومت ہی بنتی ہے۔ اس بار بھی مخلوط حکومت بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر چار ہزار چار سو ستانوے (4,497) پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے ایک ہزار سات سو اڑسٹھ (1,768) حساس ترین، ایک ہزار چار سو پچھتر (1,475) پولنگ اسٹیشن حساس، جبکہ ایک ہزار دو سو چوّن (1,254) پولنگ اسٹیشنوں کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں الیکشن کے قریب آتے ہوئے سیاسی گٹھ جوڑ میں بھی موسم کی طرح گرما گرمی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ کل ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد، اس مرتبہ بلوچستان میں ووٹنگ کی شرح (ٹرن آؤٹ ریٹ) بہت کم ہوگی۔ ایک طرف کے پی کے میں طالبان نے دھمکی دے رکھی ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے۔ عوام اس وقت پریشان حال ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ببرک کارمل جمالی

ببرک کارمل جمالی

بلاگر بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بلوچستان کے مسائل پر دس سال سے باقاعدہ لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات میں آپ کے کالم اور بلاگ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔